طلوع آفتاب سے قبل پولنگ شروع کرانے پر سوالات اٹھائے گئے

سری نگر/ ﴿یو ا ین آئی﴾ جموں وکشمیر میں انتخابی کمیشن کی طرف سے بلدیاتی انتخابات کے لئے پولنگ کے اوقاف میں تبدیلی لاکر پولنگ کا عمل سورج کے طلوع ہونے سے پہلے ہی شروع کرنے پر مختلف حلقوں کی جانب سے سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے پولنگ کا عمل سورج طلوع ہونے سے پہلے شروع کرنے کے اقدام کو ایک سازش کا حصہ قرار دیا ہے جبکہ سیاسی مبصرین کے مطابق یہ انتخابی کمیشن کے قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔ بتادیں کہ ریاست میں چار مرحلوں پر مشتمل بلدیاتی انتخابات کے چاروں مرحلوں کے لئے جاری ہونے والے نوٹیفکیشنز میں پولنگ کا وقت صبح 7 بجے سے دوپہر کے دو بجے تک مقرر کیا گیا تھا۔ پہلے مرحلے کی پولنگ سے چند قبل پولنگ کے اوقات کو بڑھاکر شام کے چار بجے تک کرنے کا اعلان کیا گیا۔ تاہم دوسرے مرحلے کی پولنگ سے محض ایک روز قبل پولنگ کے اوقات میں ایک بار پھر تبدیلی لائی گئی اور پولنگ کا عمل صبح سات بجے کے بجائے صبح چھ بجے شروع کرنے کا اعلان کیا گیا۔ اس پر مختلف حلقوں کی جانب سے سوالات اٹھائے گئے اور کہا گیا کہ وادی میں سورج صبح چھ بجکر 32 منٹ پر طلوع ہوتا ہے اور سورج طلوع ہونے سے پہلے پولنگ کا عمل شروع کرنا انتخابی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔ عمر عبداللہ نے ایک صحافی کے معاملے پر ٹویٹ کو ری ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا ’پولنگ مراکز کو صبح 6 بجے کھولنے کا مقصد کیا ہے؟ مجھے یہ ایک سازش کا حصہ نظر آتا ہے۔ یہ وہ وقت ہے جب صحافی بھی ووٹرز کی صداقت جاننے کے لئے وہاں موجود نہیں ہوں گے‘۔ مذکورہ صحافی نے اپنے ٹویٹ میں لکھا تھا ’جموں وکشمیر کی تاریخی میں شاید ایسا پہلی بار ہورہا ہے کہ پولنگ کا آغاز صبح ہونے سے پہلے ہی شروع ہوگا۔
 دوسرے مرحلے کی پولنگ صبح چھ بجے شروع ہوگی اور سری نگر میں سورج 6 بجکر 32 منٹ پر طلوع ہوگا۔ اس کا منطق کیا ہے؟‘۔ ایک صحافی اور سیاسی تجزیہ کار نے ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا ’سی ای او شالین کابرا کا پولنگ کا عمل صبح چھ بجے شروع کرانے کا منصوبہ انتخابی کمیشن کے قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے۔ الیکشن کمیشن آف انڈیا کے مطابق پولنگ قدرتی روشنی میں ہونی چاہیے‘۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں