نائیٹ فلائیٹس شروع کرنے میں مسلسل رکاوٹیں

 کہنے کو تو سرینگر ائیرپورٹ بین الاقوامی ہوائی اڈہ ہے لیکن انٹر نیشنل ائیر پورٹ کیلئے جن لوازمات کا ہونا ضروری ہے وہ یہاں نہیں ہیں جس کی بنا پر اس ائیر پورٹ کا مقصد ہی فوت ہوجاتاہے۔ 2000کی دہائی کے اوایل میں اس کو انٹر نیشنل ہوائی اڈے کا درجہ دیا گیا اور اس سلسلے میں ایک تقریب بھی منعقد ہوئی۔ جس کے بعد مرکزی وزارت شہری ہوابازی کی طرف سے لوگوں کو اس بات کا یقین دلایا گیا کہ اس ائیر پورٹ سے اب بہت جلد بین الاقوامی سطح پربراہ راست پروازوں کا انتظام کیاجائے گا جسطرح دہلی، ممبئی، کولکتہ اور مدراس کے بین الاقوامی ہوائی اڈوں سے یورپ اور خلیجی ممالک کیلئے براہ راست ہوائی پروازوں کا انتظام ہے یہاں کے لوگوں کو امیدبندھ گئی کہ اسی طرح یہاں بھی اب سرینگر کے ہوائی اڈے سے بین الاقوامی پروازوں کا چلن شروع ہوگا لیکن آج تک اس ہوائی اڈے سے براہ راست کوئی بھی فلایٹ یورپ، یا خلیجی ممالک کیلئے اڑان نہیں بھر سکی ہے۔ ہاں بیچ میں سرینگر اور دوبئی کے درمیان ایک دو مہینوں تک برا ہ راست ہوائی سروس شروع کی گئی تھی لیکن پھر نہ جانے کیا ہوا کہ یہ سروس بھی بند کردی گئی۔ اب اگر یہاں کے لوگوں کو بیرون ملک سفر کرنا ہوتا ہے تو انہیں دہلی جاناپڑتا ہے جہاں سے وہ مطلوبہ یورپی یا خلیجی ممالک کیلئے فلائیٹ پکڑ سکتے ہیں۔ صرف حج فلائیٹس کیلئے ہی یہاں سے جدہ تک براہ راست اڑان کا انتظام ہے۔ اسی طرح دوسرے بین الاقوامی ہوائی اڈوں کے برعکس سرینگر کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کیلئے نائیٹ لینڈنگ کا کوئی انتظام نہیں ہے۔ اس بارے میں متعدد مرتبہ بتایا گیا کہ سرینگر کے ہوائی اڈے سے بہت جلد نائیٹ فلائٹس کا انتظام کیا جائے گا لیکن بار بار کی یقین دہانیوں کے باوجود اب تک ایسا کچھ نہیں کیا گیا ہے یہاں شام چار پانچ بجے کے بعد الو بولتے رہتے ہیں جبکہ بھارت میں جتنے بھی ہوائی اڈے ہیں وہ چوبیس گھنٹے فلائیٹس کیلئے کھلے رہتے ہیں۔ ان ہوائی اڈوں پر دن رات مسافروں کا تانتا بندھا رہتا ہے اور ہوائی اڈوں پر خاصی گہما گہمی رہتی ہے اس سے اکانومی بھی مستحکم ہوجاتی ہے اور ٹیکسی ڈرائیوروں، ہوٹل مالکاں اور دوسرے لوگوں کی آمدن میں بھی اضافہ ہوتا ہے لیکن اب تک سرینگر کے ہوائی اڈے سے نائیٹ فلائیٹس کا بندو بست نہیں کیاجاسکا ہے۔ کبھی اس کیلئے سیکورٹی کو بہانہ بنا یا گیا تو کبھی یہ کہا گیا کہ ہوائی اڈے پر ایسی میشنری دستیاب نہیں جو نائیٹ فلائیٹس کیلئے ضروری تصور کی جا تی ہیں پھر جب یہ مشینری وغیرہ نصب کی گئی تو حال ہی میں کہا گیا کہ سرکاری سطح پر ہر طرح کی تیاریاں مکمل ہوچکی ہیں اور اب صرف ہوائی کمپنیوں کو ہی اپنے نائیٹ شیڈول کے بارے میں ہی متعلقہ حکام کو آگاہ کرنا ہے لیکن اب اس طرح کی اطلاعات موصول ہورہی ہیں کہ ہوائی کمپنیوں نے متعلقہ حکام کو اپنے شیڈول کے بارے میں آگاہ کیا ہے اس کے باوجود یہاں اب تک نائیٹ فلائیٹس کا بندو بست نہیں کیا جاسکا ہے۔ سیاحت کے لحاظ سے یہ ریاست بہت ہی مشہور ہے اگر یہاں نائٹ فلایٹس کا انتظام ہوتا تو سیاحوں، طلبہ ، طالبات اور عام کاروباریوں وغیرہ کو کافی سہولیات مل سکتی تھیں لیکن نہ جانے کیوں سرینگر کے بین الاقوامی ہوائی اڈے سے نائیٹ فلائیٹس کا انتظام ابھی تک نہیں کیاجاسکا ہے۔ اس کے پیچھے کون سی مصلحتیں کارفرما ہیں پتہ نہیں چل سکا ہے۔ تعجب کا مقام ہے کہ خود متعلقہ حکام کا کہنا ہے کہ اسوقت سیکورٹی کا کوئی مسلہ نہیں۔ پھر کیاوجہ ہے کہ اس ہوائی اڈے سے نائیٹ فلائیٹس اب تک شروع نہیں کی جاسکی ہیں جبکہ یہ بین الاقوامی ائیر پورٹ ہے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں