شہدائے جموں ‘کشمیری قوم کے ماتھے کا جھومر اور ہماری جدوجہد کے ترجمان ہیں /یاسین ملک

سری نگر// 1947÷ئ میںجموں کے مقام پر لاکھوں انسانوں کا قتل عام تاریخ عالم کا ایک ایسا سیاہ باب ہے جس کی نظیر ملنا بھی دشوار ہے۔جس فسطائی سوچ نے جموں کے مسلمانوںکا قتل کروایا آج اُسی سوچ کے حاملین کشمیریوں کے خلاف آپریشن آل آوٹ کے نام پر قتل و غارت کا بازار گرم کئے ہوئے ہیں ۔ ان باتوں کا اظہار لبریشن فرنٹ کے چیئرمین یاسین ملک نے یوم شہدائے جموں کے حوالے سے جاری اپنے ایک بیان میں کیا ہے۔ یاسین صاحب نے کہا ہے کہ آزادی کے متوالے جموں باسیوں پر فرقہ پرستوں نے جن کی سرپرستی اُس وقت کے آمر حکمران کررہے تھے نے جو شب خون مارا اور جس طرح سے لاکھوں انسانوں کو منظم طریقے پر قتل کیا گیا اُس کی نظیر انسانی تاریخ میں ملنا دشوار ہے۔ جموں کے مسلمانوں جن میں خواتین اور بچوں کی ایک بڑی تعداد بھی شامل تھی کو قتل کرکے نہ صرف یہ کہ جموں کی ڈیموگرافی﴿ آبادی کے تناسب﴾ کو تبدیل کردیا گیا بلکہ عورتوں اور بچوںکی تذلیل کا وہ بازار گرم کیا گیا جس کی داستانیں آج بھی انسانی حس رکھنے والوں کولرزہ براندام کردیتی ہیں۔یاسین صاحب نے کہا کہ ایک طرف فرقہ پرست جموں میں مسلمانوں کا قتل عام کررہے تھے اور دوسری جانب اُس سخت ترین حالات میں بھی کشمیری مسلمان اپنے اللہ اور نبی ö کے فرمودات کے مطابق کشمیر میں اقلیتوں کی حفاظت کررہے تھے۔ یہ دو متضاد روّیے اس بات کا بین ثبوت ہیں کہ کشمیر ی بحیثیت مجموعی ایک انسانیت نواز قوم و ملت ہیں جن کیلئے انسانیت ہر حال میں مقدم بات تھی اور آج بھی ہے۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں