عمران خان کا حالیہ انٹرویو

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے گذشتہ دنوں اسلام آباد میں ایک انٹر ویو کے دوران بتایا کہ جنگ کسی بھی صورت میں کشمیر مسلئے کا حل نہیں اور نہ ہی جنگ سے کوئی مسئلہ حل ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صرف مذاکرات ہی مسایل کے حل کیلئے واحد راستہ ہے اور اسی سے کشمیر کا دیرینہ مسئلہ بھی حل کیاجاسکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنے تمام ہمسایہ ممالک بشمول بھارت اچھے اور دوستانہ تعلقات کے قیام میں یقین رکھتا ہے کیونکہ اسی سے ہر ملک ترقی کے منازل طے کرسکتا ہے۔ جب ایک اخباری نمایندے نے پاکستان کے وزیر اعظم سے پوچھا کہ بھارت کے ساتھ پاکستان کب مذاکرات شروع کرنے کا ارادہ رکھتا ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ اگلے برس یعنی سال 2019میں تو مذاکرات کا امکان اس وجہ سے نہیں کیونکہ اس سال بھارت میں عام انتخابات ہورہے ہیں جس کی بنا پر بھارت کی حکومت اور سیاسی رہنما زبردست مصروف ہیںانتخابات کے بعد جب حکومت بنے گی تو فوری طور پر بات چیت کا سلسلہ شروع کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ عمران خان نے اس بات کا انکشاف کیا کہ سال 2004کے عام انتخابات میں اگر بھارتیہ جنتا پارٹی نہیں ہارتی تو کشمیر کا مسئلہ حل ہوا ہوتا۔ اس پر جب اخباری نمایندوں نے ان سے وضاحت چاہی تو انہوں نے بتایا کہ ان کو جنرل پرویز مشرف نے بتایا کہ اٹل بہاری واجپائی اور سابق وزیر خارجہ نٹو ر سنگھ نے ان کو بتایا تھا کہ اگر بھارتیہ جنتا پارٹی انتخابات جیت جاتی تو مسئلہ کشمیر حل ہوا ہوتا۔ عمران خان نے کہا کہ کشمیر جیسے دیرینہ مسئلے کیلئے دو تین حل زیر غور ہیں لیکن ابھی ان کو اس بنائ پر آگے نہیں بڑھایا جائے گا کیونکہ بھارت میں لیڈر شپ انتخابی عمل کے ساتھ مصروف ہے اور جب انتخابات ختم ہوجائینگے تب ان پر غور کیاجاسکتا ہے۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ ہر کوئی جنگ و جدل سے نفرت کرتا ہے کیونکہ جنگ کوئی بھی جیتے لیکن اس سے تباہی اور بربادی ہوتی ہے اور انسانی جانوں کا بڑے پیمانے پر زیاں ہوتا ہے اسلئے جو مسایل بات چیت سے حل کئے جاسکتے ہیں ان کو لڑائی جھگڑوں سے کسی بھی طور حل نہیں کیاجاسکتا ہے۔ حال ہی میں ناروے کے سابق وزیراعظم نے کشمیر کا طوفانی دورہ کیا اور اس دورے کے دوران وہ حریت رہنمائوں سے ملے اور ان کے ساتھ بات چیت کی اور مسئلے کے حوالے سے ان کے سٹینڈ سے جانکاری حاصل کرلی۔ کشمیری رہنمائوں کے موقف سے جانکاری حاصل کرنے کے بعد وہ پاکستان گئے اور وہاں بھی پاک رہنمائوں کے ساتھ اس مسئلے پر تبادلہ خیال کیا۔ ادھر چین نے بھی اس بات کا اعلان کیا کہ اگر بھارت اور پاکستان کی طرف سے ان سے کہا جائے گا تو وہ مسئلہ کشمیر حل کروانے کیلئے ثالثی کا کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہیں۔ اسی طرح کے تاثرات کا اظہار بر طانوی وزیر اعظم نے کیاتھا جبکہ دوسرے ملکوں نے بھی مسئلہ کشمیر حل کروانے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن قایم ہوسکے۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں