صحافیوں کو کشمیر میں رسائی نہیں دی جارہی بھارت کے اندر بھی اقلیتی برادریاں محفوظ نہیں:پاکستان

اسلام آباد/ ترجمان دفترخارجہ ڈاکٹر فیصل کا کہنا ہے کہ بھات ریاستی جبر چھپانے کے لیے صحافیوں کو کشمیر میں نہیں جانے دے رہا۔ اسلام آباد میں ہفتہ وار بریفنگ دیتے ہوئے ترجمان دفترخارجہ ڈاکٹرفیصل کا کہنا تھا کہ بھارت نے کشمیر میں مظالم کا سلسلہ تیز کردیا ہے اور صرف ایک ماہ کے دوران بھارتی جارحیت کی وجہ سے 30شہری شہید ہوچکے ہیں، تین سو سے زائد زخمی اور اس دوران 169 کو حراست میں لیا گیا جب کہ46 مکانات کو مسمار کردیا گیا، اب بھارت اپنا ریاستی جبر چھپانے کے لیے صحافیوں کو کشمیر میں نہیں جانے دے رہا۔ترجمان نے کہا کہ بھارتی مظالم صرف کشمیر تک محدود نہیں بلکہ خود بھارت کے اندر اقلیتی برادریاں محفوظ نہیں، بالخصوص مسلم اقلیت کے ساتھ ناروا سلوک جاری ہے جب کہ بھارتی فوج کی جانب سے ایل او سی اور ورکنگ باؤنڈری پر بھی ہٹ دھرمی جاری ہے، رواں برس میں اب تک بھارت نے 1400 سے زائد بار سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی کی، بھارتی فائرنگ سے اب تک30 سے زائد بے گناہ شہری شہید جب کہ 150 افراد زخمی ہو چکے ہیں۔ڈاکٹر فیصل نے کہا کہ دوسری جانب پاکستان پرامن ہمسائیگی پر یقین رکھتا ہے، پاکستان نے موناباؤ بارڈر خصوصی طور پر کھولا اور بھارتی خاتون کی نعش لے جانے کی اجازت دی، بھارتی ایم ایل اے نے بذریعہ خط سیکرٹری خارجہ کو لکھ کر شکریہ ادا کیا۔
پاکستان افغانستان میں امن کا خواہاں ہے ا ور افغان مسئلے کے حل کے لیے تمام اقدامات کرے گا۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں