دربار موئو کا فرسودہ عمل ختم کیاجائے

ریاستی حکومت کے دفاتر حسب روایت قدیم جموں کی طر ف اب کوچ کرنے والے ہیں۔ اس سلسلے میں جو کلینڈر جاری کیا گیا اس کی رو سے سرکاری دفاتر یہاں 26اکتوبر کو بند ہوکر جموں میں 6نومبر کو کھل جائینگے۔ گویا دس دن تک یہاں کوئی بھی سرکاری کام کاج نہیں ہوگا۔ ابھی سے سرکاری دفاتر میں فائیلیں وغیرہ بند کرنے کا سلسلہ شروع کردیا گیا ہے اور جب نومبر کے پہلے ہفتے میں جموں میں دربار کھلے گا تو فائلیں وغیرہ کھولنے میں مزید ایک ہفتہ لگ جائے گا اس طرح سرکاری کام کاج تقریباً ایک مہینے تک معطل رہے گا۔ آج کے ڈیجیٹل زمانے میں یہ عجیب سا لگ رہا ہے کہ سرکاری دفاتر میں کام کاج ایک ماہ تک معطل رہے گا۔ اور اس مہینے لوگوں کا کوئی بھی مسئلہ حل نہیں ہوسکے گا۔ اس سے پہلے ان ہی کالموں میں اس بات کا تذکرہ کیاجاچکا ہے کہ دربار موئو سرکار کیلئے سفید ہاتھی ثابت ہورہا ہے اور اس کے ہوتے ہوئے ریاست کبھی بھی اقتصادی میدان میں ترقی نہیں کرسکتی ہے کیونکہ سالانہ دربار موئو پر سرکار کو لاکھوں نہیں کروڑوں کی رقم خرچ کرنا پڑتی ہے۔ اس فرسودہ روایت کو جب تک ختم نہیں کیاجائے گا تب تک کشمیری عوام کو سرمائی ایام کے دوران مصائیب و مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔ دنیا کے کسی بھی ملک میں اس طرح کی فرسودہ روایت نہیں ہوگی جس طرح ہماری اس ریاست میں ہے۔ جغرافیائی لحاظ سے اس ریاست کی ٹوپو گرافی کافی پیچیدہ ہے اگرچہ اس کو قدرت نے بے پناہ حسن سے نوازا ہے اور سیاح دور دراز ملکوں سے اس کی سیر کرنے آتے تھے لیکن جب سے یہاں سیاسی طور پر اتھل پتھل شروع ہوگئی اور گن کلچر نے کشمیری سماج کو اپنی لپیٹ میں لیا تب سے یہاں کی اقتصادی حالت بد سے بد تر ہونے لگی۔ اس ریاست اور خاص طور پر وادی کی اقتصادیات کا دارو مدار ٹوارزم سیکٹر پرتھا لیکن اب یہاں سیاحوں کی آمد برائے نام رہ گئی ہے کیونکہ یہاں کے حالات کو جس طرح نئی دہلی کی پرائیویٹ چنلز کی طر ف سے پیش کیاجارہا ہے ان کو مد نظر رکھ کر سیاح یہاں آنے سے کترانے لگے ہیں حالانکہ وادی اب بھی سیاحوں کیلئے جنت سے کم نہیں اور نہ یہاں کے حالات اس قدر خراب ہیں کہ سیاح یہاں آنہ سکیں لیکن ٹی وی چنلوں کے منفی پرو پاگنڈے نے تو سیاح کو اس ریاست کی سیر کرنے سے روکنے میں اہم رول ادا کیا۔ اسی طرح بعض ٹریول ایجنسیاں بھی سیاحوں کو ڈرا کر اس ریاست اور خاص طور پر وادی کی سیاحت سے روک کر انہیں وادی کے حالات کے بارے میں من گھڑت باتیں بتاکر ان کو ہماچل وغیرہ کی سیر کی طرف راغب کرتی ہیں، اس سے ہر کوئی اندازہ لگاسکتا ہے کہ اس ریاست کی اقتصادی حالت کیسی ہوگی اس کو دیکھتے ہوئے سالانہ دربار موئو کی فرسودہ روایت کو ختم کرنے کی ضرورت تھی لیکن نہ جانے کیوں اس کو جاری رکھ کر اس ریاست پر قرضوں کا بوجھ بڑھایا جاتا ہے۔ نوٹ بندی اور جی ایس ٹی کے بعد پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے پہلے ہی لوگوں کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے ۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ جموں والوں کو فایدہ پہنچانے کیلئے ہی یہ سب کچھ کیاجاتا ہے اسلئے ضرورت اس بات کی ہے کہ ریاستی حکومت اس کا کوئی ایسا حل تلاش کرے جس کے نتیجے میں دربار موو جیسے سفید ہاتھی سے لوگوں کو چھٹکارا مل سکے۔ اگر دربار موئو کا فرسودہ عمل ختم ہوجائے گا تو ریاستی حکومت کو سالانہ کروڑوں روپے کی بچت ہوگی ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں