ہفتہ انسانی حقوق :مظاہرے ،گرفتاریاں، تاجروں کے احتجاجی دھرنے پر پابندی تاجر رہنما محمد یاسین خان سمیت درجنوں ٹریڈر سرینگر میں گرفتار،شہر خاص میں ریلی برآمد مزاحمتی کارکنان کے خلاف چھاپہ ماری جاری،کئی خانہ وتھانہ نظر بند ،میر واعظ عمر فاروق برہم

سرینگر/ کے این این /پولیس نے بدھ کو ’ہفتہ انسانی حقوق‘ کے سلسلے میں تاجروں کے احتجاجی دھر نے پر قدغن لگاتے ہوئے کشمیر اکنامک الائنس ﴿کے ای اے﴾ کے سربراہ محمد یاسین خان کو ایک چھاپہ مار کارروائی کے دوران آبی گزر سرینگر سے گرفتار کرلیا جبکہ تاجروں کی جانب سے پریس انکلیو سرینگر میں دھرنا دینے کی ایک کوشش کو بھی پولیس نے ناکام بناتے ہوئے درجنوں تاجروںکو حراست میں لیا ،تاہم شہر خاص کے قدیم بازار ’مہاراج گنج ‘ کی بیوپار منڈل نے مبینہ انسانی حقوق پامالیوں کے خلاف ایک احتجاجی ریلی برآمد کی ۔اس دوران پو لیس نے منگل اور بدھ کی رات کو کئی مزاحمتی کارکنان کی رہائشی گاہوں پر چھاپے ڈالے اور مزید کئی گرفتاریاں عمل میں لائیں جبکہ کئی ایک مزاحمتی لیڈران کو خانہ نظربند رکھا گیا ۔ مشترکہ مزاحمتی اتحاد سید علی گیلانی ،/جاری صفحہ نمبر ۱۱پر
میر واعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک کی جانب سے ’ہفتہ انسانی حقوق ‘ منانے کی کال پر بدھ کو کشمیر ی تاجروں کو اپنا احتجاج درج کرنا تھا ،تاہم پولیس نے چھاپہ مارکارروائیوں کے تاجروں کی قبل ازوقت ہی کوششیں ناکام بنا دی ،جس دوران گرفتاریاں عمل میں لائی گئیں ۔پولیس نے بد ھ کو کشمیری تاجروں کی تنظیم کشمیر اکنامک الائنس ﴿کے ای اے ﴾کے چیئرمین محمد یاسین خان کو ایک چھاپہ مار کارروائی کے دوران آبی گزر سرینگر میں واقع اُنکے دفتر سے اُنہیں گرفتار کیا ۔’کے ای اے ‘ کے ترجمان نے بتایا کہ معمول کے مطابق محمد یاسین خان بدھ کو جونہی اپنے دفتر واقع آبی گزر سرینگر پہنچ گئے ،تو پولیس کی ایک نے دفتر کو گھیرے میں لیا اور محمد یاسین خان کو حراست میں لیکر اپنے ساتھ لیکر گئی ۔مذکورہ تاجر انجمن کے ترجمان نے بتایا کہ یاسین خان کو کوٹھی باغ پولیس تھانہ میں نظر بند رکھا گیا ۔یاد رہے کہ محمد یاسین خان کو ’ہفتہ انسانی حقوق‘ کے سلسلے میں تاجروں کے احتجاجی مظاہرے کی قیادت کرنی تھی ،تاہم پولیس نے اس احتجاج پر قد غن لگا دی ۔اس دوران درجنوں تاجر کھڑاکے کی سردی میں ’مشتاق پریس انکلیو‘ سرینگر میں نمودار ہوئے ،جہاں انہوں نے کشمیر وادی میں فورسز کے ہاتھوں جاری مبینہ انسانی حقوق پامالیوں کے خلاف احتجاجی دھر نے کی کوشش کی ،تاہم پولیس نے اس کوشش کو بھی ناکام بنایا ۔درجنوں تاجرنعرہ بازی کرتے ہوئے پریس انکلیو سرینگر میں نمودار ہوئے ،جہاں انہوں نے انسانی حقوق کی مبینہ پامالیوں کے خلاف اپنا احتجاج درج کرنے کی کوشش کی ۔مظاہرین نے اپنے ہاتھوں میں پلے کارڈ اور بینر ہاتھوں میں اٹھائے تھے ،جن پر ’کشمیریوں کی نسل کشی ،قتل ِعام بند کرو ،بندکرو ،پیلٹ کا استعمال بند کرو ،بند کرو ‘ کے نعرے درج تھے ۔اس سے قبل تاجر پریس انکلیو میں اپنا احتجاج درج کرتے ہوئے پولیس نے فوری طور پر کارروائی عمل میں لاتے ہوئے درجنوں تاجروں کو حراست میں لیکر تھانہ نظر بند رکھا ۔اس دوران شہر خاص کے قدیم بازار ’مہاراج گنج ‘ کی بیوپار منڈل نے مبینہ انسانی حقوق پامالیوں کے خلاف ایک احتجاجی ریلی برآمد کی،جس میں شہر خاص کے تاجروں نے شرکت کی۔ریلی میں شامل شرکائ نے عام شہریوں کی ہلاکت پر اپنا احتجاج درج کیا جبکہ چھروں والی بندوق کے استعمال پر برہمی کا اظہار کیا ۔تاجروں نے بتایا کہ اب معصوم بچوں اور بچیوں کو بھی پیلٹ قہر کا نشانہ بنایا جاتا ہے ،جوکہ قابل مذمت ہے ۔بعد ازاں یہ احتجاجی ریلی پرامن طور پر اختتام پذیر ہوئی ۔واضح رہے کہ مشترکہ مزاحمتی اتحاد نے ’ہفتہ حقوق انسانی‘ کے تحت مظاہروں کی کال دے رکھی ہے اور اس میں سماج کے سبھی طبقوں کو الگ الگ شامل ہونے کی اپیل کی گئی ہے۔ادھر پولیس نے مزاحمتی کارکنان کے خلاف شبانہ چھاپہ مار کارروائی کا سلسلہ جاری رکھنا ہے ۔مشترکہ مزاحمتی اتحاد کے لیڈرمیر واعظ عمر فاروق نے پولیس کی جانب سے مزاحمتی کارکنان کے خلاف چھاپہ مار کارروائی کی مذمت کی ہے ۔انہوں نے سماجی رابط ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ ہفتہ انسا نی حقوق کے پیش نظر سرینگر میں کئی مزاحمتی کارکنان کی رہائشی گاہوں پر پولیس کی جانب سے شبانہ چھاپے ڈالے گئے ،جس دوران مزاحمتی کارکنان کے اہلخانہ کو حراساں کیا گیا اور کئی ایک کی مار پیٹ کی گئی جبکہ گرفتاریاں بھی عمل میں لائی گئی ۔ان کا کہناتھا کہ’ کینڈل لائٹ احتجاج ‘کے خلاف یہ کیسا ریاستی جا رحانہ طرز عمل ہے ؟۔ پولیس حکام نے چھاپوں اور گرفتاریوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ علیحدگی پسند کارکنوں کو امن و امان کی صورتحال برقرار رکھنے کی غرض سے احتیاطی اقدام کے طور پر حراست میں لیا گیا ہے۔پولیس نے میر واعظ عمر فاروق کو اپنی رہائش گاہ واقع نگین سرینگر میں نظر بند رکھا ہے جبکہ سید علی گیلانی کی طویل ترین خانہ نظر بندی ہنوز جاری ہے ۔ لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک کو بھی گرفتار کرکے سرینگر کے ایک پولیس تھانے میں قید کردیا تھا، جہاں سے انہیں پیر کو علاج کیلئے صورہ میڈیکل انسٹی چیوٹ سرینگر منتقل کردیا گیا۔اس کے علاوہ مزاحمتی لیڈر جاوید میر سمیت دیگر کارکنان بھی تھانہ نظر بند ہیں جبکہ مزاحمتی لیڈر ظفر اکبر بٹ سمیت کی لیڈران خانہ نظر بند ہیں ۔سید علی گیلانی ،میر واعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک پر مشتمل ’مشترکہ مزاحمتی اتحاد ‘ نے اعلان کر رکھا ہے کہ انسانی حقوق کے عالمی دن کی مناسبت سے کشمیر میں 3دسمبر سے ’ہفتہ انسانی حقوق‘ منایا جائے گا۔اپنے ایک بیان میں مزاحمتی قیادت نے تھا کہ فوج وفورسز کی جانب سے ہورہی مبینہ انسانی حقوق پامالیوں پر احتجاج ریلیاں نکالی جائیں جبکہ ہر شام کو لوگ اپنے اپنے علاقوں کے مرکزی مقامات پر موم بتیاںاور مشعل جلا کر وادی میں انسانی حقوق کی ابتر صورتِ حال کو اجاگر کریں۔واضح رہے کہ انسانی حقوق کا عالمی دن ہر سال 10 دسمبر کو منایا جاتا ہے۔اس دوران غازی جاوید بابا کو بہوری کدل میں گرفتار کرکے تھامہ مہاراج گنج میں نظربند رکھاگیا۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں