عوامی درباروں کا انعقاد اور مسایل کاحل

گورنر کے مشیروں کی طرف سے ریاست بھر میں مختلف مقامات پر عوامی دربار منعقد کئے جاتے ہیں جن کا مقصد عوامی مسایل و مشکلات سے جانکاری حاصل کرکے ان کو موقعے پر ہی حل کرنا ہے ۔ مشیروں کی طرف سے آئے روز وادی اور جموں میں جو عوامی دربار منعقد کئے جاتے ہیں ان میں لوگ اپنے اپنے مسایل لے کر آتے ہیں اور ان کو مشیروں کے گوش گذار کرتے ہیں اس امید پر کہ ان کو جلد از جلد حل کیاجائے گا ۔ ان عوامی درباروں میںشامل ہونے والے لوگ علاقے کے مسایل و مشکلات سے مشیروں کو آگاہ کرکے ان کا فوری حل چاہتے ہیں لیکن ایسا لگتا ہے کہ عوامی درباروں میں جن مسایل و مشکلات کوابھارا جاتا ہے ان کو بھی مختلف محکموں کے افسر اور اہلکار حل کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں دکھاتے ہیں اس طرح ان درباروں کا انعقاد بے کار جاتا ہے ۔ اس سلسلے میں ایک مثال پیش کی جاسکتی ہے کہ اگر کسی علاقے کے لوگ سڑک کا مسئلہ عوامی دربار میں اٹھاتے ہیں یا پانی کی نایابی کے سلسلے میں درپیش مشکلات سے مشیروں کو آگاہ کرتے ہیں تو مشیر موقعے پر ہی متعلقہ محکمے کے چیف انجینئریا دوسرے کسی افسر کو ہدایت دیتے ہیں کہ لوگوں کا یہ مسئلہ حل کیاجائے ۔ عوامی دربار کے اختتام پر جب لوگ متعلقہ محکمے سے رجوع کرتے ہیں تو ان کا کام نمٹانے میں مہینوں لگائے جاتے ہیں جبکہ عوامی درباروں میں مشیروں کو افسر لوگ یقین دلاتے ہیں کہ وہ عوامی مسایل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کروانے کی کوشش کرینگے۔ اگرچہ یہ سچ ہے کہ حکام کے پاس الہ دین کا کوئی چراغ نہیں کہ ایک رگڑ کے ساتھ ہی کام ہوگا لیکن اتنا بھی نہیں کہ کوئی بھی کام کرنے میں مہینوں لگائے جاتے ہیں ۔ لوگ ان درباروں میں کوئی بھی ذاتی مسئلہ نہیں اٹھاتے ہیں صرف علاقائی مسایل اٹھائے جاتے ہیں جو فوری حل کے متقاضی ہوتے ہیں لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ ان کاموں کو فوری طور حل نہیں کیاجاتا ہے ۔ اسی طرح گورنر ہائوس میں جو شکایت سیل قایم کی گئی ہے تو اس کے قیام پر لوگوں نے اطمینان کی سانس لی تھی کہ اب ان کے کام جلد انجام پذیر ہونگے لیکن وہ لوگ مایوس ہوگئے ہیں جو شکایت سیل سے رجوع تو کرتے ہیں لیکن ان کے کام نہیں ہوپاتے ہیں اور نہ ہی ان کے مسایل کے حل کی طرف کوئی توجہ دی جاتی ہے ۔ سونہ وار سے آئے ہوئے ایک شہری نے بتایا کہ اسے سال 2014کے سیلاب سے مکان کا زبردست نقصان ہوا لیکن اسے بھر پور معاوضہ نہیں دیا گیا اس نے اس سلسلے میں شکایت سیل سے رجوع کیاجہاں سے اس کا کیس اسی دفتر کو بھیجا گیا لیکن وہاں فایل کو اسی حالت میں رکھاگیا جس حالت میں وہ پہلے تھی اور تعجب تو اس بات کا ہے کہ ابھی بھی بقول اس شہری کے اس کی فایل جوں کی توں پڑی ہے۔ اگر عوامی درباروں اورشکایت سیلوں کا یہی حال رہا تو لوگ کس طرح ان کی طرف رجوع کریں گے۔ مشیر تو عوامی خدمات انجام دیتے ہیں لیکن ان کو یہ بات یقینی بنانی چاہئے کہ وہ جن محکموں کو عوامی مسایل فوری طور حل کرنے کی ہدایت دیتے ہیں تو کیا وہ محکمے ان ہدایات پر عمل کرتے ہیں کہ نہیں ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں