بغیر چھت پولنگ سٹیشن، الیکشن کمیشن کا سخت نوٹس ایک آفیسر سمیت 3اہلکار معطل ، تحقیقات شروع

سرینگر/ کے این ایس/ خطہ پیر پنچال کے راجوری ضلع میں بغیر چھت کے پولنگ مرکز کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد ریاستی حکومت نے واقعے کا سنجیدہ نوٹس لیتے ہوئے 3سرکاری اہلکاروںکے خلاف کاررروائی کا باضابطہ آغاز کردیا ہے۔اس حوالے سے اسسٹنٹ کمشنر کی سربراہی میں انکوائری کمیشن کو قائم کرتے ہوئے ایک ہفتے کے اندر اندر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ خطہ پیر پنچال کے راجوری ضلع میں بغیر چھت کے پولنگ مرکز کی تصاویر سماجی رابطہ گاہ سائٹوں پر وائرل ہونے کے بعد ریاستی حکومت نے واقعے کا سنجیدہ نوٹس لیتے ہوئے 3سرکاری اہلکاروں کے خلاف کارروائی شروع کردی ہیں۔ تفصیلات کے مطابق رواں پنچایتی انتخابات کے ساتویں مرحلے کے دوران راجوری ضلع میں ایک پولنگ مرکز کو کیری کھوچر وال کے دور دراز علاقے/جاری صفحہ نمبر ۱۱پر
 میں قائم کیا گیا تھا جہاں پولنگ مرکز بغیر چھت کے تھا۔ اگر چہ خطے میں پولنگ کا مرحلہ اختتام پذیر ہوا تاہم ایک روز بعد سوشل میڈیا پر اسکول جہاں پولنگ مرکز قائم تھا کی بغیر چھت تصاویر وائرل ہوگئیں جس پر سیاسی و غیر سیاسی حلقوں میں حکومت کے تئیں سخت ناراضگی پائی جارہی ہے۔معلوم ہوا ہے کہ پولنگ مرکز کو کری کھوچروال کے دوردرواز علاقے میں قائم ایک پرائمری اسکول میں قائم کیا گیا تھا جس کی حالت انتہائی خستہ ہوچکی تھی۔سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تصاویر پر بآسانی دیکھا جاسکتا ہے کہ پولنگ مرکز پر تعینات پولنگ عملے اور سیکورٹی فورسز کے اہلکار کھڑے ہوکر حیرانگی کے عالم میں ایک دوسرے کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ادھر پولنگ مرکز کی خستہ حالی کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد ریاستی انتظامیہ کو سخت خفت اُٹھانی پڑرہی ہے۔ سوشل میڈیا کا استعمال کرنے والے اور عوامی حلقوں میں حکومت کی اس لاپرواہی پر سخت غم و غصہ پایا جارہا ہے۔یاد رہے پنچایتی انتخابات کے ساتویں مرحلے پر ریاست جموں وکشمیر کے 12اضلاع بشمول راجوری میں ووٹ ڈالے گئے جس میں مجموعی طور پر 75.3فیصدی ووٹنگ ریکارڈ کی گئی جبکہ صرف پیر پنچال کے راجور ی ضلع میں لوگوں کی بھاری تعداد نے پولنگ مراکز کا رخ کرتے ہوئے اپنے حق رائے دہی کا بھر پور استعمال کیا جس کے بعد یہاں کل ملاکر 84فیصدی ووٹنگ ریکارڈ کی گئی۔سرکاری ذرائع نے کشمیر نیوز سروس کو بتایا کہ ضلع ترقیاتی کمشنر راجوری محمد اعجاز اسعد نے واقعے کا سنجیدہ نوٹس لیتے ہوئے غفلت شعار سرکاری افسران کے رول سے متعلق انکوائری کرنے کے احکامات صادر کئے ہیںجو اسسٹنٹ کمشنر کی نگرانی میں منعقد ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ انکوائری افسر کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ایک ہفتہ کے اندر اندر واقعے کی رپورٹ ضلع ترقیاتی کمشنر کے دفتر میں پیش کریں تاکہ ملوث افراد کے خلاف ضابطے کی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ادھر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ واقعے کی تحقیقات کے دوران ابتدائی مرحلے پر ویلیج لیول ورکر اور گرام روزگار سہایک کو اپنی ذمہ داریوں سے فی الحال معطل کیا گیا ہے جبکہ بلاک بلاک ڈیولپمنٹ افسر کی تنخواہ کو اگلے احکامات تک روک دیا گیا ہے۔سرکاری ذرائع نے بتایا کہ ریاستی انتظامیہ نے پر ویلیج لیول ورکر، گرام روزگار سہایک اور بی ڈی او کو خوشگوار ماحول میںانتخابات کو منعقد کرانے کے لیے پورے بلاک میں ذاتی طور پر معائینہ کرانے کی ذمہ داری سونپی تھی تاہم انہوں نے اپنی ذمہ داریوں سے غفلت برتی ہے جس کی پاداش میں تینوں افراد کے خلاف کارروائی شروع کی گئی ہے۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں