بدعنوانیوں میں ملوث افسروں کی نشاندہی کی جائے,

,

ریاستی گورنر کی طرف سے گذشتہ کئی دنوں سے ایسے بیانات سامنے آرہے ہیں جو اس ریاست کے طول وعرض میں موضوع بحث بنے ہوئے ہیں۔ گورنر کی طرف سے ملازمین کیلئے میڈیکلیم انشورنس سکیم کو منسوخ کرنے کے اقدام کی جہاں سراہنا کی جارہی ہے وہیں دوسری جانب ان کی طرف سے یہ کہنا کہ اس ریاست میں کورپشن سب سے زیادہ ہے پر عوامی حلقوں میں شدید ردعمل ظاہر کیاجارہا ہے۔ کیونکہ اس سے اس ریاست کی شبیہ متاثر ہورہی ہے۔ گورنر نے گذشتہ دنوں اس بات کا انکشاف کیا ملازمین کیلئے جو میڈیکلیم انشورنس سے متعلق پالیسی بنائی گئی اس فایل پر ان سے دھوکے سے دستخط لئے گئے کیونکہ بقول ان کے انہیں ابھی راج بھون میں پانچ چار دن ہی ہوگئے تھے۔ چنانچہ بعد میں انہوں نے اس سارے معاملے کا جائیزہ لیا اور پایا کہ ایک مخصوص کمپنی کو فایدہ پہنچانے کیلئے یہ سکیم شروع کی گئی ہے چنانچہ گورنر نے اسی وقت یہ آرڈر منسوخ کیا۔ اس کے بعد انہوں نے ایک ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے اس بات کا انکشاف کیا کہ جے کے بنک میں جو تقرریاں عمل میں لائی گئیں اس میں مبینہ طور دھاندلیاں کی گئی ہیں۔ اس سلسلے میں انہوں نے ان چالیس ناکام امیدواروں کے ساتھ حالیہ ملاقات کے تناظر میں کہا کہ ان اُمیدواروں نے گورنر کو بتایا کہ وہ کامیاب ہوئے تھے لیکن ان کو ناکام دکھایا گیا اور بقول ان کے منظور نظر امیدواروں کو تعینات کیا گیا۔ لیکن گورنر کے اس بیان پر بنک کے چیئرمین نے جو پہلا ردعمل ظاہر کیا اس میں انہوں نے ان الزامات کو مسترد کردیا جن میں بتایا گیا کہ بھرتی عمل میں دھاندلیاں کی گئی ہیں انہوں نے کہا کہ بھرتی عمل شفاف طریقے پر عمل میں لایا گیا اور قومی سطح کی بھرتی ایجنسی IBPSکی طرف سے مرتب شدہ گوشوارے میں چھیڑ چھاڑ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے کیونکہ سارا معاملہ آن لائین ہوتا ہے جس میں کوئی بھی شخص من مانی نہیں کرسکتا ہے۔ بنک چیئرمین نے کہا کہ بنک بھرتیوں میں کوئی بھی بے ضابطگی نہیں کی گئی ہے۔ سابق وزیر خزانہ نے بھی گورنر کے ریمارکس پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بنک میں تقرریاں جس طریقے پر عمل میں لائی گئی ہیں ان میں کسی دھاندلی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے اور اگر واقعی بقول گورنر کوئی بے ضابطگی ہوئی ہے تو گورنر کو ان افراد کے نام ظاہر کرنے چاہئے جو اس میں ملوث ہونگے۔ پی ڈی پی کے سابق وزیرتعمیرات نعیم اختر نے بتایا کہ گورنر کے بیان سے سارے کشمیر کی بدنامی ہورہی ہے۔ جبکہ عام لوگوں کا کہنا ہے کہ ہر معاشرے میں اچھے اور برے دونوں طرح کے لوگ ہوتے ہیں اور ہوسکتا ہے کہ انفرادی طور پر کوئی افسر غلطیوں کا بھی مرتکب ہورہاہو لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہر ایک کشمیری کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکا جائے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر گورنر صاحب معاشرے سے رشوت ستانی کا خاتمہ چاہتے ہیں تو انہیں فوری طور پران افسروں کی نشاندہی کرنی چاہئے جو رشوت خور ہوں اور جنہوں نے اپنی کرتوتوں سے پورے معاشرے کو بدنام کیا ہوا ہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ گورنر کو اگر کسی افسر یا اہلکار کی کارکردگی پر شک ہو تو اس کی نشاندہی کرکے اسے ثبوت سمیت پکڑ ا جانا چاہئے اور اس کے بعد ہی اس کیخلاف قانونی کاروائی کی جانی چاہئے۔

,
مزید دیکهے

متعلقہ خبریں