کانگریس ، این سی اور پی ڈی پی کے نقش قدم پرکہا انتخابات کے حوالے سے حالات ناسازگار
پارٹی ہائی کمانڈ سے صلاح مشورہ کے بعد حمتی فیصلہ کیاجائیگا: جی اے میر

سرینگر/ کے این ایس/ ریاست میں طے شدہ پنچائتی اور بلدیاتی انتخابات پر منڈلاتے بادلوں کے بیچ ریاستی کانگریس نے بھی آسمان سر پر اُٹھاتے ہوئے مرکزی اور ریاستی حکومتوں کو اپنا مؤقف واضح کرنے کو کہا ہے۔ پارٹی نے بتایا کہ ریاست میں انتخابات کے حوالے سے فی الوقت ماحول سازگار نہیں ہے لہٰذا پارٹی آنے والے دنوں میںایک اعلیٰ سطحی وفد نئی دہلی روانہ کرے گی جہاں پارٹی ہائی کمانڈ کے ساتھ ریاست کی سیاسی وسیکورٹی صورتحال پر تفصیلی غور و خوض کے بعد ہی مستقبل کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ ریاستی کانگرنس نے پارٹی ہیڈکوارٹر پر ایک پرہجوم پریس/جاری صفحہ نمبر ۱۱پر
 کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ریاست میں طے شدہ پنچایتی اور بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے ماحول سازگار نہیں ہے۔پارٹی کے ریاستی صدر غلام احمد میر نے میڈیا کے سامنے کہا کہ ریاست جموںوکشمیر میں طے شدہ پنچایتی اور بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے بہت سارے شکوک و شبہات کو جنم دیا گیا ہے جس کے نتیجے میں سیاسی و غیر سیاسی حلقوں میں الیکشن کے حوالے سے غیریقینیت پائی جارہی ہے۔انہوں نے بتایا کہ مرکزی و ریاستی حکومتیں ریاست میں طے شدہ انتخابات کے حوالے سے سخت پریشان دکھائی دے رہی ہیں جس کی وجہ سے زمینی سطح پر عام لوگوں میں بھی غیر یقینیت کی صورتحال نے جنم لیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وادی میں فی الوقت سیاسی و سیکورٹی صورتحال انتہائی گھمبیر ہے ۔ جنوبی کشمیر میں حالات ناسازگار ہیں ، آئے روز یہاں فوج اور جنگجوئوں کے درمیان خونین جھڑپیں ہورہی ہیں جن کے بعد امن و قانون کی صورتحال میں نقص پیدا ہونے کی وجہ سے عام شہریوں کی اموات بھی ہورہی ہیں۔ لہٰذا ایسے نازک اور پیچیدہ ماحول میں پنچایتی اور بلدیاتی انتخابات کا بگل بجانا سمجھ سے بالا تر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت کو چاہیے تھا کہ وہ انتخابات کو منعقد کرانے سے قبل یہاں زمینی صورتحال کا جائزہ لیتی۔غلام احمد میر نے بتایا کہ پارٹی جلد ہی ایک اعلیٰ سطحی وفد نئی دہلی روانہ کرے گی جہاں وہ پارٹی ہائی کمانڈ کو ریاست کی موجودہ سیاسی و سیکورٹی صورتحال سے آگاہی دلائی گی۔ انہوں نے بتایا کہ اس موقعے پر پارٹی ہائی کمانڈ کے ساتھ تفصیلی تبادلے کے بعد ہی پنچایتی اور بلدیاتی انتخابات میں شرکت کے حوالے سے کوئی فیصلہ لے گی۔انہوں نے پریس کانفرنس کے دوران ریاست کی مخدوش سیاسی و سیکورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے کہا کہ انتخابات میں شرکت کا فیصلہ پارٹی ہائی کمانڈ کے ساتھ صلاح و مشورہ کے بعد ہی لیا جائے گا۔ایک سوال کے جواب میں غلام احمد میر نے بتایا کہ فی الوقت انتخابات کے حوالے سے ماحول سازگار نہیں ہے۔ مرکزی و ریاستی حکومتوں نے پنچایتی اور بلدیاتی انتخابات کو منعقد کرانے میں جلد بازی سے فیصلہ لیا ہے ۔ہم امید کرتے ہیں کہ مرکزی و ریاستی حکومتیں انتخابات کو منعقد کرانے کے حوالے سے اپنا مؤقف واضح کریں گے تاکہ لوگوں میں پائی جارہی بے چینی کا سدبا ب ہو۔کانگریس صدر نے بتایا کہ ہم نے گورنر ستیہ پال ملک کے ساتھ گزشتہ دنوں تفصیلی ملاقات کرتے ہوئے انہیں ریاست کی زمینی صورتحال سے آگاہ کیا تاہم ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حکومت انتخابات کو منعقد کرانے کے حوالے سے تذبذب کی شکار ہے۔انہوں نے بتایا کہ ریاست کی مخدوش صورتحال کا اس بات سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ گزشتہ دن ہی بی جے پی کے جنرل سیکرٹری رام مادھو نے ریاست کا دورہ کرکے یہاں حالات سے آگاہی حاصل کی۔انہوں نے بتایا کہ ہم حالات پر گہرائی سے نظر رکھے ہوئے ہیں اور پارٹی ہائی کمانڈ کے ساتھ صلاح و مشورہ کے بعد ہی کوئی فیصلہ لے گی۔ نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی کی جانب سے الیکشن بائیکاٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ہر ایک پارٹی کو فیصلہ لینے کا حق ہے لہٰذا جو بھی فیصلہ انہوں نے لیا حالات و واقعات کو دیکھ کر ہی لیا ہوگا۔انہوں نے بتایا کہ پنچایتی اور بلدیاتی انتخابات کو دفعہ 35کی شنوائی سے منسلک کرنا حکومت کی سب سے بڑی غلطی تھی۔ پریس کانفرنس کے دوران پارٹی کے سینئر لیڈر طارق حمید قرہ نے حکومت کی طرف سے انتخابات سے متعلق مبہم مؤقف کو اعتماد کا فقدان قرار دیا۔انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ انتخابات کے حوالے سے اعتماد کے ساتھ بات کریں تاکہ ریاست میں پائی جارہی بے چینی کا باب بند ہو۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں