ترک حکام کا جمال خاشوگی کے قتل کے ثبوت مٹانے کا دعویٰ

انقرہ﴿یو این آئی﴾ترک حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی قونصلیٹ میں صحافی جمال خاشوگی کے قتل کے ثبوت مٹانے کی کوشش کی گئی۔ غیر ملکی میڈیا نے ترکی کے ایک اعلیٰ سرکاری اہلکار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب نے جمال خاشوگی کی ہلاکت کے بعد کیمسٹ احمد عبد العزیزاورٹوکزیکالوجسٹ خالد یحییٰ ال زہرانی پرمشتمل ٹیم یعنی زہریلی اشیائ اور کیمیائی اشیا کے دو ماہرین کو استنبول میں اپنے قونصلیٹ میں بھیجا تھا تاکہ وہ وہاں موجود ثبوت مٹا دیں۔ رپورٹ کے مطابق ترک اہلکار کا کہنا ہے کہ اس کامطلب ہے واقعہ سے اعلیٰ سعودی حکام آگاہ تھے اور ٹیم کوترک تفتیش کاروں کے چھاپے سے پہلے ثبوت مٹانے کاکہاگیاتھا۔ رپورٹ میں الزام لگایا گیا ہے کہ یہ ٹیم ملک چھوڑنے سے پہلے 12اور 17اکتوبر کے درمیان ہر روز اس عمارت میں گئی۔ اس سے قبل ترکی نے دعویٰ کیا تھا کہ جمال خاشوگی کو گلا دبا کر ہلاک کرنے کے بعد ان کی لاش کے ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے گئے ۔ ان کے دو بیٹوں کی طرف سے اپنے والد کی میت ان کے حوالے کرنے کی اپیل کی گئی ۔خیال رہے سعودی صحافی جمال خشوگی کو دو اکتوبر کو استنبول میں سعودی قونصلیٹ میں قتل کیا گیا تھا جہاں وہ اپنی دوسری شادی سے پہلے ضروری کاغذی کارروائی کے لیے گئے تھے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں