میڈیکلیم انشورنس پالیسی میں دھاندلیاں

ریاست کے گورنر ستیہ پال ملک نے کہا کہ اس ریاست میں جتنی رشوت ستانی ہے اتنی کسی بھی دوسری ریاست میں نہیں ہے۔ اپنی اس بات کی انہوں نے دلیل بھی پیش کی اور کہا کہ یہاں کا معمولی کے اے ایس افسر اتنی ٹھاٹھ باٹھ سے رہتا ہے جس کا کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا ہے اس کے ساتھ ہی انہوں نے ریاستی انتظامی کونسل کی طرف سے قایم کئے گئے اینٹی کورپشن بیورو کے قیام کو حق بجانب قرار دیا اور کہا کہ اب کسی بھی افسر یا اہلکار کو دھاندلیوں کا موقعہ فراہم نہیں کیا جائے گا۔ ایک نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو کے دوران انہوں نے بتایا کہ وہ اس ریاست میں رشوت کا قلع قمع کرکے ہی دم لینگے۔ اس دوران انہوں نے اس بات کا سنسنی خیز انکشاف کیا کہ سرکاری ملازمین کیلئے جو میڈیکلیم انشورنس پالیسی کی گئی اس میں بے شمار دھاندلیاں کی گئی ہیں اور اس کو نہ صرف منسوخ کیاگیا بلکہ اس کی تحقیقات کے احکامات صادر کئے گئے۔ گورنر نے کہا کہ کئی بڑے پروجیکٹوں میں بھی دھاندلیاں کی گئی ہیں انہوں نے کہا کہ ایک محکمے نے ندی کے اوپر باندھ باندھنے کیلئے ایک سو کروڑ کے پروجیکٹ کو منظوری دی جبکہ تخمینہ لاگت میں کمائی کی رقم کا 35فی صد حصہ الگ سے رکھا گیا تھا۔ چنانچہ ان ٹینڈروں کو منسوخ کرکے اس کی تحقیقات کا حکم دیاگیا۔ اسی طرح ملازمین کی انشورنس سکیم کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ انتہائی سنگین ہے۔ اور اس میں جو دھاندلیاں کی گئی ہیں اس میں بڑے بڑے مگر مچھ ملوث ہیں۔ چنانچہ اس کی جانچ کے بعد جب یہ پایا گیا کہ اس سکیم میں بے پناہ دھاندلیاں کی گئیں تو اس کو منسوخ کردیا گیا۔ گورنر نے انکشاف کیا کہ سرکار نے ٹینڈر نہیں مانگے تھے بلکہ ایک مخصوص کمپنی کی سب کمیٹی نے ٹھیکے مانگے تھے اور وہ ٹھیکے ہماری سرکاری ویب سائیٹ پر کہیں نہیں دکھائے گئے۔ ٹینڈر سے ایک خاص کمپنی کو فایدہ پہنچانے کی کوشش کی گئی تھی گورنر نے مزید انکشاف کیا کہ جس روز ٹینڈر کھولا گیا اس روز چھٹی کا دن تھااور اسی چھٹی کے دن ٹینڈر کھول کر اس کمپنی کو ٹھیکہ دیا گیا۔ چنانچہ گورنر کا کہنا تھا کہ وہ اس سارے معاملے کی جڑ تک گیا اور پایا کہ اس میں بڑے بڑے مگر مچھ ملوث ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آمدن بڑھانے کیلئے اس پالیسی میں مزید سرکاری اور غیر سرکاری ملازمین کو شامل کیاگیا۔ گورنر نے انکشاف کیا کہ انہوں نے کئی افسروں کو دیکھا جن کے پاس بڑے بڑے بنگلے ہیں اور ان میں کروڑوں کے قالین اور دوسری چیزیں موجود ہیں۔ کورپش کا قلع قمع کرنے کے بارے میں گورنر نے جن اقدامات کا اعلان کیا ہے ان کی عوامی حلقوں میںسراہنا کی جارہی ہے اور لوگ بھی چاہتے ہیں کہ اس ریاست سے رشوت کا خاتمہ ہوجائے کیوں کہ جو افسر رشوت لیتے ہیں وہ لوگوں کے خون پسینے کی کمائی ہوتی ہے جسے وہ ہڑپ کرجاتے ہیں۔ انشورنس پالیسی میں ہوئی دھاندلیوں کو گورنر نے جس طرح بے نقاب کیا اس پر ہر مکتب فکر نے اطمینان کا اظہار کیا ہے اور کہا کہ اس ریاست کی اقتصادیات کو کھوکھلا کرنے والے افسروں اور اہلکاروں کو قید وجرمانے کی سز ا نہیں بلکہ پھانسی پر لٹکایا جانا چاہئے تاکہ دوسرے افسر عبرت حاصل کرسکیں۔ اس کے ساتھ ہی عوام کا مطالبہ ہے کہ جو لوگ خواہ وہ کسی بھی اثر و رسوخ کے مالک کیوں نہ ہوں انشورنس بے ضابطگیوں میں ملو ث ہوں کو نہ صرف بے نقاب کیاجائے بلکہ ان کو عوامی عدالت میں پیش کرکے ان کو سر عام سزا دی جائے۔ کورپشن میں خاتمے کیلئے گورنر جو بھی اقدامات اٹھاینگے وہ عام لوگوں کو اپنے ساتھ پاینگے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں