دوسرے مرحلے میں 31.3فیصد ووٹنگ سرینگر میں 2.3اور اننت ناگ میں 1.1فیصد ووٹ ڈالے گئے ریاسی میں 84.4اور بانڈی پورہ میں 35فیصد ووٹنگ ریکارڈ

سرینگر/ریاست کے چیف الیکٹورل افسر شالین کابرا نے کہا ہے کہ میونسپل انتخابات2018 کے دوسرے مرحلے کے دوران کل31.3 فیصد پولنگ درج کی گئی۔سی ای او نے کہا کہ صوبہ جموں میں214 وارڈز میں78.6 فیصد جبکہ صوبہ کشمیر کے49 وارڈوں میں3.4 فیصد پولنگ درج کی گئی ۔ بانڈی پورہ میں35.6 فیصد پولنگ درج کی گئی۔جموں صوبہ کے ریاسی ضلع میں84.4 فیصد پولنگ درج کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ پہلے اور دوسرے مرحلے میں جموں صوبہ میں67.7 فیصد ووٹنگ درج کی گئی جبکہ کشمیر صوبہ میں8.3 فیصد ووٹنگ درج کی گئی اور اس طرح ریاست میں دونوں مرحلوں کے انتخابات میں ووٹنگ کی مجموعی شرح47.2فیصد رہی۔ بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے کے تحت بدھ کے روز 11 اضلاع کے 263 بلدیاتی حلقوں کے لئے پولنگ ہوئی۔ پولنگ کا عمل صبح چھ بجے سے شام/جاری صفحہ نمبر ۱۱پر
 کے رات بجے تک بلاتعطل جاری رہا۔چیف الیکٹورل افسر شالین کابرا نے بدھ کی شام کہا کہ بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں پولنگ کی مجموعی شرح 30 فیصد رہی۔ وادی کشمیر کے 49 بلدیاتی حلقوں میں3 فیصد جبکہ صوبہ جموں کے 214 بلدیاتی حلقوں میں 76 فیصد پولنگ درج کی گئی ۔ 8 اکتوبر کو پہلے مرحلے میں پولنگ کی مجموعی شرح 56 اعشاریہ 7 فیصد درج کی گئی تھی۔ تب وادی کے 6 اضلاع میں ووٹنگ کی شرح محض ساڑھے آٹھ فیصد درج کی گئی تھی۔شالین کابرا نے کہا کہ کشمیر میں سب سے زیادہ 36 فیصد ضلع بانڈی پورہ جبکہ جموں میں سب سے زیادہ 84 فیصد ضلع ریاسی میں درج کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ دونوں مرحلوں میں اب تک 46 اعشاریہ 7 فیصد پولنگ ریکارڈ کی گئی ہے جس میں سے وادی میں 8 اعشاریہ 34 فیصد جبکہ جموں میں 67 اعشاریہ 3 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔ انتخابی ذرائع نے بتایا کہ دوسرے مرحلے میں وادی میں سب سے کم ایک فیصد پولنگ ضلع اننت ناگ میں درج کی گئی جہاں 16 بلدیاتی حلقوں کے لئے پولنگ ہوئی۔ دوسری نمبر پر ضلع سری نگر رہا جہاں 2 اعشاریہ 2 فیصد پولنگ درج کی گئی۔ انتخابی کمیشن کے مطابق ریاست میں دوسرے مرحلے کی پولنگ مجموعی طور پر پرامن رہی اور کہیں سے کسی ناخوشگوار واقعہ کی کوئی اطلاع نہیں ملی۔ ریاست میں جن 11 اضلاع میں بدھ کو ووٹ ڈالے گئے ان میں وادی کے پانچ اور جموں کے چھ اضلاع شامل ہیں۔ وادی میں سری نگر، اننت ناگ، بانڈی پورہ، بارہمولہ اور کپواڑہ جبکہ جموں میں ڈوڈہ، کٹھوعہ، کشتواڑ، رام بن، ریاسی اور ادھم پور میں ووٹ ڈالے گئے۔ اگرچہ اس مرحلے کے تحت جنوبی کشمیر کے کولگام اور وسطی کشمیر کے بڈگام کو بھی پولنگ کے عمل سے گذرنا تھا، تاہم وہاں امیدواروں کو بلامقابلہ کامیاب قرار دیے جانے اور مختلف بلدیاتی حلقوں میں کوئی امیدوار سامنے نہ آنے کی وجہ سے کوئی پولنگ نہ ہوئی۔ پہلے مرحلے کی طرح اس مرحلے میں بھی جہاں وادی کشمیر میں بہت کم لوگوں نے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا، وہیں صوبہ جموں کے رائے دہندگان میں کافی جوش وخروش دیکھا گیا۔ جموں کے چھ اضلاع میں پولنگ کے دوران اکثر پولنگ مراکز کے باہر رائے دہندگان کی لمبی قطاریں دیکھی گئیں ، جو اپنی باری کا انتظار کررہے تھے۔ پہلی بار حق رائے دہی کا استعمال کرنے والے نوجوانوں میں انتہائی جوش و خروش دیکھا گیا۔ پولنگ مراکز کے باہر لمبی لمبی قطاروں میں کھڑے اکثر رائے دہندگان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے وارڈ اور محلے کی ترقی چاہتے ہیں اور یہی خواہش انہیں پولنگ مراکز تک کھینچ لائی ہے۔ وادی میں دوسرے مرحلے کے تحت جن علاقوں میں ووٹ ڈالے گئے، ان میں سے بیشتر علاقوں میں پولنگ مراکز پر صرف سیکورٹی فورسز اور انتخابی عملہ کے اہلکار نظر آئے۔ تاہم شمالی کشمیر کے ضلع بانڈی پورہ کے سمبل میںلوگوں کی ایک بڑی تعداد نے اپنے گھروں سے نکل کر اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا۔ بلدیاتی انتخابات کے سبھی چار مرحلوں میں ڈالے جانے والے ووٹوں کی گنتی 20 اکتوبر کو ہوگی۔ ریاست میں قریب 13 برس بعد بلدیاتی انتخابات کرائے جارہے ہیں۔ ریاست میں اس سے قبل سنہ 2005 میں بلدیاتی انتخابات کرائے گئے تھے۔ ان میں بیلٹ پیپر کا استعمال کرکے ووٹ ڈالے گئے تھے۔ سنہ 2005 میں بننے والے بلدیاتی اداروں کی مدت سنہ 2010 میں ختم ہوئی تھی۔ ریاست میں دوسرے مرحلے کے تحت جن 263 بلدیاتی حلقوں کے لئے ووٹ ڈالے گئے، ان میں سے 49 بلدیاتی حلقے کشمیر جبکہ باقی 214 بلدیاتی حلقے جموں میں تھے۔ ریاست میں دوسرے مرحلے کے تحت 263 بلدیاتی حلقوں کے لئے 544 پولنگ مراکز قائم کئے گئے تھے۔ کشمیر صوبے میں 270 جبکہ جموں صوبے میں 274 پولنگ مراکز قایم کئے گئے تھے ۔ کشمیر کے سبھی 270 پولنگ مراکز کو حساس ترین قرار دیا گیا تھا۔ اس مرحلے میں 1029 امیدوار میدان میں ہیں۔ جموں صوبے میں 881 اور کشمیر صوبے میں 148 امیدوار میدان میں ہیں ۔ جن علاقوں میں ووٹ ڈالے گئے ان میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 3 لاکھ 46 ہزار 980 تھی۔ ان میں سے جموں میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد ایک لاکھ 28 ہزار 104 جبکہ کشمیر میں ووٹرز کی تعداد 2 لاکھ 18 ہزار 876 تھی۔ انتخابی کمیشن کے مطابق اگرچہ دوسرے مرحلے کی نوٹیفکیشن کے مطابق ریاست میں بدھ کے روز 384 بلدیاتی حلقوں میں پولنگ ہونی تھی، تاہم 65 بلدیاتی حلقوں میں امیدوار بلامقابہ کامیاب ہوئے ہیں جبکہ وادی کے 56 بلدیاتی حلقے ایسے ہیں جہاں کوئی امیدوار سامنے نہیں آیا۔ کمیشن کے ایک عہدیدار نے بتایا ’ریاست میں دوسرے مرحلے کے تحت 384 بلدیاتی حلقوں کو انتخابی عمل سے گذرنا تھا۔ ان میں 166 حلقے کشمیر جبکہ 218 حلقے صوبہ جموں میں ہیں۔ لیکن وادی کے 166 بلدیاتی حلقوں میں سے 61 حلقوں میں صرف ایک ایک امیدوار سامنے آیا جنہیںبلامقابلہ کامیاب قرار دیا گیا۔ جبکہ 56 بلدیاتی حلقے ایسے ہیں جہاں کوئی امیدوار سامنے نہیں آیا۔ 61 امیدواروں کو بلامقابلہ کامیاب قرار دیے جانے جبکہ 56 بلدیاتی حلقوں میں کوئی امیدوار سامنے نہ آنے کی وجہ سے بدھ کو پولنگ کے عمل سے گذرنے والے حلقوں کی تعداد گھٹ کر 49 رہ گئی‘۔ انتخابی کمیشن کے مطابق جموں میں بلامقابلہ کامیاب قرار دیے گئے امیدوار کی تعداد 4 ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وادی میں دوسرے مرحلے کے تحت سب سے زیادہ سری نگر میں 19 بلدیاتی حلقے انتخابی عمل سے گذرنے والے تھے۔ انہوں نے بتایا ’سری نگر میں دوسرے مرحلے کے تحت 20 بلدیاتی حلقوں کو نتخابی عمل سے گذرنا تھا۔ ان میں سے ایک حلقہ میں صرف ایک امیدوار سامنے آیا جس کی وجہ سے پولنگ کے عمل سے گذرنے والے حلقوں کی تعداد گھٹ کر 19 رہ گئی ‘۔ انتخابی کمیشن کے مطابق جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام کی میونسپل کمیٹی فرصل کے 13 بلدیاتی حلقوں کے لئے کوئی امیدوار میدان میں نہیں آیا۔ اسی ضلع کی میونسپل کمیٹی یاری پورہ کے 6 میں سے 3 بلدیاتی حلقوں کے لئے ایک ایک امیدوار سامنے آیا جنہیں بلامقابلہ قرار دیا گیا ۔ باقی تین بلدیاتی حلقوں کے لئے کوئی امیدوار سامنے نہیں آیا۔ وسطی کشمیر کے ضلع بڈگام کی میونسپل کمیٹی بیروہ کے 13 میں سے ایک بلدیاتی حلقہ کے لئے ایک امیدوار سامنے آیا جسے بلامقابلہ کامیاب قرار دیا گیا۔ باقی 12 بلدیاتی حلقوں کے لئے کوئی امیدوار سامنے نہیں آیا۔ اسی ضلع کی میونسپل کمیٹی ماگام کے 13 میں 7 بلدیاتی حلقوں کے لئے ایک ایک امیدوار سامنے آیا جبکہ باقی 6 بلدیاتی حلقوں کے لئے کوئی امیدوار میدان میں نہیں آیا ۔ یہی صورتحال چرار شریف میں ہے جہاں 13 میں سے 11 بلدیاتی حلقوں میں امیدوار کو بلامقابلہ کامیاب قرار دیا گیا جبکہ باقی دو حلقوں کے لئے کوئی امیدوار سامنے نہیں آیا ۔ انتخابی کمیشن کے مطابق فرصل، یاری پورہ، ماگام، بیروہ اور چرار شریف میں کوئی پولنگ نہیں ہوگی۔ انتخابی کمیشن کے ذرائع نے بتایا کہ دوسرے مرحلے کے لئے 1095 امیدوار میدان میں ہیں جن میں سے 65 کو بلامقابلہ کامیاب قرار دیا جاچکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وادی کشمیر میں سب سے زیادہ سری نگر کے 20 بلدیاتی حلقوں کے لئے 72 امیدوار میدان میں ہیں۔ جموں وکشمیر کے چیف الیکٹورل افسر شالین کابرا نے کہا کہ ریاست بھر میں ووٹنگ مراکز پر تمام بنیادی سہولیات دستیاب رکھی گئی تھیں اور رائے دہندگان کو پہلے ہی ووٹ پرچیاں فراہم کی گئی تھیں ۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات کے عمل پر نگاہ رکھنے اور اس عمل کو منصفانہ طور انجام دینے کے لئے چناؤ مبصروں کی تعیناتی بھی عمل میں لائی گئی تھی ۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے اُن علاقوں میں چھٹی کا اعلان کیا تھا جہاں ووٹ ڈالے جانے تھے ۔ بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے کے لئے رائے دہندگان کو لبھانے کے لئے گذشتہ دو ہفتوں سے جاری انتخابی مہم 9 اکتوبر کی صبح اپنے اختتام کو پہنچی تھی۔ جہاں جموں میں انتخابی امیدواروں نے رائے دہندگان کو لبھانے کا ہر طریقہ استعمال کیا ، وہیں وادی میں انتخابی میدان میں شامل امیدوار کوئی انتخابی مہم چلاتے ہوئے نظر نہیں آئے۔ وادی میں بیشتر لوگ اس قدر ان انتخابات سے لاتعلق ہیں کہ انہیں معلوم ہی نہیں ان کے حلقوں سے کون لوگ انتخابات لڑھ رہے ہیں۔ انتخابی امیدواروں نے مبینہ طور پر ہائی سیکورٹی زون والے علاقوں میں واقع سرکاری عمارتوں میں پناہ لے رکھی ہے۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ پہلے مرحلے کی طرح دوسرے مرحلے کی پولنگ کے لئے بھی سیکورٹی کے غیرمعمولی اور مثالی انتظامات کئے گئے تھے۔انہوں نے بتایا کہ وادی بالخصوص سری نگر میں سیکورٹی کے پختہ انتظامات کئے گئے تھے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ وادی میں محفوظ انتخابات کو یقینی بنانے کے لئے فورسز کی 400 اضافی کمپنیاں تعینات کی گئی ہیں۔ ریاست میں بلدیاتی انتخابات جماعتی بنیادوں پر ہورہے ہیں۔ ان انتخابات میں بی جے پی، کانگریس اور پنتھرس پارٹی کے درمیان سہ طرفہ مقابلہ دیکھنے کو ملنا طے ہے۔ ریاست کی دو بڑی علاقائی جماعتیں نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی بلدیاتی اور پنچایتی انتخابات کا بائیکاٹ کررہی ہیں۔ دونوں جماعتوں کا مطالبہ ہے کہ مرکزی سرکار پہلے دفعہ 35 اے پر اپنا موقف واضح کرے اور پھر وہ کسی انتخابی عمل کا حصہ بنیں گی۔ قومی سطح کی دو جماعتوں سی پی آئی ایم اور بی ایس پی نے بھی ان انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔ کشمیر کی علیحدگی پسند جماعتوں بالخصوص مشترکہ مزاحمتی قیادت اور جنگجو تنظیموں نے لوگوں کو ان انتخابات سے دور رہنے کے لئے کہا ہے۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں