جے کے بینک، خودمختاری برقرار رکھی جائیگی گورنر، بینک سے متعلق ریاستی انتظامی کونسل کے فیصلے کے بارے میں خدشات پر گورنر کی یقین دہانی کہا یہ مالی ادارہ کشمیر کے لئے بڑی اہمیت کا حامل

سرینگر/ کے این ایس /ریاستی گورنر ستیہ پال ملک نے جموں وکشمیر بنک ملازمین کے ساتھ منعقد ہ میٹنگ میں یقین دہائی کرائی کہ ریاستی انتظامی کونسل کی طرف سے حال ہی میں لیے گئے فیصلے پر نظر ثانی کی جائے گی۔انہوںنے بنک ملازمین پر واضح کیا کہ جموں کشمیر بنک کو پبلک سیکٹر بنک میں تبدیل نہیں کیا جائے گا تاہم بنک کو کارکردگی کے حوالے سے ریاستی آئین ساز اسمبلی کے سامنے جوابدہ بنایا جائے گا۔ جموں وکشمیر بنک سے متعلق حالیہ تنازعے جس میں مذکورہ بنک کو ریاستی انتظامی کونسل کی میٹنگ میں پبلک سیکٹر بنک میں تبدیل کیا گیا تھا اور جس کے بعد ریاست میں سیاسی و غیر سیاسی حلقوں میں اضطرابی کیفیت دیکھنے کو مل رہی تھی پر پردہ ہٹاتے ہوئے ریاستی گورنر ستیہ پال ملک نے منگلوار کو بنک سے وابستہ ملازمین کے ساتھ ایک طویل میٹنگ میں اس بات کو صاف کردیا کہ ریاستی حکو مت جموں وکشمیر بنک کی حیثیت تبدیل نہیں کرے گی۔ گورنر نے ملازمین پر واضح کردیا کہ ریاستی انتظامی کونسل کی طرف سے حال ہی میں منعقدہ میٹنگ کے دوران/جاری صفحہ نمبر ۱۱پر
 بنک سے متعلق جو فیصلہ لیا گیا ہے اُس پر آنے والی میٹنگ کے دوران نظر ثانی کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ ریاستی انتظامی کونسل کی میٹنگ میں بنک سے متعلق فیصلے جس میں بنک کی کارکردگی کو ریاستی آئین ساز اسمبلی کے سامنے جوابدہ بنایا گیا تھا پر دوبارہ آنے والی میٹنگ میں غور وخوض کیا جائے گا۔گورنر نے بتایا کہ عوام الناس اور بنک ملازمین کے خدشات کو دور کرنے کی خاطر بنک کو قانون ساز اسمبلی کے سامنے جوابدہ بنانے کے حوالے سے دوبارہ سوچ بچار کیا جائے گا۔بنک ملازمین کے ساتھ میٹنگ کے بعد گورنر ستیہ پال ملک نے اپنے بیان میں کہا کہ جموں وکشمیر بنک ریاست کے اعلیٰ ترین ادارہ ہے جس کی معاشی ترقی انتہائی اہمیت کی حامل ہے لہٰذا ریاستی حکومت اُن تمام اقدات کی بھر پور حمایت کرے گی اور ایسے تمام ذرائع کو بروئے کار لائے گی جس کے ذریعے جموں کشمیر بنک خود کفیل بن جائے گا۔’جموں وکشمیر بینک ریاست کا ایک اہم ادارہ ہے اور اس کی مالی حالت اور بہتر مستقبل ریاست جموں وکشمیر کے لئے بڑی اہمیت کا حامل ہے ۔لہٰذا اس مقصد کے لئے حکومت متعلقہ بینک کو تمام ممکنہ تعاون اور امداد فراہم کرنے کے لئے تیار ہے‘۔انہوں نے کہا کہ بنک سے وابستہ ملازمین کو ملازمت،تنخواہ اور آئندہ کے لائحہ عمل سے کسی بھی طور پرتشویش میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ بنک کا اپنا بورڈ اس حوالے سے انتہائی قابل ہے اوربنک سے متعلق ہر معاملے میں بہتر فیصلہ لے سکتا ہے اور اس حوالے سے ریاستی حکومت کی طرف سے مداخلت کا کوئی بھی ارادہ نہیں ہے۔’بینک کے ملازمین کو اپنی ملازمت ، مستقبل کے لائحہ عمل اور تنخواہوں سے متعلق کسی بھی خدشے کا شکار نہیں ہونا چاہیئے ۔اس سلسلے میں بینک کا بورڈ فیصلے لینے کا اہل ہے ۔ اِس محاذ پر کوئی تبدیلی عمل میں نہیں لائی جارہی ہے‘۔گورنر کا کہنا تھا کہ جہاں تک پبلک سیکٹر انڈر ٹیکنگ کا تعلق ہے ، جموں وکشمیر بنک آر بی آئی، رجسٹرار آف کمپنیز اور ایس ای بی آئی کے ساتھ باقاعدہ طور پر منسلک ہے اور بنک مستقبل میں بھی ریزرو بنک آف انڈیا، رجسٹرار آف کمپنیز اور ایس ای بی آئی کے ساتھ منسلک ہوکر اپنے معمولات جاری رکھے گا۔گورنر نے صاف کردیا کہ اس حوالے سے ریاستی حکومت کے ہاں مداخلت کا کوئی بھی ارادہ نہیں ہے۔’جہاں تک پبلک سیکٹر انڈر ٹیکنگ معاملے کا تعلق ہے ، جموں وکشمیر بینک کا انتظام ﴿۱﴾ ریزرو بینک اِنڈیا بحیثیت ایک قدیم بینک،)۲( رجسٹرار آف کمپنیز اور ﴿۳﴾ ایس ای ڈی آئی چلاتا ہے اور یہ سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔اس عمل میں کسی تبدیلی کا کوئی منصوبہ نہیں ہے ‘۔گورنر نے بتایا کہ جموں وکشمیر بنک کمپنیز آیکٹ کے تحت درج ہے جبکہ پبلک سیکٹر انڈر ٹیکنگ کی ایک الگ قانونی تعبیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر بنک مستقبل میں بھی سرکاری طور پر تسلیم شدہ ادارے کے بطور کام کرتا رہے گا اور اس حوالے سے کوئی بھی تبدیلی نہیں لائی گئی ہے۔گورنر نے کہا کہ سرکاری کمپنی کے بطورجموں وکشمیر بنک حق اطلاعات ایکٹ کے تحت پبلک اتھارٹی اور اس طرح یہ بات بالکل عیاں کہ یہاں ہر کسی معاملے میں صاف اور شفاف طریقے پر معلومات انجام دئے جائیں، لہٰذا شفاف طریقے پر یہاں امور کی انجام دہی ایک احسن قدم ہے۔’بحیثیت ایک سرکاری کمپنی کے جموں وکشمیر بینک حق اطلاعات کے تحت ایک پبلک اتھارٹی ہے ۔اِس سلسلے میں کوئی نئی بات متعارف نہیں کی جارہی ہے ۔شفافیت کا عمل بینک کے لئے بہتر ہے‘۔گورنر نے میٹنگ کے دوران صاف کردیا کہ جہاں تک قانون ساز اسمبلی کے سامنے جواب دہی کا معاملہ ہے تو اس حوالے سے جملہ سرکاری تسلیم شدہ ادارے، سرکار کے زیر نگران ادارے اور کمپنیز بشمول جموں وکشمیر بنک جو کہ سرکاری کمپنی کے بطور رجسٹر ہے ، قانون سازیہ اسمبلی کے سامنے امور کی انجام دہی کے حوالے سے جواب دہ ہے۔کشمیرنیوز سروس کے مطابق گورنر نے بتایا کہ ریاستی انتظامی کونسل کی حالیہ میٹنگ کے دوران جو فیصلہ لیا گیا ہے اُس میں صرف یہ معاملہ سامنے لایا گیا کہ جموں وکشمیر بنک کو ریاستی قانون ساز اسمبلی کے سامنے جواب دہ بنایا جائے اور اس طرح میٹنگ کے دوران کوئی ایسا فیصلہ نہیں لیا گیا جو بنک کی ترقی اور وقار کے خلاف ہو۔اس حوالے سے عوامی حلقوں اور بنک ملازمین کے اندر جو خدشات پائے جارہے ہیں ریاستی حکومت اُن کو دوبارہ غور وخوض کرے گی۔’جہاں تک قانون سازیہ کے سامنے جواب دہی کا تعلق ہے ، کو تمام سرکاری کمپنیاں بشمو ل جموں وکشمیر بینک قانون سازیہ کے سامنے جواب دہی کے مکلف ہیںاور یہی بات ریاستی انتظامی کونسل کے فیصلے میں کئی گئی ہے ۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے ۔ تاہم اس سلسلے میں ظاہر کئے گئے خدشات اور ملازمین کو راحت پہنچانے کے لئے حکومت اس معاملے پر دوبارہ غور کریگی‘۔انہوں نے بتایا کہ ریاستی حکومت آنے والے دنوں میں بنک سے متعلق فیصلے کہ آیا بنک کی کارکردگی کو قانون ساز اسمبلی کے سامنے جوابدہ بنایا جائے گا یا نہیں ، پر دوبارہ تبادلہ خیال کرے گی۔انہوں نے بتایا کہ اس حوالے سے بنک کا اپنا ایک خودمختار بورڈ ہے جو بنک سے متعلق فیصلہ جات کو عملانے یا نہ عملانے سے متعلق حتمی فیصلہ لے سکتا ہے۔انہوںنے کہا کہ بنک کی خودمختاری اور معمولات کی آزادی ریاستی سرکار کی ترجیحات میں ہمیشہ شامل رہیں گی۔واضح رہے گزشتہ روز کشمیرنیوز سروس نے سرکاری ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا تھا کہ ریاستی حکومت آنے والے دنوں میں بنک سے متعلق حالیہ فیصلے پر نظر ثانی پر سوچ رہی ہے۔ ذرائع نے کو بتایا تھا کہ رواں ماہ کے آخر پر ریاستی انتظامی کونسل کی اہم میٹنگ منعقد ہونے والی ہے جس میں دیگر معاملات کے علاوہ جموں وکشمیر بنک سے متعلق لئے گئے فیصلہ پر نظر ثانی کی جائے گی۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں