این سی اور پی ڈی پی لیڈرانتخابات سے ڈر رہے ہیں  35Aمحض بہانہ ہے :بھاجپا کا الزام
عوامی مینڈیٹ کو روندنے والے ہمیں سبق نہ پڑھائیں ، الطاف بخاری کا مادھو کو جواب

سرینگر/ الفا نیوز سروس /پنچائتی اور بلدیاتی انتخابات کیلئے تیار ہونے کا دعوی کرتے ہوئے بھاجپا کے قومی جنرل سیکریڑی رام مادھو نے آج این سی اور پی ڈی پی پر الزام عائدکیا کہ دونوں جماعتوں نے 35Aکا بہانہ بنا کر جمہوری عمل کو ناکام کرنے کی کوشش کی ہے ،انہوںنے سوال کیا کہ اگر لداخ میں سبھی جماعتوںنے انتخابات میں حصہ لیا تو اس وقت دفعہ 35Aپر چیخ وپکار کیوں نہیں کی ۔اس دوران پی ڈی پی نے رام مادھو کے بیان کو مسترد کر دیا کہ بھاجپانے/جاری صفحہ نمبر ۱۱پر
 سرکار گرا کر جمہوری عمل کو تباہ کرکے رکھ دیا اور یہ جماعت کسی پر الزام تراشی کرنے سے پہلے اپنے گریباں میںجھانک لے ۔ رام مادھو نے ایک انٹرویو کے دوران آج صاف کر دیا کہ پنچائتی اور بلدیاتی انتخابات ضرور ہونگے اور یہ کہ جمہوری عمل کو فعال بنانے کیلئے یہ لازمی ہے لیکن ہم سرکار بنانے کیلئے کسی بھی طرح کی جلد بازی میںنہیں ہیں اور اگر کوئی اور جماعت اس کیلئے دوڑ دھوپ کررہی ہو تو ہمیں اس پر کوئی پریشان نہیں ہونی چاہئے ، ہمارا مقصد ریاست میںشفاف انتخابات کو یقینی بنانا ہے اور اختیارات کو نچلی سطح پر تفویض کرنا ہے ۔ رام مادھو نے پی ڈی پی اور این سی کے بائیکاٹ نعرے کو کھوکھلا قرار دیتے ہوئے کہاکہ ان جماعتوں نے دفعہ 35Aکو بہانہ بنا کر ریاست جموںوکشمیر میںجمہوری عمل کو نقصان پہنچانے کا کام کیا ہے اور وہ جمہوری عمل کو فیل کرنا چاہتے ہیںلیکن بھاجپا ان کے عزائم کو کامیاب نہیں ہونگے دیگی بلکہ الیکشن لڑیگی اور ایسے میں کسی بھی طرح کے الیکشن میں حصہ لینے کیلئے یہ جماعت تیار بھی ہے ۔انہوںنے کہاکہ ان لوگوں کو آج 35Aیاد آگیا جب لداخ میں الیکشن چل رہے تھے تب بھی یہ تنازعہ موجود تھا ۔انہوںنے کہاکہ اس وقت انہوں نے کیوں ایسا نہیں کیا اور بائیکاٹ کیوں نہیں کیا ۔انہوںنے کہا کشمیر میںبائیکاٹ اور لداخ میں انتخابات میںحصہ لینا دوہرے پن کا مظہر ہے ۔ لہذا ان دونوں جماعتوں کو اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرنی چاہئے کیونکہ جمہوری عمل میںاڑچن بننے سے عوام کا بھلا نہیں ہوتا بلکہ عوام کو نقصان پہنچتا ہے ۔انہوںنے کہاکہ بھاجپا نچلی سطح پر اختیارات کو تفویض کرنا چاہتی ہے اور یہ ان جماعتوںکو گلے سے نہیں اترتا ہے ۔ انہوںنے کہاکہ ان دونوں جماعتوںنے کانگریس کے بل پر ہمیشہ راج نیتی کی ہے اور بھاجپا کے ہوتے ہوئے اب ایسا نہیں چلے گا کیونکہ ہم ریاست کے تینوں خطوں کی یکساں ترقی کے حق میں ہیں۔ اس دوران پی ڈی پی کے سینئر لیڈر الطاف بخاری نے رام مادھو کے بیان پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہاکہ یہ بھاجپا ہے کہ جس نے جمہوری اصولوں کا خون کر دیا اور بنی بنائی اور میڈیٹ سے پر ایک سرکار کو گر ادیا اور عوامی مینڈیٹ کو پاوں تلے روندڈالا ،یہ جماعت کسی کو جمہوریت کاسبق پڑھا نہیں سکتی ہے ۔ انہوںنے کہاکہ ہم الیکشن سے بھاگ نہیں رہے ہیں لیکن الیکشن کیلئے سازگار حالات بھی تو ہونے چاہئے ۔انہوںنے کہاکہ اس جماعتوںنے عوامی مینڈیٹ کی قد ر ہی نہیں کی ۔ اگر چہ نظریات مختلف ہونے کے باوجود بھی عوامی مینڈیٹ کی لاج رکھتے ہوئے ہم نے بھاجپا سے ہاتھ ملایا تھا لیکن انہوںنے سرکار گرا کر جمہوری اصولوں کا خون کر دیا ۔انہوںنے مزید کہاکہ سرکاریں لوگوں کے ووٹ سے بنتی ہیں اور گرتی ہیںاور 35Aکے معاملے نے ہماری آنکھیں کھول دیں جب تک اس معاملے پر مرکزی حکومت اپنا موقف اور پالیسی واضح نہیں کریگی تب تک الیکشن فضول مشق ہوگی ۔ انہوںنے کہ جس جماعت نے عوامی مینڈیٹ کو ٹھکرا دیا وہ بنیادی اداروں کو کیا مضبوط کریگی ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں