شہر کیوں ڈوب جاتا ہے؟

کئی دنوں کی ریکارڈ توڑ گرمی کے بعد7اگست بروز منگل صبح سویرے موسلادھار بارشیں ہوئیں دو گھنٹے تک لگاتا ر بارشوں سے زندگی کا پورا نظام درہم برہم ہوکر رہ گیا کیونکہ شہر کی اکثر و بیشتر سڑکیں زیر آب آگیں۔ جس سے عبور مرور نہ صرف مشکل بن گیا بلکہ بارش کا پانی مکانوں اوردکانوں میں گھس گیا جس سے بہت سی عمارتوں میں دراڑیں پڑگئیں سینکڑوں گاڑیاں پانی میں پھنس گئیں غرض پورا نظام زندگی درہم برہم ہوکر رہ گیا۔ شہر کے بیچوں بیچ نالہ مار بہتی تھی جس سے ایک تو شہر کی خوبصورتی بڑھ گئی تھی اور دوسری اہم بات یہ ہے کہ یہ قدرتی ڈرینیج بھی تھی۔ بڑے بزرگوں کا کہنا ہے کہ جب نالہ مار میں کشتیاں رواں دواں ہوتی تھیں تو ان میں سیاح شہر کی سیر کرتے تھے جبکہ ان ہی کشتیوں کے ذریعے پورے شہر کو سبزیاں فراہم کی جاتی تھیں اور مختلف مقامات پر سبزی منڈیاں قایم کی جاتی تھیں جہاں لوگ سبزیاں خریدتے تھے اور اس کے علاوہ جب بارشیں ہوتی تھیں تو کبھی بھی بارشوں کا پانی سڑکوں پر جمع نہیں ہوتا تھا۔ اور نہ ہی لوگوں کو کسی قسم کی تکلیف پہنچتی تھی لیکن 70کی دہائی کے اوائل میں اس وقت کے حکمرانوں نے نہ جانے کیوں نالہ مار کا وجود ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا جس کا خمیازہ آج ہم بھگت رہے ہیں وہ فیصلہ کس قدر غلط تھا اس کا اندازہ کشمیری عوام کو اس وقت ہورہا ہے۔ یہ محاورہ بڑا مشہور ہے کہ لمحوں نے خطا کی اور صدیوں نے سزا پائی اسی کے مصداق آج ہم کو نالہ مار کی اہمیت کا اندازہ اس وقت ہورہا ہے جب پانی ہمارے گھروں کے اندر گھستا ہے۔ ہماری دکانوں میں موجود مال کو تباہ کرتا ہے اور ہمارے مکانوں کی بنیادوں کو کھوکھلا کررہا ہے۔ بہرحال ٹاون پلانرز نے سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا ہوگا۔انجینئروںنے بھی اس بات کا مشاہدہ کیا ہوگا کہ کس طرح بارشوں کا پانی سڑکوں پر بہہ رہا ہے۔ شہر میں بے ڈھنگ طریقے سے عمارتیں بنائی گئیں۔ دکانیں تعمیر کی گئیں وغیرہ لیکن اس دوران اس بات کا کوئی خیال نہیں رکھا گیا کہ ڈرینیج سسٹم چست درست ہے یا نہیں۔ اب یہ سوچنا کہ نالہ مار پھر سے بنائی جائے گی غلط ہے۔ لیکن اب یہ سب کچھ ہمارے انجینئروںکی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسا ڈرینیج سسٹم بنائیں جس سے بارشوں کا پانی سڑکوں پر بہنے نہ پائے۔ ہم یہ نہیں کہتے ہیں کہ یہ سب راتوں رات ہونا چاہئے لیکن اس کیلئے قدم اٹھانا چاہئے اور متعلقہ محکمے کو ابھی سے اس بارے میں کاروائی کا آغاز کرنا چاہئے تاکہ شہر محفوظ رہ سکے ورنہ کسی بھی دن کوئی جان لیوا حادثہ رونما ہوسکتا ہے۔ خاص طور پر عالی مسجد اور عید گاہ کا بیشتر حصہ پانی میں پوری طرح ڈوب جاتا ہے اس کی کیا وجوہات ہیں اس کا اندازہ ماہرین بخوبی لگاسکتے ہیں۔ باباڈیمب میں بھی پانی سڑکوں کے اوپر بہنے لگا جبکہ بمنہ میں بھی ڈرینوں کی صفائی نہ ہونے کی بنا پر وہاں بھی کئی بستیاں پانی میں ڈوب گئیں حاص طور پر حاجی آباد بمنہ، قمرواری، ایس کے کالونی، برتھنہ، ایس ڈی اے کالونی کے بارے میں بتایاجاتا ہے کہ محکمہ یو ای ای ڈی کے کئی اہلکاروں کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ وہ کبھی بھی متذکرہ بالا علاقوں میں ڈرینوں کی صفائی نہیں کرتے ہیں جس سے نہ نالیاں بلا ک ہوگئی ہیں اور معمولی بارشوں سے یہ علاقے ڈوب جاتے ہیں اسلئے متعلقہ حکام کو اس جانب توجہ دینی چاہئے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں