بیرون ریاست زیر تعلیم کشمیری طلبہ کی واپسی

 پنجاب اور بھارت کی کئی دوسری ریاستوں میں زیر تعلیم و تربیت کشمیری طلبہ کے ساتھ جو سلوک کیاجارہا ہے اس پر ہر کشمیری کو تشویش لاحق ہورہی ہے۔ اگرچہ مرکزی حکومت اور خود وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے بار بار اس بات کا یقین دلایا کہ بیرون ریاست کشمیری طلبہ کو بھر پور تحفظ فراہم کیاجائے گا لیکن زمینی سطح پر جو صورتحال پائی جاتی ہے وہ بالکل مختلف ہے اور بیرون ریاست جو بھی کشمیری طالب علم کسی بھی ادارے میں زیر تعلیم یا زیر تربیت ہے وہ کسی بھی طور محفوظ نہیں کیونکہ پنجاب، ہریانہ اور یوپی کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں جہاں کشمیری طلبہ کا قافیہ حیات تنگ کیاجارہا ہے اور اب یہ اطلاعات موصول ہورہی ہیں کہ پنجاب اور ہریانہ کے بیشتر اداروں میں زیر تعلیم یا زیر تربیت کشمیری طلبہ نے اپنی تعلیم ادھوری چھوڑ کر واپس گھروں کو لوٹنے کافیصلہ کرلیا ہے۔ اس سے ان کے والدین پر کیاگذری ہوگی یہ وہی جانتے ہیں لیکن ایک بات ضرور ہے کہ ایسا نہیں ہونا چاہئے تھا کیونکہ اسے کشمیری طلبہ کے ساتھ جبر و زیادتیوں سے تعبیر کیاجاسکتا ہے۔ کشمیر میں ملی ٹینسی سے کوئی انکار نہیں کرسکتا ہے لیکن جو طلبہ بیرون ریاست تعلیم و تربیت حاصل کرنے جاتے ہیں ان کا ملی ٹینسی کے ساتھ کوئی بھی تعلق نہیں ہوتا ہے بلکہ وہ ہر صورت میں معصوم اور بے گناہ ہیں لیکن ان ہی کیخلاف اور تو اور پولیس نے بھی ایک مہم سی چھیڑ رکھی ہے۔ گذشتہ دنوں پولیس نے جالندھر کے ایک کالج ہوسٹل پر چھاپہ مار کر کئی کشمیری طلبہ کو گرفتار کرلیا۔ ان کو کسی عدالت میں پیش کئے بغیر یا مقدمہ دائیر کئے بنا ہی ان پر جنگجو تنظیموں کیلئے کام کرنے کا الزام عاید کیا گیا۔ اس طرح کشمیر پولیس نے بیرون ریاست تما م کے تمام کشمیری طلبہ کو شک کے دائرے میں لاکر ان کے مستقبل کو تاریک بنانے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑ رکھی۔ پولیس نے یہ تک کہہ دیا کہ ان کے ہوسٹل کے کمرے سے مبینہ طور ہتھیار بھی بر آمد کئے گئے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ کس بھی پروفیشنل یا دوسرے کالجوں میں داخلے سے قبل تلاشی لی جاتی ہے اور سامان کی تلاشی کیلئے ایکسرے مشین بھی ہوتی ہے۔ کشمیری طلبہ کے بارے میں قبل از وقت یہ کہنا کہ ان کا بقول پولیس جنگجو تنظیموں کے ساتھ رابط ہے نہ سمجھنے والی بات ہے۔ اس کے بعد ایک اورکشمیری طالب علم کو گرفتار کیا گیا۔ نتیجے کے طور پر پولیس کی اس کاروائی کے بعد پنجاب میں ان مالکان مکان نے کشمیری طلبہ کو اپنے کمروں سے بیدخل کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہے جن کے ہاں کشمیر طلبہ کئی کئی سالوں سے بطور کرایہ دار رہ رہے ہیں لیکن ان کو بھی مشکوک بنادیا گیا۔ اگر کسی کشمیری طالب علم کا کوئی دوست، رشتہ دار یا جان پہچان والا ملی ٹینسی سے وابسطہ ہے تو اس کی سزا اس کشمیری نوجوان کو کیوں دی جائے گی جو بیرون ریاست کسی ادارے میں زیر تعلیم و تربیت ہے۔ اب اس سلسلے میں کشمیری عوام میں زبردست تشویش پھیلی ہوئی ہے کیونکہ بہت سے طلبہ واپس گھروں کو لوٹ رہے ہیں انہوں نے اب تک کروڑوں کی رقم بطور فیس ان اداروں میں جمع کررکھی ہے۔ جن کے بل بوتے پر یہ ادارے چل رہے ہیں اور اگر کشمیری طلبہ کی واپسی شروع ہوجائے گی تو یہ ان کے ساتھ ظلم اور ان کے کئیریر کو تباہ کرنے کے مترادف قرار دیاجاسکتاہے۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں