7 ماہ میں 130 نوجوانوں نے ہتھیار اٹھائے

سرینگر//﴿آفتاب ویب ڈیسک ﴾ جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ میں مبینہ طور پر مزید دو نوجوانوں نے اپنے گھروں سے فرار ہوکر جنگجوؤں کی صفوں میں شمولیت اختیار کرلی ہے۔ سوشل میڈیا پر نمودار ہونے والی تصویروں کے مطابق محمد امین میر ولد غلام محمد میر ساکنہ درنگ بل پانپور ضلع پلوامہ اور عادل منظور وانی ولد منظور احمد وانی ساکنہ پدگام پورہ اونتی پورہ ضلع پلوامہ نامی نوجوانوں نے جنگجو تنظیم لشکر طیبہ میں شمولیت اختیار کی ہے۔ اس دوران انگریزی روزنامہ دی ٹریبون میں چھنے والی ایک خبر کے مطابق وادی میں گذشتہ سات ماہ کے دوران کم از کم 128 نوجوانوں نے مختلف جنگجو تنظیموں میں شمولیت اختیار کی ہے۔ گذشتہ 9 برسوں کے دوران وادی میں ہتھیار اٹھانے والے نوجوانوں کی یہ اب تک کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔ سوشل میڈیا بالخصوص فیس بک پر نمودار ہونے والی تصاویر میں محمد امین اور عادل منظور کو ہاتھوں میں اے کے 47 تھامے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ ان دونوں نوجوانوں نے مبینہ طور پر گذشتہ 9 دنوں کے دوران جنگجوؤں کی صفوں میں شمولیت اختیار کی ہے۔ لشکر طیبہ نے محمد امین کو کوڈ نام ’ابو اسماعیل‘ دیا ہے۔ 28 سالہ محمد امین 29 جولائی کو اپنے گھر سے فرار ہوکر لاپتہ ہوگیا تھا۔ اس کے گھر والوں نے اسے اپیل کی تھی کہ وہ اپنے گھر واپس آئے۔ دریں اثنا انگریزی روزنامہ دی ٹریبون میں چھپنے والی ایک خبر کے مطابق وادی میں رواں برس کے پہلے سات ماہ کے دوران کم از کم 128 مقامی نوجوانوں نے ہتھیار اٹھائے ہیں۔ یہ وادی میں سنہ 2010 کے بعد سے اب تک جنگجوؤں کی صفوں میں شامل ہونے والے نوجوانوں کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں