گوجوارہ ،راجوری کدل اور بہوری کدل میں ٹریفک جامنگ روڈ ڈئیوایڈر نصب کرکے حالات پر قابو پایا جاسکتا ہے

سرینگر/ریاستی حکومت کی طرف سے ابھی تک ٹریفک جامنگ پر قابو پانے کے لئے کوئی بھی ایسی پالیسی اپنائی نہیں جارہی ہے جس سے لوگوں کو اس سے نجات مل سکے ۔عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ ٹریفک جامنگ اب ایک ناسور بن کر ابھر رہی ہے اور لوگ اب گاڑیوں میں سفر کرنے کے بجاے پیدل چلنا پسند کرتے ہیں کیونکہ ٹریفک جامنگ کی وجہ سے منٹوں کا سفر گھنٹوں میں طے ہوجاتا ہے ۔ان حلقوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ شہر کے بالائی علاقوں میں ہی اکثر و بیشتر ٹریفک جام ہوجاتا تھا لیکن اب شہر خاص میں بھی ٹریفک جام ہونے سے لوگوں کو زبردست مشکلات پیش آتی ہیں جس سے سرکاری ملازمین ،طلبہ اور طالبات کے علاوہ بیمار وغیرہ وقت مقررہ پر منزل مقصو د پر نہیں پہنچ پاتے ہیں ۔لوگوں کا کہنا ہے کہ جس طرح حکام نے حول چوک میں روڈ ڈئیواڈر نصب کرنے ایک ہی بار ٹریفک جام پر قابو پایا ہے اور وہاں اب گاڑیاں اطمینان کے ساتھ چلتی ہیں لیکن اسی طرح کے انتظامات گوجوارہ چوک ،راجوری کدل ،بہوری کدل ،صفاکدل اور دوسرے ایسے ہی مقامات پر کرنے کی ضرورت ہے جہاں اکثر و بیشتر ٹریفک جام ہوکر لوگوں کو زبردست مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں