جھوٹ کی بنیاد پر کشمیری نوجوانوں کو سخت گیر بنایاجارہاہے : بپن راوت، دہشت گردی کو کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کیاجائے گا : سشما سوراج

نئی دہلی /فوجی سربراہ جنرل بپن راوت نے دہشت گردی کو جنگ و جدل کی نئی شکل قرار دیتے ہوئے کہا کہ کشمیری نوجوانوں کو غلط اطلاعات کی بنیاد پر انتہا پسندی کی جانب دھکیلا جارہا ہے۔ادھر وزیر خارجہ سشما سوراج نے مباحثہ میں حصہ لیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ دہشت گردوں اور اُن کی معاونین کے خلاف کڑا رخ اپنانے کی ضرورت ہے کیوں کہ کوئی بھی ملک دہشت گردی کے خطرے سے محفوظ نہیں ہے۔ فوجی سربراہ جنرل بپن راوت نے مباحثہ کے دوران اس بات کا اظہار کیا کہ موجودہ صورتحال میں دہشت گردی کو جنگ و جدل کی نئی شکل کے طور پر متعارف کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کا ناسور ایک راکشس کی طرح پھیل رہا ہے جس کے نتیجے میں نوجوان نسل کے ذہن میں شکوک و شبہات پیدا کئے جارہے ہیں۔ فوجی سربراہ نے بتایا کہ کشمیری نوجوانوں کے ذہنوں میں شکوک و شبہات پیدا کئے جارہے ہیں اور غلط اطلاعات کے بنیاد پر انہیں انتہا پسندی کی جانب دھکیلا جارہا ہے۔پاکستان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ دہشت گردی جیسے ناسور کو کچھ ممالک قومی پالیسی کے طور پر اپنائے ہوئے ہیں جس کے ذریعے وہ معصوم نوجوانوں کو ورغلا کر اُن کے ذہنوں میں ملک کے تئیں شکوک و شبہات پید اکررہے ہیں۔ جنرل بپن راوت نے بتایا کہ موجودہ حالات میں شرپسند عناصر سوشل میڈیا کا استعمال کرکے نوجوانوں کو انتہا پسندی کی جانب دھکیل رہے ہیں جس پر قابو پانا انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہندوستان اور ریاست جموں وکشمیر میں نوجوانوں کو انتہا پسندی کی طرف دھکیلنے کے لیے بڑے پیمانے پر ان کے ذہنوں میں غلط اطلاعات ٹھونسی جانے کے علاوہ نوجوانوں کو مذہب سے متعلق غلط جانکاری دی جارہی ہے جس کے نتیجے میں تعلیم یافتہ نوجوانوں کی بڑی تعداد جنگجوئیت اختیار کررہی ہے۔ انہوں نے پاکستان کا نام لیے بغیر بتایا کہ اس طرح کی صورتحال تب تک جاری رہنے کا امکان ہے جب تک دہشت گردوں کی پشت پناہی کرانے والے ممالک دہشت گردوں کی حمایت جاری رکھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی جنگ و جدل کی دوسری شکل ہے اور اس طرح کا طریق کار کمزور ملک صرف اپنے سیاسی مفادات کی تکمیل کے لیے استعمال کررہا ہے۔افغانستان کی سیاسی صورتحال پر بات کرتے ہوئے جنرل بپن راوت نے بتایا کہ طالبان کے ساتھ بلامشروط افہام و تفہیم کے ساتھ مسائل ہونے چاہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے طالبان کو ہمیشہ اپنی مفاد کے لیے استعمال کیا لہٰذا ہمیں افغانستان کی صورتحال پر لازمی طور پر فکر مند رہنا چاہیے۔ادھر مرکزی وزیر خارجہ سشما سوراج نے رائیسانہ ڈائیلاگ میں ایک مباحثے کے دوران اس بات کو واضح کیا کہ وہ کوئی بھی ملک بیرونی دہشت گردی سے محفوظ نہیں ہے اور ضرورت/جاری صفحہ نمبر ۱۱پر
 اس بات کی ہے کہ دہشت گردی کو کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ جو ملک بھی دہشت گردی کوحمایت کرے گا اس کے خلاف سختی سے نمٹا جانا چاہیے۔ وزیر خارجہ نے بتایا کہ بھارت کا دہشت گردی کے خلاف اسٹینڈ لینا نہ صرف بھارت کے حق میں ہے بلکہ اس سے پوری دنیا کو فائدہ حاصل ہوگا تاکہ عالمی سطح پر امن او رخوشحالی کا قیام ممکن ہوجائے۔دنیا کو درپیش چیلینج پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فی الوقت دنیا کو سب سے بڑا چیلینج دہشت گردی سے نمٹنا ہے۔ ایک وقت ایسا تھا جب بھارت دہشت گردی پر بات کرتا تھاتب چند ممالک اسے امن و قانون کی صورتحال سے تعبیر کرتے تھے تاہم موجودہ صورتحال میں کوئی بھی ملک دہشت گردی کے خطرے سے محفوظ و مامون نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ چند ممالک اپنے سیاسی فائدے کے حصول کی خاطر دہشت گردی کو پروان چڑھانے میں ایڑی چوٹی کا زور لگارہے ہیں۔انہوںنے کہا کہ دور جدید کی ڈیجیٹل دنیا میں دہشت گردی اورانتہا پسندی ایک بہت بڑا خطرہ ہے جس سے نمٹنا وقت کی اولین ضرورت ہے۔ انہوںنے بتایا کہ سال 1996میں بھارت نے اقوام متحدہ میں دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک ٹھوس دستاویز پیش کی تاہم بہت سے ممالک اس کو سمجھنے سے قاصر رہے۔ وزیر خارجہ نے زور دے کر کہا کہ دہشت گرد اور اُن کی پشت پناہی کرنے والے ممالک کے خلاف کڑا رخ اپنانے کی ضرورت ہے تاکہ پوری دنیا میں امن و سکون کا ماحول پیدا ہو۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں