نئے کالجوں کا قیام

ایک مقامی خبر رساں ایجنسی نے اپنی حالیہ رپورٹ میں اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ موجودہ گورنر انتظامیہ نے ریاست میں بغیر اراضی اور مالی معاونت کی منظوری کے 26ڈگری کالجوں کے قیام کا فیصلہ کیا ہے اور ان جگہوں کی نشاندہی بھی کردی گئی جہاں ان کالجوں کو قایم کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ خبر رساں ایجنسی کے این ایس نے اس سلسلے میں بتایا کہ سابق مخلوط حکومت کے دور میں26کالجوں کے قیام کی منظوری دی گئی تھی لیکن سابق گورنر این این ووہرہ نے بتایا تھا کہ ان کے قیام میں ضابطوں کو مد نظر نہیں رکھا گیا اسلئے ان منصوبوں پر کام شروع نہ کرنے کے احکامات صادر کئے گئے تھے اور اس طرح یہ معاملہ سرد خانے میں چلا گیا لیکن موجودہ گورنر انتظامیہ نے ان تمام کالجوں کو قطعہ اراضی کی کمی اور فنڈز کی عدم دستیابی کے باوجود منظور کردیا اور کہا کہ ان کالجوں کو جلد از جلد قایم کیا جانا چاہئے۔ خبر رساں ایجنسی نے یہ بھی لکھا ہے کہ جن علاقوں میں کالجوں کی تعمیر کیلئے قطعہ اراضی کی نشاندہی عمل میں لائی گئی تھی موجودہ گورنر انتظامیہ نے ان کو منسوخ کرکے چوبیس کے بجائے 26کالج تعمیر کرنے کی منظوری دی ہے۔ اس سے یہ بات ظاہر ہوگئی ہے کہ موجودہ گورنر انتظامیہ تعلیم کو فروغ دینا چاہتی ہے اور اسی لئے کالجوں کے تعمیر کی منظوری دی گئی۔ لیکن اس کے ساتھ ہی یہ بھی درست ہے کہ اگر کالجوں کے قیام کو منظوری دی گئی ہے تو وہ کالج کہاں اور کس کی اراضی پر تعمیر کئے جاینگے جبکہ اس مقصد کیلئے ابھی تک اراضی کی بھی نشاندہی نہیں کی گئی ہے۔ جبکہ کالج تعمیر کرنے کیلئے جو رقومات درکار ہیں وہ بھی ابھی تک واگذار نہیں کی جاسکی ہیں۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ گورنر انتظامیہ نے ان جگہوں کو تبدیل کردیا جہاں سابق دور حکومت میں کالجوں کے قیام کی منظوری دی گئی تھی۔ کالج تو ہوا میں تعمیر نہیں ہونگے اور نہ ہی اس وقت تک تعمیر ہوسکتے ہیں جب تک اس مقصد کیلئے درکار رقومات واگذار نہیں کی جاینگی۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ جن کالجوں کاقیام دو چار برس قبل عمل میں لایا گیا تھا ان میں بنیادی ڈھانچہ تک نہیں ہے جس کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ کئی علاقوں میں ڈگر ی کالج صرف دو چار کمروں میں کا م کررہے ہیں۔ یعنی نہ لیبارٹری اور نہ ہی لائیبرریری ہے۔ پریکٹیکل ورک کا کہیں نام و نشان تک نہیں ہے اور نہ ہی پڑھنے کیلئے کتابین ان کالجوں میں موجود ہیں کیونکہ جب لائیبریرری ہی نہیں تو کتابیں کہاں سے موجود ہونگی ۔ آج کل سکولوں اور کالجوں میں لیبارٹریوں کا ہونا لازمی ہے لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ یہاں دور دراز علاقوں میں قایم کئے گئے کالجوں میں انفرا سٹرکچر کی کمی ہے ان حالات میں بچے پڑھیں گے تو کیسے ؟ اسلئے نئے کالجوں کاقیام عمل میں لانے سے قبل یہ بات یقینی بنائی جائے کہ ان کالجوں کی تعمیر کیلئے نہ صرف اراضی کی نشاندہی کی جائے بلکہ کالج کیلئے بھر پور فنڈز دستیاب رکھے جائیں۔ تب کہیں جاکر بچے اچھی طرح سے لکھ پڑھ سکتے ہیں۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں