ریاستی انتظامی کونسل کے اجلاس میں شاہ پورکنڈی ڈیم پروجیکٹ معاہدے کو منظوری ملازمین اور پنشنروں کے حق میں 2فیصدی مہنگائی بھتے کا اعلان ، پولیس شہدا کے لواحقین کیلئے ایکس گریشا ریلیف 48لاکھ سے بڑھاکر 70لاکھ کرنے کا اعلان

سرینگر/گورنر ستیہ پال ملک کی صدارت میں منعقدہ ریاستی انتظامی کونسل کے اجلاس میں شاہ پور کنڈی ڈیم پروجیکٹ معاہدے کو منظوری دی گئی۔ اس معاہدے پر8 ستمبر2018 کو سرینگر میں ریاستی اور پنجاب حکومتوں نے دستخط کئے تھے۔نئے معاہدے کی بنیاد پر شاہ پور کنڈی بیراج کی تکمیل کے بعد جموں وکشمیر کو دریائے راوی سے1150 کیوسک پانی فراہم کیا جائے گا جس سے سانبہ اور کٹھوعہ اضلاع کے کسان مستفید ہوں گے۔ اس کے علاوہ ریاست کو شاہ پور کنڈی ڈیم اور تھین ڈیم پروجیکٹوں سے پیدا ہونے والی بجلی کا20 فیصد حصہ ملے گا۔اس پروجیکٹ کو ایک قومی پروجیکٹ قرار دیا گیا ہے اور پنجاب حکومت اس پروجیکٹ کو جموں وکشمیر کی مالی معاونت کے بغیر عملائے گی۔اس پروجیکٹ کے دیگر فوائد درجہ ذیل ہیں۔ دونوں اطراف کرسٹ کی اونچائی مساوی یعنی398.40 میٹر ہوگی۔سینٹرل واٹر اینڈ پاور ریسرچ سٹیشن کرسٹ سطح کا تفصیلی مطالعہ کرے گا تا کہ ریاست جموں وکشمیر کو 1150 کیوسک پانی حاصل ہو جس پر کاربند رہنا دونوں ریاستوں کے لئے لازمی ہے۔پروجیکٹ کو پنجاب حکومت عملائے گی تا ہم پروجیکٹ کی نگرانی سی ڈبلیو سی کے ممبر کی سربراہی والی ایک کمیٹی کرے گی جس میں/جاری صفحہ نمبر ۱۱پر
 دونوں ریاستوں کے چیف انجنئیرصاحبان ممبر کی حیثیت سے شامل ہوں گے۔ادھرریاستی انتظامی کونسل کا اجلاس کے دوران ریاستی ملازمین اور پنشنروں کے حق میں یکم جولائی2018 سے 2 فیصد اضافی مہنگائی بھتہ کو منظوری دی ہے۔ماہ جولائی سے ستمبر2018 تک کے بقایا جات ملازمین کے جی پی فنڈ کھاتوں میں جمع کئے جائیں گے جبکہ اکتوبر 2018 سے مہنگائی بھتہ تنخواہ/ پنشن کے ساتھ ادا کیا جائے گا۔مہنگائی بھتہ میں اضافہ کے نتیجہ میں ریاستی خزانہ پر رواں مالی سال کے دوران118 کروڑ روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا جبکہ کُل ملا کر سالانہ بوجھ177 کروڑ روپے ہوگا۔مہنگائی بھتہ میں اضافہ سے4.50 لاکھ ملازمین اور1.60 لاکھ پنشنرمستفید ہوں گے۔اس دوران گورنر ستیہ پال ملک کی صدارت میں منعقدہ ریاستی انتظامی کونسل کے اجلاس میں ریاستی پولیس کے شہدأ کے لواحقین کو دیئے جانے والے ایکس گریشیا ریلیف کی رقم کو48 لاکھ روپے سے بڑھا کر70 لاکھ روپے کرنے کو منظوری دی گئی۔ شہید ہونے والے ایس پی اوز کے لواحقین کو دی جانے والی ایکس گریشیا امداد کو14.5 لاکھ روپے سے بڑھاکر30 لاکھ روپے کرنے کا فیصلہ لیا گیا۔ایس آر ای﴿ آر اینڈ آر﴾ کے تحت ریاستی پولیس کے اہلکاروں/ ایس پی اوز اور سی اے پی ایف/ فوجی اہلکاروں کے نزدیکی لواحقین کو دی جانے والی ایکس گریشیا امداد کو 2 لاکھ روپے سے بڑھا کر5 لاکھ روپے کیا گیا ہے جبکہ پولیس ویلفئیر فنڈ﴿ ایم ایچ اے﴾ سے ریاستی پولیس کے اہلکاروں کے نزدیکی لواحقین کو دی جانے والی ایکس گریشیا کو3 لاکھ روپے سے بڑھاکر7 لاکھ روپے کر دیا گیا ہے۔ریاستی وسائل میں سے ریاستی پولیس کے اہلکاروں کے نزدیکی لواحقین کو دی جانے والی ایکس گریشیا کو18 لاکھ روپے سے بڑھا کر33 لاکھ روپے کیا گیا ہے۔ریاستی انتظامی کونسل کے اجلاس میں مزید فیصلہ لیا گیا کہ ملی ٹینسی مخالف آپریشنوں/ تشدد کے دوران شہید ہونے والے ریاستی پولیس کے اہلکاروں کے دو بچوں کو ریاست کے نجی سکول میں12 ویں جماعت تک مفت تعلیم فراہم کی جائے گی جس کا خرچہ ریاستی محکمہ تعلیم برداشت کرے گا۔دریں اثنا ریاستی انتظامی کونسل نے ویٹرنری اسسٹنٹ سرجنوں کی 400اسامیوں کو معرض وجود میں لانے کو منظوری دی جن کی تقرری جے کے پی ایس سی انجام دے گی۔کونسل نے اینمل/ شیپ ہسبنڈری محکموں میں مرحلہ وار طریقے پر جے کے ایس ایس بی کے ذریعے 400 پیرا ویٹس کی تقرری عمل میں لانے کو منظوری دی۔ایس اے سی نے پشو و بھیڑ پالن محکمہ کو ہدایت دی کہ وہ ان اسامیوں کو تحریری امتحان کی بنیاد پر تقرری عمل میں لانا یقینی بنائیں۔ان اسامیوں کو وجود میں لانے سے پشو و بھیڑ پالن کے ٹرائیل مراکز کو باقاعدہ بنانے کی ایک دیرینہ مانگ پوری ہوگی اور محکمہ کی پیشہ وارانہ صلاحیت میں بہتری آئے گی بلکہ ریاست میں گوشت دودھ اور پولٹری کی پیداوار میں اضافے کے ساتھ ساتھ جانوروں کی صحت یقینی بنانا بھی ممکن ہوگا۔ریاستی انتظامی کونسل کی ایک میٹنگ میں باغبانی محکمہ کے اُس منصوبے کو منظوری دی گئی جس میں پرائیویٹ سیکٹر میں انٹرسٹ انٹر وینشن سکیم کے تحت اخروٹ پروسیسنگ یونٹ قایم کرنے کی بات کہی گئی تھی ۔ اس منصوبے کا بنیادی مقصد ریاست میں اخروٹوں کی پروسیسنگ کی صلاحیت میں اضافہ کیا جا سکے ۔ علاوہ ازیں اخروٹوں کی سائینسی طریقے پر پروسیسنگ اور گریڈنگ کے عمل کو فروغ دیا جائے تا کہ کسانوں کو اپنی پیداوار کی اچھی خاصی قیمت حاصل ہو ۔ اس سکیم کے ذریعے سے 500 میٹرک ٹن صلاحیت والا اخروٹ پروسیسنگ یونٹ نجی سیکٹر میں قایم کرنے کیلئے ایک کروڑ روپے کے قرضے پر پانچ برسوں کیلئے سو فیصد انٹرسٹ سب وینشن دستیاب ہو گی ۔ اس کے علاوہ پانچ سو میٹرک ٹن صلاحیت والے دس اخروٹ پروسیسنگ یونٹ کو بھی اس سکیم کے دائرے میں رکھا گیا ہے ۔ اسی طرح کے ایک اور اہم فیصلے میں ریاستی انتظامی کونسل نے نجی سیکٹر میں اخروٹ پودوں کی نرسریاں قایم کرنے کیلئے انٹرسٹ سب وینشن اور سبسڈی کی سہولیات بہم کرانے کا فیصلہ کیا گیا ۔ سکیم کے ذریعے سے جدید طرز کی ایک اخروٹ نرسری قایم کرنے کیلئے 50 فیصد سبسڈی دستیاب ہو گی تا ہم اس میں بالائی حد 7.50 لاکھ روپے ہو گی ۔ریاستی انتظامی کونسل کی میٹنگ کے دوران آج ایک اہم فیصلہ لیتے ہوئے’’ جموں کشمیر سنگل ونڈو ﴿ صنعتی سرمایہ کاری اور بزنس فیسلی ٹیشن ﴾ ایکٹ 2018 ‘‘کو منظوری دی گئی ۔ یہ ایکٹ حکومت جموں کشمیر کی طرف سے تجارت کو آسان بنانے کے فلیگ شپ پروگرام کے تحت ایک اہم قدم تصور کیا جاتا ہے ۔ اس کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ پرانے نظام میں جدت لائی جائے اور ریاست میں تجارتی سرگرمیوں کو دوام حاصل ہو سکے ۔ اس ایکٹ کی رو سے ریاست میں تجارت کرنا مزید آسان ہو گا اور تجارت دوست ماحول قایم کرنے میں بھی مدد ملے گی ۔ اس سے پہلے تجارت شروع کرنے کیلئے مختلف قسم کی منظوریوں اور این او سیز میں مہینوں اور سالہا سال لگتے تھے اور اب یہ چیزیں آن لائین موڈ کے ذریعے سے ایک مقررہ مدت کے اندر اندر صرف ہفتوں میں ہی حاصل کی جا سکتی ہیں ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں