حزب کمانڈر کی ہلاکت کے بعد شمال وجنوب میں ہائی الرٹ چپے چپے پر فورسز تعینات ، یونیورسٹی میں کلاس ورک معطل

سرینگر/ یو پی آئی /حزب کمانڈر منان وانی کی ہلاکت کے بعد کسی بھی ناخوشگوار واقعے کو ٹالنے کیلئے شمال و جنوب اور وسطی کشمیر میں سیکورٹی فورسز کو متحرک کیا گیا ہے۔ امکانی حملوں کو ٹالنے کیلئے جنوبی کشمیر اور تین سو کلومیٹر لمبی جموں سرینگر شاہراہ پر بھی چپے چپے پر سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں کو تعینات کیا گیا۔ شاٹھ گنڈ ہندواڑہ میں حزب کمانڈر و پی ایچ ڈی اسکالر ڈاکٹر منان وانی کی ہلاکت کے بعد پوری وادی میں حفاظت کے غیر معمولی انتظامات کئے گئے ہیں۔ معلوم ہوا ہے کہ امن و قانون کی صورتحال کو برقرار رکھنے کیلئے سیکورٹی فورسز کو چوبیس گھنٹے متحرک رہنے کے احکامات صادر کئے گئے ہیں۔ ذرائع نے بتایا کہ جنوبی اور شمالی کشمیر میں امکانی حملوں کو ٹالنے کیلئے حفاظتی عملے کو مستعد رہنے کا فرمان جاری کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق جنوبی کشمیر کے پلوامہ ، شوپیاںاور کولگام میں سرگرم عسکریت پسندوں کی نقل وحرکت پر گہری نظر رکھی جار ہی ہے تاکہ اُن کے منصوبوں کو ناکام بنایا جاسکے۔ معلوم ہوا ہے کہ جنوبی کشمیر میں پہلے سے ہی اضافی سیکورٹی فورسز کے اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے جبکہ اہم شاہرائوں پر ناکہ لگا کر ہر آنے /جاری صفحہ نمبر ۱۱پر
 جانے والے کی باریک بینی سے تلاشی لی جارہی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حزب کمانڈر منان وانی کو جاں بحق کرنے کے بعد جنوبی کشمیر میں فوج ، پولیس اور پیرا ملٹری فورسز کو کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کیلئے تیار رہنے کا مشور ہ دیا گیا ہے۔دفاعی ذرائع نے اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ امن و امان کو بنائے رکھنے کیلئے جنوبی اور شمالی کشمیر میں سیکورٹی فورسز کو متحرک کیا گیا ہے۔ انہوںنے کہاکہ امکانی حملوں کو ناکام بنانے کیلئے فورسز کو مستعد رہنے کے احکامات صادر کئے گئے ہیں ۔ دفاعی ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ جنگجو کمانڈر کی ہلاکت سے جنگجو تنظیم کو بڑا دھچکا لگ گیا ہے اور ایسے میں ملی ٹینٹ اپنی موجودگی کا احساس دلانے کیلئے کارروائی کرسکتے ہیں۔ اس دوران کشمیر یونیورسٹی میںآج کلاس ورک معطل رکھنے کا اعلان کیاگیا ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں