مزاحمتی قیادت کی کال پر لبریشن فرنٹ کا آنچار، چھتہ بل اور نصر اللہ پورہ بڈگام میں شمع بردار احتجاج

سرینگر / جوانوں ، بزرگوں ،بچوں اور عورتوں کا بے دریغ اور مواخذے کے خوف کے بغیر قتل عام، عمر اور جنس کی تمیز کے بغیر لوگوں کی مارپیٹ، تذلیل،ٹارچر ،انہیں قید و بند میں ڈالنا اورجلائوگھیرائو کا شکار بنانا نیزرہائشی مکانات کو بارود اور آتش گیر مادے سے تباہ کرنے کا سلسلہ کشمیر میں بھارتی جمہوریت کا امتیازی نشان بن چکا ہے۔ بھارتی ریاست کا جموں کشمیر کے ساتھ یہ نوآبادیاتی برتائو کشمیریوں کو پشت بہ دیوار لگانے اور ہمارے جوانوں کو حتمی قربانی کی راہ پر گامز ن کرنے کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ ان باتوں کا اظہار جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے علیل و محبوس چیئرمین محمد یاسین ملک نے ہسپتال سے بھیجے گئے اپنے ایک پیغام میں کیا ہے۔ درایں اثنائ مشترکہ مزاحمتی قیادت کے ہفتۂ احتجاج کو آگے بڑھاتے ہوئے تیسرے روز بھی لبریشن فرنٹ کے کئی قائدین و اراکین نے عوام الناس کے ساتھ مل کر کئی مقامات پر مشعل و شمع بردار احتجاجی مظاہرے منعقد کئے۔ لبریشن فرنٹ سے وابستہ قائدین و اراکین زندگی کے دوسرے شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے ہمراہ آنچار صورہ، نصراللہ پورہ بڈگام اور چھتہ بل سرینگر میں جمع ہوئے اور انسانی حقوق کے عالمی دن کی مناسبت سے جے آر ایل کے ہفتۂ احتجاج کے سلسلے کو آگے بڑھایا۔ فرنٹ قائدین نے آج کے ان تین احتجاجی مظاہروں میں شرکت کی۔ ہاتھوں میںروشن مشعلیں اور شمع تھامے اور وادی میں جاری بھارتی ظلم و جبر کے خلاف فلک شگاف نعرے بلند کرتے ہوئے شرکائے . احتجاج نے پرامن طریقے پر مارچ بھی کیا اور دھرنا بھی دیا۔ اس دھرنے سے لبریشن فرنٹ کے قائدین نے خطاب بھی کیا ۔ اپنے خطاب میں فرنٹ قائدین نے کہا کہ کشمیر کو ایک بدترین جیل میں تبدیل کردیا گیا ہے جہاں ہر آواز پر قدغن ہے اور ہر سیاسی کاوش پر پابندیاں عائد ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی لوگوں کے خلاف پکڑ دھکڑ اور کالے قوانین کا نفاذ، قتل و غارت گری میں سبکدستی،اور سیاسی کاوشوں کی مسدودیت بڑی جمہوریت کے دعویدار بھارتی حکمرانوں اور انکی پولیس کا مشغلہ بن چکا ہے اور اسے جمہوریت کا نام دیا جارہا ہے۔ ان مواقع پر شرکائے احتجاج تک لبریشن فرنٹ کے محبوس و علیل چیئرمین محمد یاسین ملک کا پیغام بھی پہنچایا گیا۔ ہسپتال سے بھیجے گئے اپنے پیغام میں لبریشن فرنٹ چیئرمین نے کہا ہے کہ بھارت کے حکمران اور انکی انتظامیہ جموں کشمیر کو اپنی مفتوحہ نوآبادی تصور کرتے ہیں اسی لئے یہاں انسانوں کا بے دریغ قتل عام، انسانوں کو قید کرکے جیلوں اور تھانوں میں ڈالنا،انہیں ذدوکوب کرنا، انکا ٹارچر کرنا، انہیں تذلیل و تحقیر کا نشانہ بنانا، ان کے مکانات کو بارود اور آگ کی نذر کرنا، ان کے باغات اور فصلوں کو تباہ کرنا عام بات بن چکی ہے اور اب یہی ظلم و جبر جموں کشمیر میں بھارتی جمہوریت کا امتیازی نشان بھی قرار پاچکا ہے۔یاسین ملک نے کہا کہ کشمیر خاص طور پر جنوب و شمال اور وسطی کشمیر کے گائوں جات میں جاری پولیس اور آرمی کاظلم و جب اپنی حدیں پار کرچکا ہے اور ان گائوںجات کو ایک میدان جنگ میں تبدیل کردیا گیا ہے۔ جوان سال طارق احمد شیخ ولد غلام محمد شیخ ساکنہ اٹھورہ پلوامہ کی مثال دیتے ہوئے یاسین صاحب نے کہا کہ ۳ اور ۴ دسمبر کی درمیانی رات میں اس جوان سال کشمیری کے گھر پر بھارتی آرمی نے چھاپہ ڈالا ۔ یہ آرمی والے قوئیل کیمپ پلوامہ سے آئے ہوئے تھے اور انہوں نے آتے ہی طارق کے گھر کا ایک ایک کونہ چھان مار اور اسکی تلاشی لی۔ جب انہیں کچھ نہیں ملا تو انہوں نے طارق کی فیملی جس میں ان کے چھوٹے بچے بھی شامل تھے کو ایک کمرے میں مقفل کردیا گیا جب کہ دوسرے کمرے میں طارق کو پکڑ کر اسکا ٹارچر شروع کردیا گیا ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں