ائر لینڈ ماڈل پر مسئلہ کشمیر کا حل قابل عمل نہیں ڈاکٹر فاروق کے بیان پر پروفیسر سوز کا رد عمل

سرینگر/پبلسٹی انچارج کے ایک بیان کے مطابق پروفیسر سیف الدین سوز،  سابق مرکزی وزیر نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ میرے ذہن میں ڈاکٹر فاروق عبداللہ کے اوڑی میں دیئے گئے بیان سے ایک خوشگوار کیفیت پیدا ہو گئی ہے کیونکہ اس بیان سے وہ واضح طور پر بتا رہے ہیں کہ کشمیر کے جھگڑے کو سیاسی بنیاد پر حل کیا جانا چاہئے۔ میں ہمیشہ یہ سوچتا رہا ہوں کہ فاروق عبداللہ کو سوچ وچار کے بعد کشمیر پر کوئی سیاسی موقف اختیار کرنا چاہئے اور اُس پر مستحکم طریقے سے اپنی پارٹی کی رہنمائی کرنی چاہئے۔ جہاں تک اُن کے ایئرلینڈ کے ماڈل پر کشمیر کا مسئلہ حل کرنے کی تجویز ہے ، تو میں اس نظریہ کو کچھ زیادہ قابل عمل نہیں سمجھتا ہوں۔ اُس کے مقابلے میں مشرف۔واجپائی۔منموہن فارمولہ کشمیر کیلئے بہت ہی اچھا حل تجویز کرتا ہے اور ہندوستان اور پاکستان کے درمیان دائمی دوستی کی مضبوط بنیاد بھی فراہم کرتا ہے! تاہم موجودہ مرکزی سرکار کا کشمیر کے تئیں رویہ افسوس ناک ہے اور مرکزی حکومت نے بات چیت کر دروازہ کھولنے کے بجائے کشمیر میں ایک سخت گیر پالیسی کے تحت قتل و غارت کا ماحول بنایا ہے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں