بلدیاتی انتخابات کا بائیکاٹ اور آرٹیکل 35A

حال ہی میں اختتام پذیر بلدیاتی انتخابات کے بارے میں جو اعداد وشمار ظاہر کئے گئے ہیں ان سے اس بات کا بخوبی پتہ چلتا ہے کہ لوگوں نے ان انتخابات کا بائیکاٹ کیا ہے اور ان میں کسی بھی قسم کی دلچسپی ظاہر نہیں کی ہے ۔ لوگوں کو اس بات سے کوئی سروکار نہیں کہ کون جیتا اور کون ہارا۔ لیکن ایک بات عوام نے واضح کردی ہے کہ اگر آئین کی دفعہ 35Aاور 370کے ساتھ کسی قسم کی چھیڑچھاڑ کی گئی تو وہ کسی بھی حد تک جاسکتے ہیں۔ کیونکہ لوگوں نے اسی مسلئے کو لے کر بائیکاٹ کیاتھا۔ بلدیاتی انتخابات چار مراحل میں کئے گئے اور ہر مرحلے کے بعد شام کو جو اعداد وشمار ظاہرکئے گئے ان سے پتہ چلا کہ سو میں سے 95لوگوں نے ووٹوں کا بائیکاٹ کیا۔ لوگوں نے کیوں پولنگ کا بائیکاٹ کیا کیونکہ لوگ چاہتے ہیں کہ آئین کی دفعہ 35Aکے ساتھ کسی قسم کی چھیڑ چھاڑ نہ کی جائے کیونکہ ملک میں کئی ایسے عناصر سر اٹھانے لگے ہیں جو اس دفعہ کو ختم کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور اسی کڑی کے طور پر سپریم کورٹ میں مقدمہ بھی دائیر کردیاگیا ہے جو ابھی زیر سماعت ہے۔ تعجب تو اس بات کا ہے کہ آئین ہند کی ایسی ہی دفعات صرف ریاست جموں کشمیر میں ہی نافذ نہیں بلکہ بعض شمال مشرقی ریاستوں میں بھی ہیں لیکن ان کی طرف کوئی توجہ نہیں دی جارہی ہے اور نہ کسی طرف سے اس بارے میں کوئی آواز اٹھ رہی ہے کہ انہیں ختم کیاجائے۔ صرف اسی ریاست کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ اس کو آئین ہند کی بعض دفعات کے تحت جو خصوصی پوزیشن حاصل ہے اُس کو ختم کیاجائے۔ لیکن ایسے عناصر کو معلوم ہونا چاہئے کہ اس کی کئی وجوہات ہیں چونکہ معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے اس لئے اس پر زیادہ کچھ نہیں کہا جاسکتا ہے لیکن اتنا ضرور ہے کہ کشمیری عوام نے حالیہ انتخابات کابائیکاٹ کرکے اس بات کا بر ملا اعلان کیا ہے کہ وہ کسی بھی قیمت پر اس دفعہ کو ہٹانے کے حق میں نہیں ہیں۔ حالیہ بلدیاتی چنائو کے بارے میں جو اعداد وشمار موصول ہوئے ہیں ان کے مطابق وادی کے 69فیصد وارڈوں میں ووٹ ہی نہیں ڈالے گئے جبکہ 181وارڈ خالی رہے جن پر کسی بھی امیدوار نے کاغذات نامزدگی داخل نہیں کئے تھے۔ 244امیدواروں کو بلا مقابلہ کامیاب قرار دیا گیا۔ ان اعداد وشمار سے اس بات کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہ کس نوعیت کے انتخابات ہونگے۔ لوگوں نے پہلے ہی اس بات کااعلان کیاتھا کہ وہ آئین کی دفعہ 35Aاور 370کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کے خلاف ووٹنگ کا بائیکاٹ کرینگے اور لوگوں نے یہ کرکے دکھایا۔ اس لئے گورنر انتظامیہ کو کشمیری عوام کے جذبات سے مرکزی حکومت کو آگاہ کرنا چاہئے اور انہیں حالیہ بلدیاتی انتخابات کے بائیکاٹ کے بارے میں بھی صحیح اعداد وشمار کی روشنی میں مرکزی حکومت کو اس بات سے آگاہ کرنا چاہئے کہ لوگوں نے کن وجوہات کی بنا پر الیکشن کا بائیکاٹ کیاتھا۔ اسلئے بہتر یہی ہے کہ ریاست کو آئین کی متذکرہ بالا دفعات کے تحت جو خصوصی پوزیشن حاصل ہے اس کو ہر صورت میں برقرار رکھا جائے اور اس کے ساتھ کسی کو بھی چھیڑ چھاڑ کرنے کی اجازت نہ دی جائے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں