سڑکوں کی تعمیر و تجدید میں امتیاز کیوں؟

اس سال ریاستی حکومت نے سڑکوں کی مرمت و تجدید کے نام پر اب تک کوئی قابل ذکر کام نہیں کیا ہے جس کے نتیجے میں بیشتر سڑکیں خستہ حالت میں پڑی ہیں۔ اس دوران ایسی اطلاعات موصول ہوئی ہیں جن میں بتایا جارہا ہے کہ سڑکوں کی تعمیر و تجدید میں بڑے پیمانے پر امتیاز برتا جارہا ہے اور یہ معاملہ ممبران اسمبلی کے تابع رکھا گیا ہے وہ جس سڑک کی مرمت کرنا چاہئیںگے اسی سڑک کی مرمت کی جاتی ہے اور جس سڑک کی وہ مرمت نہیں چاہتے ہیں خواہ وہ کتنی ہی اہم کیوں نہ ہو اس کی کسی بھی قیمت پر مرمت و غیرہ نہیں کی جاتی ہے۔ اس کی ایک مثال میرک شاہ روڈ یعنی درگاہ حضرت بل روڈ کی دی جاسکتی ہے جس کے نصف حصے کی مرمت تو کی جاتی ہے جبکہ اس کے بیشتر حصے کو نظر انداز کیا جاتا ہے جو سمجھ سے بالاتر ہے۔ اطلاعات کے مطابق میرک شاہ روڈ کی عشائی با غ تک مناسب دیکھ ریکھ کی جارہی ہے اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں سڑکوں کو ایک سال میں متعدد مرتبہ بلیک ٹاپنگ کی جاتی ہے لیکن نگین سے آگے اس کی طرف کوئی توجہ نہیں دی جارہی ہے حالانکہ اس روڈ کی اہمیت اس بات سے بھی لگائی جاسکتی ہے کہ یہاں درگاہ حضرت بل کے علاوہ این آئی ٹی اور کشمیر یونیورسٹی بھی ہے اس کے علاوہ یہ راستہ مغل باغات کو بھی جاتا ہے اور اسی راستے سے سیلانیوں کا آنا جانا رہتا ہے ۔کنگن گاندربل اور تولہ مولہ جانے کیلئے بھی لوگ اسی راستے کا انتخاب کرتے ہیں۔ لیکن جیسا کہ اوپر ذکر کیاجاچکا ہے سڑکوں کی تعمیر و تجدید میں امتیاز برتا جارہا ہے ایسا کیوں ہو رہا ہے اس بارے میں متلعقہ حکام ہی مناسب جواب دے سکتے ہیں۔ اسی طرح لال بازار کی بیشتر سڑکیں خستہ ہوچکی ہیں۔ جب اس بارے میں متعلقہ حکام کی توجہ اس جانب مبذول کروائی جاتی ہے تو ان کا استدال سن کر تعجب ہوتا ہے وہ کہتے ہیں کہ ممبر اسمبلی کی سفارش کے بغیر ان کیلئے سڑکوں کی تعمیر و تجدید کا کام ہاتھ میں لینا مشکل ہے۔ یہ معلوم نہیں ہوسکا ہے کہ ایسا کیوں کہا جارہا ہے۔ اگر کوئی سڑک خستہ ہوچکی ہے تو اس کا معاینہ کرنے کے بعد اگر یہ محسوس ہوگا کہ یہ مرمت طلب ہے تو اس کیلئے ممبراسمبلی سے سارٰٹفیکیٹ لانے کی کیا ضرورت ہے ؟لال بازار کی عمر کالونی بی کو ہر دور حکومت میں نظر انداز کیا جاتا رہا ہے اور اس بار بھی ایسا ہی کیاجارہا ہے۔ شہر کے دوسرے علاقوں کا جہاں تک تعلق ہے تو ان علاقوں میں بھی سڑکوں کی حالت انتہائی قابل رحم بن چکی ہے لیکن نہ تو ان پر روڈی ڈالی جاتی ہے اور نہ ہی میگڈم بچھایا جاتا ہے۔ اور جب لوگ اس سلسلے میں متعلقہ حکام کی توجہ اس جانب مبذول کرواتے ہیں تو وہ بھی وہی کچھ کہتے ہیں جو ان کو اوپر سے احکامات دئے جاتے ہیں۔ وہ بھی بے بس ہیں۔ اسلئے گورنر کے ایڈ وائیزر برائے تعمیرات عامہ سے گذارش ہے کہ وہ متذکرہ بالا علاقوں میں خستہ حال سڑکوں کی تعمیر تجدید کیلئے فوری احکامات صادر کریں کیونکہ اکتوبر سے سرمائی ایام شروع ہوتے ہیں اور سر د موسم میں میگڈم نہیں بچھایا جاسکتاہے۔ شہر میں جو اہم سڑکیں ہیں ان کی طرف فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ لوگوں کو اس حوالے سے جو مشکلات درپیش ہیں ان کا ازالہ کیا جاسکے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں