گرفتار 3کشمیری طالب علم پنجاب عدالت میں پیش 21دسمبرتک جوڈیشل حراست میں رکھنے کے احکامات صادر

سرینگر/ کے این این /جنگجوئیت کے ساتھ وابستگی کے الزام میں جالندھر پنجاب میں گرفتار 3کشمیری طالب علموں کو قومی تحقیقاتی ایجنسی ﴿این آئی اے ﴾نے بدھ کے روز مقامی عدالت میں پیش گیا ،جس دوران عدالت نے تینوں گرفتار طالب علموں کو21دسمبر تک جوڈیشل حراست میں رکھنے کا احکامات صادر کئے ۔ جموں وکشمیر کی ہمسایہ ریاست پنجاب کے جالندھر علاقے سے گرفتار کئے گئے 3کشمیری طالب علموں کو بدھ کے روز مقامی عدالت میں پیش کیا گیا ۔بتایا جاتا ہے کہ انتہائی سخت ترین بندوبست میں تینوں کشمیری طالب علموں کو قومی تحقیقاتی ایجنسی ﴿این آئی اے ﴾ نے چندی گڑھ میں ایک خصوصی عدالت کے سامنے پیش کیا۔گرفتار طالب علموں پر الزام ہے کہ وہ کشمیر وادی میں سرگرم عسکری تنظیموں کے ایک گروہ سے وابستہ ہیں ۔میڈیا رپورٹس کے مطابق گرفتار طالب/جاری صفحہ نمبر ۱۱پر
 علموں میں ایک یوسف رفیق بٹ بھی شامل ہے ،جو جنگجو کمانڈرذاکر موسیٰ کا چچیرازاد بھائی ہے۔ میڈیارپورٹ کے مطابق عدالت نے تینوں طالب علموں ، زاہد گلزار ساکنہ اونتی پورہ، محمد ادریس شاہ اور یوسف رفیق بٹ کو21دسمبر تک جوڈیشل حراست میں رکھنے کے احکامات صادر کئے ۔عدالت نے کیس کی اگلی سماعت21دسمبرمقرر کی ہے۔یاد رہے کہ تینوںکشمیری طالب علموں کو جالندھر پولیس نے ایک تعلیمی ادارے سے گرفتار کیا تھا۔ بعد ازاں اْن کا کیس تحقیقات کیلئے قومی تحقیقاتی ایجنسی﴿ این اے آئی﴾ کو سونپ دیا گیا۔طالب علموں کی گرفتاری پر مشترکہ مزاحمتی اتحاد کا ماننا ہے کہ بھارت کشمیر کی نوجوان نسل کو پشت بہ دیوار کرکے بندوق اٹھانے کیلئے مجبور کررہا ہے تھا ،تاکہ فوج وفورسز کو کشمیرکی نوجوان نسل کو ختم کرنے کا جواز حاصل ہوسکے ۔ان کا کہناتھا کہ ایک گہری سازش اور منصو بے کے تحت کشمیر میں نسل کشی کی جارہی ہے جبکہ جالندھر پنجاب میں تین طالب علموں کی گرفتاری اس کی ایک کڑی ہے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں