سرینگر جموں شاہراہ پر ہلاکتوں کا خدشہ ، 3ٹرک ڈرائیور زندہ دب گئے محکمہ موسمیات کا تازہ کلینڈر ، 12سے 14نومبر تک برفباری اور بارشوں کی پیشن گوئی

سرینگر/ کے این این / سی این آئی/میڈیا رپورٹس میں یہ خد شہ ظاہر کیا گیا ہے کہ سرینگر ۔جموں شاہراہ پر بھاری پسیاں گر آنے کے سبب 3 ٹرک ڈرائیور زندہ دب کر ہلاک ہوئے ہیں ۔تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ ابھی تک اُنہیں کسی کی نعش نہیں ملی اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی سراغ ملا جبکہ تلاشی مہم جاری ہے ۔ سرینگر ۔جموں شاہراہ پر گزشتہ ایک ہفتے سے ٹنل کے آر پار دونوں اطراف سے سینکڑوں ٹرکیں اوردیگر بھاری گاڑیاں درماندہ پڑی ہوئی ہیں ۔ اس دوران یہ خبر بھی سامنے آئی ہے کہ 3ٹرک ڈرائیور پُراسرار طور پر لاپتہ ہوگئے ہیں ،جن کے بارے میں خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ بھاری پسیوں کے زد میں آکر زندہ دب کر لقمہ اجل بن گئے ہیں ۔میڈیا رپورٹس کے مطابق تین/جاری صفحہ نمبر ۱۱پر
 ٹرک ڈرائیور سیب سے بھری ٹرک زیر رجسٹریشن نمبر PB06AK/4045بیٹری چشمہ رام بن کے مقام پر بھاری پسیوں کی زد میں آئی ہے ۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ بدھ کو اُس وقت لاپتہ افراد کو تلاش کرنے کی غرض سے ریسکیو آپریشن شروع کیا گیا ،جب لاپتہ ٹرک ڈرائیوروں کے رشتہ داروں نے پولیس کے ساتھ رابط قائم کیا ۔پولیس حکام کا کہناہے کہ لاپتہ ٹرک ڈرائیوروں کے رشتہ داروں کا یہ دعویٰ ہے کہ ہوسکتا ہے کہ وہ لینڈ سلائڈنگ کی زد میں آئے ہیں ۔پولیس حکام نے بتایا کہ بدھ کو تلاشی کارروائی کے دوران لاپتہ افراد کے بارے میں کوئی سراغ نہیں ملا جبکہ جمعرات کو علاقے میں دوبارہ تلاشی کارروائی شروع کردی گئی ہے ۔ڈی ایس پی ہیڈ کواٹرس اصغر ملک کا کہنا ہے کہ لاپتہ 3افراد کے بارے میں کوئی سراغ نہیں ملا ہے ۔انہوں نے کہا کہ یہاں بھاری پسیاں گر آئی ہیں جس نے اپنے پیچھے بھاری ملبہ چھوڑ دیا ہے ۔رپورٹس میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ لاپتہ ٹرک ڈرائیوروں کے ساتھ اُن رابط سوموار کو ہوا ،اُس وقت انہوں نے کہا تھا کہ وہ قاضی گنڈ میں ہیں اور اسی روز شام تک جموں پہنچ جائیں گے ۔بتایا جاتا ہے کہ لاپتہ افراد کی آخری ’’لوکیشن ‘‘ یعنی مقام رامسو تھی ۔ادھرحالیہ برفباری کے بعد8روز گزر جانے کے باوجود سرینگر ۔لہیہ شاہراہ اور مغل روڑ پر ٹریفک کی آوا جاہی ممکن نہ ہوسکی ۔حکام کا کہنا ہے کہ دونوں شاہراہوں سے برف اور رکاوٹیں ہٹانے کے سلسلے میں اقدامات اٹھائے جارہے ہیں ۔ 3نومبر کو جب کشمیر وادی میں موسمی صورتحال نے کڑا رُخ اختیار کیا ،تو زمینی وفضائی رابطہ بھی منقطع ہوکر رہ گیا ۔گوکہ سرینگر ۔جموں شاہراہ پر یکطرفہ ٹریفک رواں دواں ہے ،تاہم تاریخی مغل روڑ اور سرینگر ۔لہیہ شاہراہ پر ٹریفک کی آوا جاہی اب بھی ممکن نہ ہو پائی ۔جمعرات کو مسلسل 8ویں روز بھی سرینگر ۔جموں شاہراہ پر ٹریفک کی آوا جاہی بحال نہ ہوسکی اور یہ اہم شاہراہ آٹھویں روز بھی بند رہی ۔حکام کا کہنا ہے کہ زوجیلا پاس پر 11فٹ برفباری ہوئی جسکی وجہ سے شاہراہ آمد ورفت کے قابل نہیں رہی ۔انہوں نے کہا کہ بیکن نے شاہراہ سے برف ہٹانے کا سلسلہ شروع کردیا جسکے لئے افرادی قوت کے ساتھ ساتھ جدید مشینری کو بھی بروئے کار لایا جارہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ بیکن کی ہری جھنڈی ملنے کے بعد ہی شاہراہ پر ٹریفک کی آ وا جاہی کو بحال کردیا جائیگا ۔ادھر بیکن حکام کا کہنا ہے کہ شاہراہ سے برف ہٹانے کا کام جاری ہے اور کل تک یہ کام مکمل ہونے کی امید ہے ۔یہا ں یہ بات قابل ذکر ہے کہ سرینگر ۔لہیہ شاہراہ خطہ لداخ ۔کرگل کو کشمیر کے ساتھ جوڑ تی ہے جبکہ یہ شاہراہ موسم سرما کے دوران بھاری برفباری کے باعث کم ازکم 4ماہ تک بند رہتی ہے ۔اس شاہراہ کو ہر موسم میں قابل آمد ورفت بنانے کیلئے زوجیلا ٹنل تعمیر کرنے کا منصوبہ ہے ۔تاریخی مغل روڑ کوسرینگر ۔جموں شاہراہ کا متبادل تصو ر کیا جاتا ہے ۔یاد رہے کہ پی ڈی پی ۔بھاجپا کے دور اقتدار میں مرکز نے مغل روڈ کو قومی شاہراہ کا درجہ دینے سے اصولی طور پر اتفاق کیاتھا ۔غور طلب بات ہے کہ مرکزی سرکار نے جموں اور کشمیر صوبوں کو پیر پنچال خطے سے جوڑنے والی مغل روڑ سڑک کو قومی شاہراہ کا درجہ دینے سے اصولی طور پر اتفاق کیا ہے اور یہ فیصلہ اُ س وقت خاتون وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی اور ٹرانسپورٹ او رشاہراہوں کے مرکزی وزیر نیتن گڈکری کے درمیان ایک میٹنگ کے دوران لیا گیا تھا ۔ادھر موصولہ اطلاعات کے مطابق کشمیر وادی کو با قی ماندہ دنیا سے زمینی طور جوڑنے والی 300کلو میٹر طویل سرینگر ۔جموں شاہراہ پر یکطرفہ ٹریفک جاری ہے ۔دریں اثنا وادی کشمیر میں شدید سردی کی لہر کے بیچ محکمہ موسمیات نے 12نومبر سے موسمی صورتحال میں تبدیلی آنے کے امکانات ظاہر کرتے ہوئے بارشوں اور برفباری کی پیشگوئی ہے ۔ وادی کشمیر میں گزشتہ ہفتے ہوئے شدید برفباری کے بعد وادی کشمیر میں تازہ موسمی کلینڈر جاری کرتے ہوئے محکمہ موسمیات نے بارشوں اور برفباری کی پیش گوئی ہے۔ محکمہ موسمیات کے صوبائی ناظم سونم لوٹس نے کہا ہے کہ 12سے 14نومبر تک بالائی علاقوں میں تازہ برفباری جبکہ میدانی علاقوں میں موسلا دھار بارشیں ہونے کے امکانات ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ موسمی صورتحال 15نومبر تک خراب رہنے کے امکانات ہے جس کے نتیجے میں سرینگر جموں شاہراہ پر ٹریفک کی نقل و حمل میں بھی خلل پڑ سکتا ہے ۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ واد ی کشمیر میں گزشتہ دنوں ہوئی شدید برفباری کے نتیجے میں میوہ باغات سمیت فصلوں کو کافی نقصان ہوگیا جس کے نتیجے میں کسان اور باغ مالکان خون کے آنسوں رونے پر مجبور ہو گئے ہیں ۔ادھر وادی کشمیر میں ہوئی بارشوں اور برفباری کے نتیجے میں درجہ حرارت میں کافی کمی آئی ہے جس کے نتیجے میں سردی کی لہر میں کافی اضافہ ہو گیا ہے اور موسم سرما نے مکمل طور پر دستک دی ہے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں