پری پیڈ بجلی میٹروں کی تنصیب

ایک مقامی خبر رساں ایجنسی کشمیر نیوز سروس نے اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ ریاستی حکومت کی طرف سے عنقریب ہی سات لاکھ پری پیڈ بجلی میٹر نصب کئے جارہے ہیں اور اس کا مقصد بجلی کے نا جائیز استعمال کو روکنا ہے۔ اس خبر رساں ایجنسی کے مطابق ایک خاص کمپنی کو اس کا ٹھیکہ دیا گیا ہے اور اسی کمپنی کی طرف سے یہ میٹر نصب کئے جاینگے۔ ان میٹروں کی تنصیب کیلئے یہ دلیل پیش کی جارہی ہے کہ ایک تو بجلی کے ناجائیز استعمال کو روکنا ہے دوسری بات یہ ہے کہ بجلی کا جو غیر ضروری استعمال کیاجارہا ہے اس پر بھی روک لگ سکے ۔ جہاں تک بجلی کے غیر ضروری استعمال کا تعلق ہے تو کوئی بھی ذی حس شہری اس بات کے حق میں نہیں ہے کہ بجلی کا غیر ضروری استعمال کیا جائے دوسری سب سے اہم بات یہ ہے کہ کیا کشمیری لوگ بجلی چوری کرتے ہیں ؟ جہاں تک بجلی کے غیر ضروری استعمال کا تعلق ہے تو ہوسکتا ہے کہ ابھی بھی آٹے میں نمک کے برابر لوگ ایسا کرتے ہونگے لیکن جہاں تک بجلی چوری کا تعلق ہے تو اس بارے میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ کوئی بھی کنزیومر بجلی چوری نہیں کرتا ہے بلکہ ہر صارف وقت پر بجلی فیس ادا کرتا ہے اور کبھی بھی اس بارے میں غفلت کا مظاہرہ نہیں کرتا ہے ۔ جیسا ریکارڈ وں سے ظاہر ہے کہ 99فی صد لوگ وقت پر باقاعدگی سے بجلی فیس ادا کرتے ہیں اور جب لوگ بجلی فیس ادا کرتے ہیں تو چوری کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے لیکن صرف فورسز اور بعض سرکاری اداروںکی طرف سے جو بڑے پیمانے پر بجلی استعمال کی جاتی ہے تو ان ہی کے پاس بجلی فیس بقایا ہوگا جبکہ عام صارف کے پاس کوئی رقم بقایا نہیں۔ اب کشمیری عوام کو اس بات کا بخوبی احساس ہونے لگا ہے کہ کس طرح این ایچ پی سی کے پاس کشمیر کے بجلی پروجیکٹ ہیں اور کس طرح اس میں سے ان پروجیکٹوں کے اصل حقدار کشمیریوں کو رایلٹی کے نام پر معمولی رقم فراہم کی جاتی ہے جبکہ ان کشمیری بجلی پروجیکٹوں سے حاصل ہونے والی نوے فیصد آمدن این ایچ پی سی والے ہضم کرتے ہیں۔ کشمیرکو اس میں سے برائے نام بھی حصہ نہیں ملتاہے۔ تعجب تو اس بات کا ہے کہ زمین کشمیر کی، پانی کشمیر کا دوسرے ذرایع کشمیر کے لیکن اسی کشمیر کو بجلی کیلئے شمالی گرڈ سے بھیک مانگنا پڑتی ہے۔ نہ تو سلال پروجیکٹ سے کشمیر کو کوئی فایدہ ملا اور نہ ہی بغلیار پروجیکٹ سے کشمیر کو کچھ دیا گیا ساری کی ساری بجلی باہر کی ریاستوں کیلئے مخصوص رکھی گئی۔ وادی میں ستر اسی سالوں سے ڈالی گئیں ترسیلی لائینیں ہیں جن کی وجہ سے بجلی کا نظام درہم برہم ہوچکا ہے اور اس میں نقصانات ہوتے ہیں۔ پھر یہ کہنا کہ بجلی کا ناجائیز استعمال کیاجاتا ہے یا بجلی چوری ہوتی ہے کشمیری عوام کے ساتھ زیادتی کے مترادف ہے۔ جب تک این ایچ پی سی سے کشمیر کے سب بجلی پروجیکٹ واپس نہیں لئے جاینگے مرکزی حکومت کو پر ی پیڈ بجلی پروجیکٹوں کے بارے میں سوچنا بھی نہیں چاہئے کیونکہ قصور ناقص ترسیلی لائینوں کا ہے ۔ سسٹم میں درستی سے ہی بجلی کو نقصانات سے بچایا جاسکتا ہے۔ جہاں تک کسی مخصوص کمپنی کو فایدہ پہنچانے کا سوال ہے تو اس کمپنی کو کسی دوسرے طریقے سے فایدہ پہنچایا جاسکتا ہے۔ یہاں کے جغرافیائی حالات ایسے ہیں سال کے 9مہینے یہاں سردیاں رہتی ہیں اسلئے گرم پانی کا ہونا لازمی ہے۔ لوگ کہاں جاینگے کیا کرینگے اگر ان کو سردیوں میں گرم پانی میسر نہیں ہوگا اسلئے حکومت کو ایسا کوئی قدم اٹھانے سے قبل اس بارے میں مناسب غوروفکر کرنا چاہئے۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں