کشتواڑ میں بی جے پی رُکن اور اسکے بھائی کی ہلاکت قصبے میں پھر سے ہڑتال، فورسز کے اضافی دستے تعینات

جموں/ ﴿یو ا ین آئی﴾ / کشتواڑ میں جمعرات کوبھارتیہ جنتا پارٹی ﴿بی جے پی﴾ کے ریاستی سکریٹری انیل پریہار اور ان کے بھائی اجیت پریہار کی ہلاکت کے خلاف ہڑتال کی گئی۔ ہڑتال کے دوران دکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت معطل رہی۔ سرکاری دفاتر اور بینکوں میں معمول کا کام کاج جزوی طور پر متاثر رہا۔ سناتھن دھرم سبھا نے ہڑتال کی کال دی تھی۔ مجلس شوریٰ، وی ایچ پی، چناب ویلی ٹریڈرس ایسوسی ایشن اور بیوپار منڈل نے اس کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ قصبہ سے اگرچہ دن کا کرفیو ہٹایا جاچکا ہے، تاہم احتیاطی طور پر ریاستی پولیس اور سیکورٹی فورسز کی اضافی نفری بدستور تعینات رکھی گئی ہے۔ ریاستی گورنر ستیہ پال ملک نے 5 نومبر کو سول سکریٹریٹ میں دربار مو دفاتر کھلنے کے موقع پر نامہ نگاروں کو بتایا کہ بی جے پی ریاستی سکریٹری انیل پریہار اور ان کے بھائی اجیت پریہار کی ہلاکت میں ملوث ملزمان کی شناخت کرلی گئی ہے۔ ملزمان کو عنقریب عوام کے سامنے لایا جائے گا۔ گورنر موصوف نے کہا کہ پریہار براداران کی ہلاکت کا واقعہ ایک جنگجویانہ کاروائی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگجووں کی طرف سے یہ کاروائی مایوسی میں انجام دی گئی۔ سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس ﴿ایس ایس پی﴾ کشتواڑ راجندر گپتا کا بھی یہی کہنا ہے کہ مشتبہ افراد کی شناخت مکمل کرلی گئی ہے اور کیس کو بہت جلد کریک کرلیا جائے گا۔ بتادیں کہ قصبہ کشتواڑ میں یکم نومبر کی شام دیر گئے نا معلوم بندوق برداروں نے بی جے پی کے ریاستی سکریٹری انیل پریہار اور ان کے بھائی اجیت پریہار کو گولیاں مار کر ہلاک کردیا۔اس واقعہ کے بعد قصبہ کشتواڑ میں صورتحال کشیدہ رخ اختیار کرگئی تھی اور مشتعل لوگوں بالخصوص بی جے پی کارکنوں نے اسپتال میں توڑ پھوڑ کی تھی، پولیس تھانہ اور پولیس کی گاڑیوں کو نقصان پہنچایا تھا اور مقامی ایس ایس پی راجندر گپتا اور پولیس تھانہ کشتواڑ کے ایس ایچ او سمیر جیلانی پر مبینہ طور پر حملہ کیا تھا جس کے باعث دونوں کو چوٹیں آئی تھیں۔ انتظامیہ نے صورتحال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے یکم نومبر کی رات دیر گئے قصبہ کشتواڑ میں کرفیو کے نفاذ کا اعلان کیا تھا۔
 اگلے روز یعنی 2 نومبر کو پڑوسی قصبوں ڈوڈہ اور بھدرواہ کو بھی کرفیو کے دائرے میں لایا گیا تھا۔ اس دوران کرفیو کو سختی سے نافذ کرنے کے لئے ریاستی پولیس اور نیم فوجی دستوں کے ساتھ ساتھ فوجی کی تعیناتی بھی عمل میں لائی گئی تھی۔ فوج نے 2 نومبر کو کشتواڑ، بھدرواہ اور ڈوڈہ قصبوں میں فلیگ مارچ بھی کیا تھا۔ قصبہ کشتواڑ سے تین روز بعد یعنی 5 نومبر کو دن کا کرفیو ہٹالیا گیاجبکہ قصبہ میں زندگی تیزی سے معمول پر آرہی ہے۔ کشتواڑ کے پڑوسی قصبوں ڈوڈہ اور بھدرواہ سے کرفیو 3 نومبر کو ہٹالیا گیا ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں