لداخ کو صوبے کا درجہ دینے کا مطالبہ تیز ترقیاتی کونسل لیہہ اور کرگل میں اتفاق رائے

سرینگر/ یو این آئی / خطہ لداخ کو جموں وکشمیر کا تیسرا صوبہ بنانے کا مطالبہ زور پکڑنے لگا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مطالبے کو لیکر لداخ خودمختار پہاڑی ترقیاتی کونسل لیہہ اور کرگل میں اتفاق رائے ہوگیا ہے۔ذرائع نے بتایا 'لداخ کو صوبہ کا درجہ دینے کا مطالبہ کرگل اور لیہہ اضلاع کے درمیان اختلافات کو دورکرنے کا باعث بنتا ہوا نظر آرہا ہے کیونکہ ترقیاتی کونسل کرگل کے بعد ترقیاتی کونسل لیہہ نے بھی خطہ لداخ کے بہتر انتظامی نظام کے لئے متفقہ طور پر ایک قرار داد/جاری صفحہ نمبر ۱۱پر
 منظور کرکے اس مطالبے کی حمایت کی ہے۔ تاہم لیہہ کونسل نے اس بات کو واضح کیا کہ اس سے کونسل کے لداخ کومرکز کے زیر انتظام علاقے کا درجہ دینے کے مطالبے میں کوئی فرق نہیں آئے گا۔ کونسل کا ماننا ہے کہ لداخ کو مرکز کے زیر انتظام علاقے کا درجہ دینا لداخ کے لوگوں کی سیاسی خواہش ہے۔ تاہم اس کے عین برعکس، کرگل کونسل کا کہنا ہے کہ وہ ریاست کو منقسم کرنے کے حق میں نہیں ہے۔ ترقیاتی کونسل لیہہ کے نو منتخب چیف ایگزیکٹو کونسلر جے ٹی نامگیال نے بتایا 'ہم خطہ لداخ کو ریاست کا تیسرا صوبہ بنانے کی حمایت کرتے ہیں۔ یکم دسمبر کو ہونے والے خصوصی جنرل کونسل اجلاس میں اس حوالے متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کی گئی۔ قرارداد کی منظوری کے بعد جموں میں گورنر ستیہ پال ملک کو ایک میمورنڈم پیش کیا گیا۔ ترقیاتی کونسل لیہہ کے ذرائع نے بتایا کہ یکم دسمبر کولیہہ کونسل کا جنرل اجلاس کونسل سکریٹریٹ میں منعقد ہوا جس میں لداخ کو مرکز کے زیرانتظام علاقہ کا درجہ دینے کے موضوع پر سیرحاصل گفت وشنید ہوئی۔ اجلاس میں جملہ 30 کونسلروں نے بہ اتفاق رائے یہ طے پایا کہ ایک قرار داد کو منظور کرکے اس ضمن میں گورنر ستیہ پال ملک، جو ریاست میں انتظامی امور کی بھاگ ڈور سنبھالے ہوئے ہیں، کے پاس ایک میمورنڈم پیش کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا 'اس سلسلے میں چیف ایگزیکٹو کونسلر جے ٹی نامگیال اور دیگر جملہ ایگزیکٹو کونسلروں پر مشتمل ایک وفد کی سوموار کو جموں روانہ ہوا اور راج بھون میں ریاستی گورنر سیتہ پال ملک سے ملاقات ہوئی۔ وفد نے میمورنڈم پیش کرتے ہوئے ریاستی گورنر سے مطالبہ کیا کہ کرگل اور لیہہ اضلاع کے لئے ایک علیحدہ انتظامی ڈویڑن تشکیل دیا جائے۔ بتادیں کہ ترقیاتی کونسل کرگل کے چیف ایگزیکٹو کونسلر فیروز خان نے 15 نومبر کو ایک وفد کے ہمراہ جموں میں گورنر ستیہ پال ملک سے ملاقات کرکے لداخ کو صوبے کا درجہ دینے کے علاوہ یونیورسٹی کے قیام اور زوجیلا ٹنل کی فوری تعمیر کا مطالبہ کیا تھا۔ دریں اثنا ترقیاتی کونسل کے سی ای سی جے ٹی نامگیال نے بتایا 'ہم نے لداخ کو مرکز کے زیر انتظام علاقے کا درجہ دینے کے مطالبے پر سمجھوتہ نہیں کیا ہے ،ہم اس کے لئے تا دم مرگ بر سر جدوجہد رہیں گے۔ ہم نے جنرل کونسل اجلاس میں لداخ کو صوبے کا درجہ دینے کے لئے متفقہ طور ایک قرار داد منظور کی تاکہ خطے میں ایک بہتر انتظامی نظام تشکیل پاسکے اور جموں اور کشمیر کی طرح ہمیں بھی لداخ صوبہ کی صورت میں اپنی الگ شناخت مل سکے۔ یہ مرکز کے زیر انتظام علاقے کا درجہ حاصل کرنے کے لئے منزل مقصود تک پہنچنے کا دوسرا مرحلہ ہے'۔ انہوں نے بتایا کہ مرکز کے زیرانتظام علاقے کا درجہ حاصل کرنے کے لئے ابتدا میں ضلع کرگل اورضلع لیہہ متحد محو جدو جہد تھے۔گرچہ کرگل کونسل نے اس سلسلے میں کوئی رسمی قرار داد منظور نہیں کی ہے لیکن کرگل کونسل بھی اس مطالبے کا پر زور حامی ہے۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ لداخ میں ترقیاتی کونسل لیہہ کو بی جے پی جبکہ ترقیاتی کونسل کرگل کو نیشنل کانفرنس اور کانگریس متحدہ طور پر چلارہی ہیں۔ اس دوران راج بھون کے ایک ترجمان نے بتایا کہ 3 نومبر کو گورنر ستیہ پال ملک سے ملاقات کرنے والے ترقیاتی کونسل لیہہ کے وفد نے لداخ کو ایک مرکزی نظام والا علاقے کا درجہ دینے کا مطالبہ کیا۔ترجمان کے مطابق وفد نے لداخ کے راستے سے کیلاش مانسرور روٹ کو کھولنے، بودھی زبان کو ملک کے آئین کے8 ویں شیڈول میں شامل کرنے، لداخ خطہ کے لئے ہوائی کرایوں میں معقولیت لانے، مختلف محکموں میں خالی پڑی اسامیوں کو پْر کرنے اور کئی دیگر معاملات گورنر کی نوٹس میں لائے۔یو این آئی

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں