یکم جنوری تااگست خونین واقعات میں308جانیں تلف - 2017کی طرح2018 بھی لہولہو مہلوکین میں 163 جنگجو،73عام شہری ،44پولیس اہلکاراور28فوجی شامل

سرینگر/کے این این /گرمائی ایجی ٹیشن 2016کے بعدسال2017کے اوائل میں فوج نے فورسزاورریاستی پولیس کے اشتراک سے کشمیروادی میں جنگجوئوں کیخلاف ’آپریشن آل آئوٹ‘‘کااعلان کردیا۔سال2017میں تشددکے مختلف واقعات بشمول معرکہ آرائیوں،پُرتشددمظاہروں اور /جاری صفحہ نمبر ۱۱پر
دراندازی کی کوششوں کے دوران کل384افرادمارے گئے ،جن میں 207جنگجو،52فوجی،33پولیس اہلکار،81عام شہری ،5سی آرپی ایف اہلکاراوربی ایس ایف کے2اہلکاربھی شامل تھے ،اوراس طرح سے گزشتہ سال کافی خونین ثابت ہوا،تاہم رواں سال ہلاکتوں کایہ ریکارڈٹوٹ سکتاہے کیونکہ امسال ماہ جنوری کے اوائل سے ماہ اگست کے اواخرتک جنگجوئیانہ کاروائیوں ،پُرتشددمظاہروں اوردیگرواقعات میں308جانیں تلف ہوچکی ہیں ۔ایجنسی کے پاس دستیاب معلومات کے مطابق رواں برس بھی کشمیرمیں ہلاکتوں کاسلسلہ جاری رہاجبکہ رواں سال سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کی سربراہی والی پی ڈی پی ،بی جے پی مخلوط سرکارکی ایمائ پرمرکزی سرکارنے مئی 2018کے دوسرے ہفتے میں سیزفائریاجنگ بندی کااعلان بھی کیا،اوراسی فیصلے کی بنائ پرپیداشدہ اختلافات کے نتیجے میں بھاجپانے محبوبہ سرکارسے اپنی حمایت واپس لے لی،اورماہ جون2018کے تیسرے ہفتے میں یعنی18جون کومخلوط سرکارگرگئی اورریاست میں گورنرراج نافذکیاگیاجوابھی جاری ہے۔مخلوط سرکارگرجانے کے بعدآپریشن آل آئوٹ میں تیزی لائی گئی ۔دستیاب معلومات کے مطابق جنوری تااگست2018جموں وکشمیروادی میں مختلف مقامات پرہوئے خونین معرکہ آرائیوں ،فدائین حملوں اورپُرتشددمظاہروں نیزلائن آف کنٹرول کے نزدیک دراندازی کی کوشش کوناکام بنانے کے دوران ہوئی جھڑپوں میں کل308افرادمارے گئے ۔جنوری2018میں ایسے پُرتشددواقعات کے دوران کل21جانیں تلف ہوئیں ،جن میں10جنگجو،7شہری اور4پولیس اہلکارشامل تھے ۔فروری2018میں 23جانوں کاضیاں ہوا،جن میں7جنگجو،5عام شہری،5پولیس اہلکاراور6فوجی بھی شامل ہیں ،خیال رہے یہ فوجی اہلکارجموں کے سنجوان علاقہ میں واقع فوجی کیمپ پرہوئے فدائین حملے کے دوران مارے گئے تھے جبکہ یہاں ایک عام شہری بھی ہلاک ہواتھا۔مارچ2018بھی ہلاکت خیزثابت ہواکیونکہ اس دوران29افرادازجان ہوئے ،جن میں17جنگجو،5عام شہری،3فوجی اور4پولیس اہلکاربھی شامل ہیں ۔اپریل کاپہلادن سے ہی خونین آغازہواکیونکہ اول اپریل کوجنوبی کشمیرمیں تین الگ الگ خونین واقعات کے دوران20جانیں تلف ہوئیں ،جن میں13جنگجو،4عام شہری اور4فوجی اہلکاربھی شامل تھے جبکہ کل ملاکراپریل2018کے دوران 41جانیں تلف ہونے کی اطلاع ہے ،جن میں19جنگجو،17عام شہری،4فوجی اہلکاراورایک پولیس اہلکاربھی شامل ہے۔اس طرح سے سال2018کے اولین چارمہینوں کے دوران114جانیں تلف ہوئیں ،جن میں 53جنگجو،34عام شہری اور26سیکورٹی اہلکاربھی شامل بتائے جاتے ہیں ۔دستیاب تفصیلات کے مطابق اپریل کے مئی ،جون ،جولائی ،اگست اورستمبرمیںبھی ہلاکتوں کاسلسلہ جاری رہا،اورمزیدکئی جنگجو،عام شہری اورسیکورٹی اہلکاربھی مارے گئے ۔غیرمصدقہ اطلاعات کے مطابق گزشتہ چار ماہ یعنی مئی ،جون ،جولائی اوراگست کے دوران مزیدلگ بھگ80جانیں تلف ہوچکی ہیں جبکہ ماہ ستمبرکے پہلے گیارہ دنوں میں متعددافرادتشددکے مختلف واقعات کے دوران اپنی جانیں گنواچکے ہیں ۔غیرتصدیق شدہ اعدادوشمارکے مطابق اول جنوری2018سے 11ستمبر2018تک جموں وکشمیرمیں خونین معرکہ آرائیوں ،دراندازی کی کوششوں کے بعدلائن آف کنٹرول کے نزدیک ہوئی جھڑپوں ،جنگجوئیانہ حملوں اورپُرتشددمظاہروں کے دوران ہلاکتوں یااموات کی تعداد400کے ہندسئے کوتجاوزکرچکی ہے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں