بھاجپا 2004 کے پارلیمانی انتخابات نہ ہارجاتی توکشمیرمسئلہ حل ہوگیا ہوتا، اس دیرینہ مسئلے کے 2یا 3حل زیرغور :عمران خان

اسلام آباد/ پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے کہاہے کہ جنگ کسی بھی صورت میں مسئلہ کشمیرکاحل نہیں ہے بلکہ اس دیرینہ مسئلے کوصرف مذاکرات کے ذریعے ہی حل کیاجاسکتاہے۔عمران خان نے سبھی ہمسایہ ممالک کیساتھ پُرامن تعلقات قائم کرنے کی خواہش ظاہرکرتے ہوئے کہاکہ بھارت کیساتھ وہاں ہونے والے آئندہ پارلیمانی انتخابات تک مذاکرات کاامکان نظرنہیںآتاہے کیونکہ ہمسایہ ملک فی الوقت مذاکرات کیلئے تیارنہیں ہے۔ پاکستان کی راجدھانی اسلام آبادمیں نجی ٹی وی چینلوں سے وابستہ صحافیوں کیساتھ ایک انٹرویوکے دوران عمران خان نے واضح کیاکہ جب تک بھارت اوررپاکستان کے درمیان مذاکرات نہ ہوں تب تک کشمیرمسئلے کے مختلف ممکنہ حل زیرغورنہیں کیاجاسکتاہے۔اس سوال کے جواب میں کہ کیامسئلہ کشمیرکاکوئی حل زیرغورہے ،پاکستانی وزیراعظم نے انکشاف کیاکہ ویاتین حل مذاکرات کے دوران زیرغورلائے جاسکتے ہیں۔انہوں نے کشمیرمسئلے کے مجوزہ دویاتین حل کاخلاصہ نہ کرتے ہوئے صحافیوں کوبتایاکہ ابھی اسبارے میں کوئی بھی بات کرناقبل ازوقت ہوگا۔تاہم عمران خان نے سابق صدرپرویزمشرف کے دورمیں کشمیرمسئلے کے حوالے سے اہم پیش رفت کااعتراف کرتے ہوئے بتایاکہ بھارت کے سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی اورسابق وزیرخارجہ نٹورسنگھ نے ایک کانفرنس کے دوران اُنھیں یہ بتایاتھاکہ اگر2004کے لوک سبھاانتخابات میں بھارتیہ جنتاپارٹی/جاری صفحہ نمبر ۱۱پر
 کامیاب ہوکردوبارہ برسراقتدارآجاتی تومسئلہ کشمیرحل ہواہوتا۔عمران خان کے بقول اٹل بہاری واجپائی اورنٹورسنگھ نے کہا تھا ’’اگر بھاجپا2004کے لوک سبھاالیکشن نہ ہارجاتی توکشمیرمسئلہ حل ہوگیاہوتا۔ غورطلب ہے کہ مشرف اورواجپائی کے دورمیں ہندوپاک تعلقات میں اہم پیش رفت ہوئی تھی ،اورپاکستان کے سابق صدرپرویزمشرف نے جب بھارت کادورہ کیاتھاتوآگرہ میں مشرف اورواجپائی کے درمیان ہوئے اعلیٰ سطحی وَن ٹووِ ن مذاکرات میں دونوں رہنمائوں کے درمیان کشمیرحل پرفیصلہ کن سمجھوتہ ہوتے ہوتے رہ گیاکیونکہ بھاجپاکی سینئرخاتون لیڈراورموجودہ وزیرخارجہ سشماسوراج کی جانب سے عین اُسی وقت ایک متنازعہ بیان سامنے آیاجسکے باعث سب کئے کرائے پرپانی پھرگیا۔عمران خان نے مشرف اورواجپائی کے دورمیں ہوئی اہم پیش رفت کے تناظرمیں کہاکہ اگرتب دونوں ملک اس دیرینہ مسئلے کے کسی متفقہ حل کی جانب بڑھ سکے تھے تواب بھی ایساہوناممکن ہے تاہم انہوں نے اسبارے میں مزیدکوئی وضاحت نہیں کی ۔پاکستانی وزیراعظم کاکہناتھاکہ واجپائی اورنٹورسنگھ کی باتوں سے صاف ظاہرہوتاہے کہ دونوں ملک کشمیرمسئلے کے حل کے قریب پہنچ چکے تھے ۔ انہوں نے بھارت اورپاکستان کے درمیان جنگ کے امکانات یااندیشوں کویکسرمستردکرتے ہوئے کہاکہ دونوں ملک ایٹمی طاقتیں ہیں ،اسلئے جنگ کے انتہائی تباہ کن نتائج برآمدہونگے ۔عمران خان نے سبھی ہمسایہ ممالک کیساتھ پُرامن تعلقات قائم کرنے کی خواہش ظاہرکرتے ہوئے کہاکہ بھارت کیساتھ وہاں ہونے والے آئندہ پارلیمانی انتخابات تک مذاکرات کاامکان نظرنہیںآتاہے کیونکہ ہمسایہ ملک فی الوقت مذاکرات کیلئے تیارنہیں ہے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے واضح کیاکہ صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ ہرملک میں خارجہ پالیسی بنانے میں فوج کارول رہتاہے۔انہوں نے کہاکہ امریکہ میں بھی ایساہوتاہے اوردوسرے ممالک میں بھی ،کیونکہ خارجہ پالیسی مرتب کرتے وقت سلامتی صورتحال سے متعلق مشورے فوج سے طلب کئے جاتے ہیں جوخارجہ پالیسی مرتب کرتے وقت ملحوظ نظررکھے جاتے ہیں ۔عمران خان کاکہناتھاکہ اُنکی حکومت کے فیصلوں کوپاکستانی فوج کی مکمل تائیدوحمایت حاصل ہے۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں