عام شہریوں کی ہلاکتیں

کولگام میں عام شہریوں کی ہلاکتوں پر پوری وادی سوگوار ہے۔ ہر آنکھ نم ہے اور ہر دل خون کے آنسو رو رہا ہے۔ اب کوئی بھی دن ایسا نہیں گذرتا ہے جب تین چار جنازے نہ اٹھتے ہوں۔ ہر سمت آہ و زاری کی جارہی ہے۔ پوری وادی میں شہری ہلاکتوں پر رنج و غم کا اظہار کیا جارہا ہے۔ یہ سب کیوں ہوا اور کیسے ہوا اس سے قطع نظر دیکھنا یہ ہے کہ ہر روز کتنی مائو ں کی گود سونی ہورہی ہے اور کئی سہاگنیں بیوہ ہورہی ہیں۔ کتنے بچوں سے ان کے والدین کا سایہ سر سے اٹھ جاتا ہے اور کتنے بوڑھے والدین سے ان کے بڑھاپے کے سہارے چھین لئے جاتے ہیں۔ اب تو یہ معمول بنادیا گیا ہے کہ جب بھی فورسز اور جنگجو نوجوانوں کے درمیان جھڑ پ ہوتی ہے تو شہری ہلاکتیں بھی ہوتی ہیں ایسے شہریوں کو موت سے ہمکنار کیاجاتا ہے جن کے پاس نہ بندوق نہ بم ہوتا ہے بلکہ وہ نہتے ہو تے ہیں۔ حال ہی میں شہر کے سید علی اکبر علاقے میں فورسز اور جنگجو نوجوانوں کے درمیان جھڑ پ میں بھی ایک عام شہری کو موت سے ہمکنار کردیا گیا اور اس کے صرف دو روز بعد ہی پلوامہ میں ایک جواں سال خاتون جس کے بارے میں بتایا گیا کہ وہ حاملہ تھی کو اس کے گھر میں گولیوں کا نشانہ بناکر ابدی نیند سلادیا گیا۔ گو یا جب بھی موقعہ ملتا ہے عام شہریوں کا خون بہانے سے گریز نہیں کیا جاتا ہے۔ یہ آج کی بات نہیں بلکہ گذشتہ تین دہائیوں سے ایسا ہوتا آیا ہے وادی میں افسپا نافذ ہے اور اس کی آڑ میں معصوم، بے گناہ، بے قصور اور نہتے شہریوں کا خون بہانے سے گریز نہیں کیاجاتا ہے۔ ہر موقعے پریہ کہا جاتا ہے کہ انہوں نے فورسز پر حملہ کیا اور جوابی حملے میں وہ مارے گئے لیکن جس حاملہ خاتون کو اس کے گھر میں گولی کا نشانہ بنایا گیا اس نے کس پر حملہ کیا تھا؟ افسپا کے ہوتے ہوئے اگرچہ فورسز سے کسی بھی طرح کی جواب طلبی نہیںکی جاسکتی ہے اور نہ ہی ان کیخلاف کوئی قانونی کاروائی کی جاسکتی ہے لیکن انسانیت بھی کوئی چیز ہوتی ہے اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ انسانی حقوق کی بھی کوئی اہمیت ہو تی ہے۔ اب تو فورسز کی طرف سے عام شہریوں کیخلاف ویسی ہی جوابی کاروائی کی جاتی ہے جیسی مسلح جنگجو نوجوانوں کیخلاف کی جاتی ہے۔ گذشتہ دنوں گورنر نے اس بات کا اعلان کیا کہ وادی میں حالات آہستہ آہستہ معمول پر آرہے ہیں اس کے بعد وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے بھی لکھنومیں اخباری نمایندوں کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ بقول ان کے کشمیر میں حالات معمول پر آرہے ہیں ابھی ان کے بیان کی سیاہی سوکھی بھی نہ تھی کہ سات نہتے، بے گناہ اور معصوم شہریوں کا خون بہادیا گیا۔ اس بارے میں جو کچھ بھی کہا جائے گا لیکن لوگوں کو معلوم ہے کہ حقایق کیا ہیں۔ انسانی حقوق کی علمبرداری کے دعویداروں کو اس بات کا احساس ہونا چاہئے کہ عام اور نہتے شہریوں کا خون بہانے سے وہ کچھ حاصل نہیں کرسکتے ہیں بلکہ اس سے عوام میں نفرتوں کا سمندر امڑ آتا ہے اور لوگ سوچنے پر مجبور ہوجاتے ہیں کہ آخر ان کا کیا قصور ہے جو ان کو بار بار اور ہر بار سزائے موت دی جاتی ہے اور اس پر اظہار تاسف یا ندامت ظاہر کرنے کے بجائے ڈھٹائی سے ایسی تاویلیں پیش کی جارہی ہیں کہ لوگ خاموش رہنا ہے پسند کرتے ہیں۔ اب کشمیری ہر دکھ ، درد کو سہنے کے عادی ہوگئے ہیں۔ عام شہریوں کی ہلاکتوں کا کوئی بھی جواز نہیں ہوتا ہے بلکہ اسے جبر و تشدد کا ہی نام دیا جاسکتا ہے۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں