سانحہ کولگام پر ہر آنکھ اشکبار

کولگام میں عام شہریوں کی ہلاکتوں نے ایک بار پھر پوری دنیا کی توجہ کشمیر کی جانب مبذول کروائی کیونکہ کسی بھی مہذب سماج میں عام شہریوں کی ہلاکتوں کو قابل قبول قرار نہیں دیا جارہا ہے۔ دنیا کے مختلف ممالک نے عام شہریوں کی ہلاکتوں پر افسوس کا اظہار کیا۔کشمیری عوام کیلئے سانحہ کولگام کسی قیامت سے کم نہیں کیونکہ وہاں جو کچھ ہوا اور جس طرح عام شہریوں کے خون سے کولگام کی سر زمین لالہ زار بن گئی اس سے ہر دل خون کے آنسو رونے پر مجبور ہوگیا۔ لیکن یہاں جو افسپا کی تلوار کشمیریوں کے سر پر لٹکا کر رکھی گئی اس کے ہوتے ہوئے ایسے واقعات میں ملوث کسی کیخلاف بھی کوئی قانونی کاروائی نہیں کی جاسکتی ہے۔ نورباغ میں ایک معصوم نوجوان کے پولیس گاڑی کے نیچے کچل کر رکھ دیا گیا ۔اس کی ویڈیو بھی وائیرل ہوگئی لیکن کسی کیخلاف بھی کوئی کاروائی نہیں کی گئی ۔اب کل ایک اور ویڈیو وائیرل ہوگئی جس میں سانحہ کولگا م کے حوالے سے فورسز پر سنگین الزامات عاید کئے گئے اگرچہ ان الزامات کو مسترد بھی کردیا گیا لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ قصبے میں جواس قدر خون بہہ گیا کہ انسانیت کی روح بھی کانپ اٹھتی ہے۔ اس کی ذمہ داری کس پر ڈال دی جائے ۔ عین شاہدین کے مطابق اگرچہ جائے واردات پر دھماکہ بھی ہوا لیکن جو عام شہری جاں بحق ہوگئے ان میں سے بعض کے جسموں پر گولیوں کے نشانات تھے جس کی تصدیق ڈاکٹروں نے بھی کی اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ وہاں جنگجو اور فورسز کے درمیان معرکہ آرائی کے بعد جو مظاہرے کئے گئے اس دوران مظاہرین پر قابو پانے کیلئے ان پر گولیاں بھی چلائی گئیں اور پیلیٹ چھرے بھی استعمال کئے گئے۔جس سے ہلاکتیں بھی ہوئیں اور بہت سے نوجوانوں کی آنکھوں میں پلیٹ چھرے گھس گئے اور اس وقت وہ ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔کولگام میں زخمیوں کی تعداد ساٹھ سے زیادہ بتائی گئی جن میں سے کل یعنی سوموار کوبھی کئی نازک زخمیوں کو صورہ میڈیکل انسٹی چیوٹ ریفر کیاگیا ۔ جہاں وہ زیر علاج ہیں ۔اس سانحے پرکل نہ صرف وادی بلکہ چناب خطے میں بھی لوگوں نے فورسز کیخلاف اپنے غم و غصے کا اظہار کرنے کیلئے احتجاجی ہڑتال کی اور بہت سے مقامات پر ریلیاں بھی نکالی گئیں جن میں شامل افراد نے سانحہ کولگام پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اس کی مذمت کی۔ کوئی بھی واقعہ ہو پولیس کو ایف آئی آر لازمی طور پر درج کرنا ہوتا ہے کیونکہ ایف آئی آر کا مطلب ہوتا ہے فسٹ انفارمیشن رپورٹ لیکن ایسا لگتا ہے کہ پولیس نے اس سانحہ کے حوالے سے کوئی قانونی کاروائی نہیں کی ۔یہ الگ بات ہے کہ ملوثین کیخلاف کوئی کاروائی کی جاتی ہے یا نہیں پولیس کو بھی اپنی ذمہ داریاں نبھانی چاہئے تھیں۔ افسپا کے نفاذ کے بعد یہاں جتنی بھی شہری ہلاکتیں ہوئیں کسی بھی ملوث اہلکار کیخلاف کوئی بھی کاروائی نہیں کی گئی بلکہ ایسا لگتا ہے کہ ان کو ترقیاں بھی دی گئیں ہونگی۔ اب سانحہ کولگام نے سب کشمیری لوگوں کے جگر پارہ پارہ کردئے۔ لوگ چاہتے ہیں اس سانحے کے سلسلے میں عدل و انصاف کے تقاضوں کو پورا کیا جائے تاکہ غریب اور بے سہارا کنبوں کی باز آباد کاری ممکن بنائی جاسکے۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں