سنتوں کا حکومت کو مذہبی فرمان، رام مندرکیلئے آرڈیننس لایا جائے

نئی دہلی﴿یواین آئی﴾ملک بھر سے آئے تین ہزار سے زائد سادھوسنتوں نے مرکزی اور اترپردیش حکومتوں کو کل ’مذہبی فرمان ‘جاری کیاکہ وہ قانون یا آرڈیننس یا کسی دوسرے طریقہ سے اجودھیا میں رام جنم بھومی پر عالی شان رام مندر کی تعمیر کی راہ ہموارکریں ۔ اکھل بھارتیہ سنت سمیتی کے یہاں تال کٹورا اسٹیڈیم میں منعقدہ دوروزہ ’دھرمادیش سنت مہاسمیلن‘کے اختتام کے موقع پر سمیتی کے صدر جگدگرو رامانند چاریہ ہنسدیواچاریہ نے مذہبی فرمان پڑھ کر سنایا۔سمیتی کے قومی قومی مہامنتری سوامی جتیندرانند سرسوتی نے صحافیوں سے کہا،رام مندر کے لئے حکومت قانون لائے یا آڈیننس ،یہی ہے سنتوں کا مذہبی فرمان ۔ انہوںنے کہاکہ حکومت چاہے تو سپریم کورٹ سے درخواست کرسکتی ہے کہ رام مندر کے تعلق سے عوام میں بہت زیادہ جوش وخروش ہے اور امن وقانون صورتحال خراب ہوسکتی ہے اس لئے اس معاملہ کی سماعت جلد شروع کردے ۔انھوں نے یہ بھی کہاکہ سپریم کورٹ کے سابق جج چلمیشور نے واضح کردیاہے کہ عدالت میں زیر التوامعاملوں پر بھی حکومت آرڈیننس لاسکتی ہے اور قانون بناسکتی ہے۔انہوںنے کہاکہ حکومت کا کام نظام اور قانون بناناہے اور عدالت کا کام قانون کی تشریح کرناہے ۔حکومت جوبھی مناسب سمجھے ،اسے کرے جس سے رام مندر کی تعمیر کی راہ ہرحل میں ہموار ہو۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں