میرواعظ عمر فاروق 500 بااثر مسلم شخصیات کی فہرست میں شامل

سرینگر/ یو این آئی /حریت کانفرنس ﴿ع﴾ کے چیئرمین اور متحدہ مجلس علمائ جموں وکشمیر کے امیر میر واعظ مولوی عمر فاروق کو عالمی سطح پر سب سے زیادہ با اثر شخصیات کی فہرست مرتب کرنے والے ادارے اردن کے ’دی رائل اسلامک اسٹریٹجک اسٹیڈیز سینٹر‘ نے دنیا کی 500 بااثر مسلم شخصیات میں مسلسل پانچویں بار شامل کر لیا ہے۔حریت کانفرنس کے ایک ترجمان نے کہا ’ادارے کی طرف سے میرواعظ کا دنیا کی 500بااثر مسلم شخصیات اور برصغیر میں منتخب 5افراد میں انتہائی بااثر سیاسی و مذہبی شخصیت کی حیثیت سے انتخاب عمل میں لایا گیاہے ‘۔ادارے کی جانب سے ہر سال دنیا میں مقیم بااثر افراد کی فہرست جاری کی جاتی ہے۔ ادارے کی ’دی مسلم 500 ‘کے عنوان سے 2019 کی سالانہ رپورٹ میں بتایا گیا کہجموں کشمیر میں موجودہ میرواعظ مولوی عمر فاروق کو ان کی سماجی ، تعلیم ، سیاست، ملی اور /جاری صفحہ نمبر ۱۱پر
سماجی میدانوں میں جو بے لوث اور مخلصانہ خدمات انجام ددینے کے اعتراف میں اس عالمی اعزاز سے نوازا جارہا ہے۔رپورٹ کے مطابق میرواعظ نے اپنے نامور والد گرامی ممتاز دینی و سیاسی رہنما شہید ملت میرواعظ مولوی محمد فاروق صاحب کی1990ئ میں ناگہانی شہادت کے فوراً بعد کشمیری عوام کی شدید خواہش اور اصرار پر صرف 17 سال کی عمر میںمیرواعظ کشمیر کا منصب سنبھالا اور اس دوران اپنی تعلیمی اور منصبی ذمہ داریاں ادا کرنے کے ساتھ ساتھ 1993ئ میں کشمیری عوام کی حق خودارادیت پر مبنی برحق جدوجہد کو عالمی سطح پر متعارف اورمسئلہ کشمیر کی متنازعہ حیثیت کو اجاگر کرانے کے لئے کشمیر کی جملہ دینی، ملی اور سیاسی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرکے کل جماعتی حریت کانفرنس کی داغ بیل ڈالی اور تب سے لیکرآج تک مسلسل میرواعظ کشمیر ی عوام کی حق و انصاف سے عبارت جدوجہد کو نہ صرف آگے بڑھا رہے ہیں بلکہ اس ضمن میں انہیں اکثر و بیشتر قابض حکمرانوں کی جانب سے شدید قسم کے عذاب و عتاب، قدغنوں اور پابندیوں کا بھی سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ ترجمان نے مذکورہ ادارے کی جانب سے میرواعظ کو اس اعزاز سے نوازنے پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ میرواعظ کی مثبت دینی ، سیاسی اور سماجی خدمات کے اعتراف میں دنیا کی 500بااثر مسلم شخصیات میں شامل کرنا دراصل کشمیریوں کے حق و انصاف کے موقف کی جیت اور کشمیری عوام کے لئے ایک قابل فخر اعزاز ہے۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں