رام بن حادثہ اور ٹریفک عملہ کی غفلت شعاری

سرینگر جموں شاہراہ پر ایک اور خونین حادثہ رونما ہوا جس میں بیس سے زیادہ معصوم جانیں چلی گئیں اور پندرہ سے زیادہ افراد شدید زخمی ہوگئے جن میں سے پانچ کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ ان کی حالت نازک بنی ہوئی ہے۔ یہ حادثہ اس مسافر بس کو پیش آیا جو بانہال سے رام بن جارہی تھی۔ اس دوران اچانک وہ ڈرائیور کے قابو سے باہر ہوکر گہری کھائی میں لڑھک گئی۔ اس حادثے سے ہر طرف کہرام مچ گیا۔ ہر چھوٹے بڑے لیڈر نے اظہار افسوس کیا جبکہ سرکار کی طرف سے لواحقین کیلئے ایکس گریشیا ریلیف کا بھی اعلان کیا گیا۔ یہ دستور زمانہ ہے ۔ جب بھی ایسے واقعات رونما ہوتے ہیں تو اگر پتھر دل بھی ہوتا ہے تو اس کی آنکھوں سے بھی آنسو ٹپکتے ہیں لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس شاہراہ پر اس طرح کے حادثے کیوں اب روزمرہ کا معمول بنتے جارہے ہیں۔ ہر دوسرے تیسرے دن یہ خبر سننے کو ملتی ہے کہ اس شاہراہ پر حادثے میں اتنے سارے لوگ لقمہ اجل بن گئے۔ ا س سڑک پر اگر ٹریفک عملہ تعینات ہے تو وہ کیوں اپنے فرایض کی انجام دہی میں غفلت شعاری کا مظاہرہ کرتا ہے ۔ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا لوگ ٹریفک حکام سے جواب چاہتے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ ان کیلئے اس طرح کے حادثات کی کوئی اہمیت نہ ہو جیسا کہ ظاہر ہے کہ اگر ٹریفک اہلکار تندہی سے اپنے فرایض انجام دیتے توحادثات میں خاطر خواہ کمی ہوتی لیکن وہ ایسا نہیں کرتے ہیں۔ کیونکہ شاید وہ ہر طرح کے احتسابی عمل سے مبرا ہونگے۔ ٹریفک پولیس نے یہ کہہ کر اس حادثے سے اپنا دامن چھڑالیا کہ ڈرائیور تیز رفتاری کے ساتھ گاڑی چلا رہا تھا اور اس نے دوسری گاڑی سے اوور ٹیک کرنے کی کوشش کی اور اس کوشش کے دوران اس کی گاڑی لڑھک گئی۔ پوچھا جاسکتا ہے کہ اگر شاہراہ پر ٹریفک پولیس تعینات ہے تو اس نے کس طرح اس حساس سڑک پر ڈرائیور کو اوور ٹیک کرنے کی اجازت دی اگر وہ بھی نہیں تویہ بھی کہا جارہا ہے کہ گاڑی مسافروں سے کچھا کھچ بھری ہوئی تھی تو کیوںکر ڈرائیور کو اوور لوڈنگ کی اجازت دی گئی۔ ٹریفک پولیس کا کام صرف رات کے دوران ٹپروں کو پکڑنے تک ہی محدود نہیں ہوتا ہے بلکہ اس کو اپنے اندر فرایض کی ادائیگی کا بھر پور احساس پیدا کرنا چاہئے۔ سرینگر جموں شاہراہ پر بانہال سے رام بن تک کا علاقہ انتہائی حساس ہے کیونکہ سڑک جگہ جگہ خراب رہتی ہے اور کسی کسی جگہ اتنی تنگ ہے کہ مشکل سے دو گاڑیاں چل سکتی ہیں سڑک کے اس حصے پر زیادہ سے زیادہ نگرانی کی ضرورت ہے۔ اسلئے ان ٹریفک افسروں کیخلاف کاروائی کی جانی چاہئے جنہوں نے شاہراہ کے اس اہم اور حساس علاقے کو نظر انداز کررکھا ہے اور خود بھی آرام دہ کمروں میں بیٹھے رہتے ہیں اور اپنے ماتحت عملے جس کو سڑکوں پر ہونا چاہئے تھا کو بھی آرام کرنے کی کھلی ڈھیل دی گئی ہے۔ ان مقامات پر ٹریفک عملے کا ہونا انتہائی لازمی ہے جہاں اوور ٹیکنگ اور اوور لوڈنگ کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ لیکن نہ معلوم کیوں ٹریفک عملے کو وہاں سے ہٹاکر بقول پبلک ان مقامات پر رکھا جارہا ہے جہاں ان کو کچھ ملنے کی امید ہوتی ہے۔ اسلئے ضرورت اس بات کی ہے کہ بانہال سے رام بن تک محکمہ ٹریفک کے جتنے بھی افسر اور اہلکار تعینات ہیں کو ملازمت سے معطل کرکے تحقیقاتی کمیشن قائم کیاجائے تاکہ یہ دیکھا جاسکے کہ حالیہ حادثے کیلئے کس پر ذمہ داری ڈالی جانی چاہئے۔ اگر یہی لوگ ذمہ دار ہونگے تو ان کیخلاف سخت سے سخت کاروائی کی جانی چاہئے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں