سٹیٹ سبجیکٹ قانون کو منسوخ کرنے کا اختیار کسی عدالت کو نہیں: میرواعظ

سرینگر//﴿آفتاب ویب ڈیسک ﴾ حریت کانفرنس ﴿ع﴾ کے چیئرمین میرواعظ مولوی عمر فاروق نے کہا ہے کہ کسی عدالت کویہ اختیارحاصل نہیں ہے کہ جموں وکشمیر کے 1927 کے پشتینی سٹیٹ سبجیکٹ قانون ﴿دفعہ 35 اے ﴾ میں کوئی تبدیلی لاسکے کونکہ اقوام متحدہ کی کشمیر سے متعلق قراردادوں میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ صرف جموں کشمیر کے باشندے بحیثیت ایک قوم بذریعہ حق خود ارادیت اپنے مستقبل کاتعین کرسکتے ہیں اور جموں کشمیر کے باشندوں نے تاہنوز اس حق کا استعمال نہیں کیا ہے۔ میرواعظ نے ان باتوں کا اظہار سری نگر کی تاریخی و مرکزی جامع مسجد میں نماز جمعہ سے قبل ایک بھاری اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا ’ حق خود ارادیت کے استعمال کا یہ وعدہ خود ہندوستان کے وزیراعظم نے ریاست کے باشندوں کے ساتھ دنیا کے ساتھ کیا تھا‘۔ میرواعظ نے سوالیہ انداز میں کہا ’کیا ایسے میں اقوام متحدہ کی قرار دادوں اور حکومت ہندوستان کی طرف سے کئے گئے وعدے جس کو اس کی عمل درآمد تک ایک آئینی تحفظ کی شکل دی گئی کوئی عدالت کیسے تبدیل کرسکتی ہے؟‘۔ انہوں نے کہا کہ جموں کشمیر عالمی سطح پر تسلیم شدہ تنازعہ ہے اور یہاں کے عوام کسی بھی صورت میں اور کسی بھی قیمت پر اس تنازعہ کی ہیئت کو اس کے حتمی حل تک تبدیل یا مسخ کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ انہوں نے کہا ’ سٹیٹ سبجیکٹ قانون کے ساتھ کھلواڑ ریاست کے آبادی کے تناسب کو تبدیل کر کے یہاں غیر ریاستی باشندوں کو بسا کرریاست کے پشتینی باشندوں کواقلیت میں تبدیل کرکے بنیادی مسئلے کی ہیت کو بگاڑنے کی نیت سے کیا جارہا ہے جیسا کہ اسرائیل نے فلسطین میں کیاہے‘۔ میرواعظ عمر فاروق نے کہا کہ5 اور 6 اگست کو عوام کی طرف سے کی گئی مکمل اور مثالی ہڑتال سے یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ یہاں کے عوام ایسی کسی بھی کوشش کو برداشت نہیں کرسکتے ۔ انہوں نے کہا کہ قیادت ترجیحی بنیادوں پر اس مسئلے پر صلاح مشورہ کر رہی ہے اور سماج کے تمام طبقوں کو ساتھ لیکر اس جارحیت کے خلاف ایک ہمہ گیر عوامی احتجاج شروع کیا جائے گا۔ میرواعظ نے کہا کہ جہاں ہندوستان کی مختلف سرکاروں نے مشروط الحاق کے شرائط کو لگاتار پامال کیا جن پر ریاست میں رائے شماری تک عمل درآمد کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا وہیں یہ المیہ ہے کہ اُن ہند نواز رقائدین اور جماعتوں جنہوں نے حکومت ہندوستان کے ساتھ یہ شرائط طے کی تھیںاِن کا تحفظ کرنے یا حکومت ہندوستان کو ان پر عمل کرانے میں قطعی نام رہیں بلکہ اس کے برعکس یہ جماعتیں اور قائدین ذاتی اقتدار کے لئے ان شرائط کی پامالی میں حکومت ہندوستان کے آلہ کار بن گئے اور آج صورتحال یہ ہے کہ ہمارے وجود کو ہی زبردست خطرہ لاحق ہوگیا۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں