مالی بحران پر قابو پانے کیلئے پاکستا ن کا عالمی مالیاتی فنڈ سے مذاکرات کا فیصلہ

اسلام آباد﴿یو این آئی﴾گھریلو مسائل ،مالی بحران اور قرض سے بد حال پاکستان کے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں رہا کہ وہ ایک بار پھر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی پناہ میں جائے ۔ اس سلسلہ میں پاکستان کے وزیرخزانہ اسد عمر نے کہا ہے کہ حکومت نے مالیاتی بحران سے بچنے کیلئے عالمی مالیاتی فنڈ یعنی آئی ایم ایف سے مذاکرات کا فیصلہ کیا ہے ۔وزیرخزانہ نے گزشتہ روز شام میں کیے جانے والے ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ گزشتہ چند ہفتوں سے اس پر کام ہو رہا تھا، ہم نے اندرونی فیصلہ بھی کیے ، دوست ممالک سے بھی مشاورت کی۔ وزیر اعظم نے پاکستانی ماہرین معاشیات سے بھی مشاورت کی، جس کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ ہمیں آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کی ابتدا کرنی چاہیے جس سے ہم اس معاشی بحران پر قابو پا سکیں۔اسد عمر نے بحران کیلئے گذشتہ حکومت کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا کہ لوگوں کو ادراک ہے کہ گزشتہ حکومت کیسے حالات چھوڑ کر گئی تھی۔ اسلئے جب یہ حکومت آئی تو اس وقت ہم نے کہا تھا کہ ہمیں ترجیحی بنیادوں پر اس بحران سے نکلنے کے لیے راستہ اختیار کرنا ہے اور اس کے لیے ایک سے زیادہ متبادل ذرائع کو تلاش کرنا ہے اور بیک وقت کرنا ہے کیوں کہ ہمارے پاس وقت نہیں ہے ۔اس سے قبل وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے بھی اتوار کو لاہور میں خطاب کے دوران کہا تھا شاید پاکستان کو آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑے ، کیونکہ ادائیگیوں کے بحران کا سامنا ہے ۔ تاہم انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ہم آئی ایم ایف جانے سے قبل دوست ممالک سے مدد مانگیں گے ۔پاکستانی وزیرخزانہ نے کہا کہ ہم کوشش کریں گے کہ کمزور طبقہ پر مشکل فیصلوں کا اثر کم پڑے ۔ یہ مشکل فیصلے اور چیلنج ہیں۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں