مظاہرین کیخلاف مہلک ہتھیاروں کا استعمال

کچھ عرصہ سے اس بات کا مشاہدہ کیاجارہا ہے کہ فورسز کی طرف سے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے اب پھر سے پیلیٹ کا استعمال کرکے ان کا مستقبل تباہ کیاجارہا ہے اور ان کی زندگیوں کو تاریکیوں میں دھکیلا جارہا ہے۔ جب بھی کسی مقام پر فورسز اور عسکریت پسندوں کے درمیان تصادم میں ہلاکتیں ہوتی ہیں تو اس کے بعد علاقے کے نوجوان سڑکوں پر نکل کر احتجاج کرتے ہیں اور اکثر و بیشتر یہ احتجاج تشد د کی صورت اختیار کرتا ہے۔ مظاہرین کی طرف سے پتھرائو کا جواب عام حالات میں ٹئیر گیس یا مرچی گیس سے دیا جارہا تھالیکن اب ایک بار پھر فورسز نے احتجاج کرنے والوں کو منتشر کرنے کیلئے پیلیٹ فائیرنگ کا سلسلہ شروع کیا ہے اور اس کی زد میں اب معصوم بچوں اور خواتین کو بھی لایاجاتا ہے۔ فورسز کی طرف سے یہ دیکھنے کی زحمت تک گوارا نہیں کی جاتی ہے کہ وہ کس کو نشانہ بنارہے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل جب اس پر لوگوں نے احتجاج کیا اور اسے مہلک ہتھیار قرار دیاگیاتو فورسز نے اس کا استعمال کرنا بند کردیا تھا لیکن اب پھر سے اس کا استعمال شروع کرکے کشمیری عوام کو شدید مشکلات میں مبتلا کردیا گیا ہے۔ گذشتہ کچھ عرصے سے وادی اور خاص طور پر جنوبی کشمیر میں جو تشدد آمیز واقعات رونما ہوئے تو احتجاج کرنے والوں پر فورسز نے اگر کچھ نہیں تو پیلیٹ کا استعمال ضرور کیا جس سے درجنوں افراد کی زندگیاں تباہ ہوکر رہ گئیں جن میں ایک معصوم ڈیڑھ برس کی بچی حبہ جان بھی شامل بتائی گئی۔ چھتر گام میں بھی فورسز نے مظاہرین پر پیلیٹ فائیرنگ کا بے دریغ استعمال کیا۔ جس سے نصف درجن سے زیادہ نوجوان بری طرح زخمی ہوگئے اور ان میں سے بیشتر کی آنکھیں متاثر ہوگئیں۔ ڈاکٹر وں کا کہنا ہے کہ پیلیٹ چھرے ان کی آنکھوں میں پیوست ہوگئے ہیں جس سے ان کی بصارت اثر انداز ہوسکتی ہے۔ اب جہاں کہیں بھی فورسز اور لوگوں کے درمیان کسی بھی مسلئے پر جھڑپیں ہوتی ہیں تو وہ پیلیٹ جیسے مہلک ہتھیاروں کا استعمال کرکے نوجوانوں کو عمر بھر کیلئے معذور بنانے سے نہیں چوکتے ہیں۔ غرض اب فورسز نے عام شہریوں کیخلاف جس طرح پیلیٹ چھروں جیسے مہلک ہتھیاروں کا استعمال پھر سے شروع کیا ہے لوگوں میں اس کیخلاف شدید غم وغصہ پایاجاتا ہے۔ اسلئے ضرورت اس بات کی ہے کہ کشمیری باشندوں کو بھی انسان سمجھاجائے اور ان کے ساتھ انسانوں جیسا سلوک کرنا چاہئے۔ جہاں کہیں بھی مظاہرے ہوں کوشش یہ ہونی چاہئے کہ لوگوں کے خلاف مہلک ہتھیاروں کا استعمال نہ کیاجائے۔ سٹنڈارڈ اوپریٹنگ پروسیجر پر عمل کیا جائے کیونکہ جیسا کہ سرکاری طور پر بتایا جارہا ہے کہ مظاہرین سے نمٹنے کیلئے فورسز کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ایس او پی پر عمل درآمد کریں اور کسی بھی صورت میں مہلک ہتھیاروں کا استعمال نہ کیاجائے۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ جو لوگ پیلیٹ کے شکار ہوئے ہیں ان کی زندگیاں اجیرن بن گئی ہیں اور ان میں ڈیڑھ برس کی بچی بھی شامل ہے جس کے بارے میں ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اس کی بصارت لوٹ آئے گی یا نہیں یہ کہنا مشکل ہے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں