گورنر انتظامیہ نے اپریل 2019 سے جی ایس ٹی کے تحت حتمی مجموعے کی حد بڑھانے کا فیصلہ کیا

نئی دہلی /جی ایس ٹی کونسل کی تیسری میٹنگ کل یہاں مرکزی وزیر خزانہ ارون جیٹلی کی صدارت میں منعقد ہوئی ۔ جموں کشمیر کی نمائیندگی گورنر کے مشیر اور جن کے پاس محکمہ خزانہ کا چارج بھی ہے کیول کمار شرما نے کی ۔ پرنسپل سیکرٹری خزانہ نوین کے چودھری اور کمشنر سٹیٹ ٹیکسز پی کے بٹ بھی اس میٹنگ میں موجود تھے ۔ اس مقصد کیلئے تشکیل دئیے گئے وزرائ کی سفارشات پر جی ایس ٹی قوانین کے تحت کمپو زیشن سکیم کی حد بڑھانے اور رجسٹریشن حاصل کرنے کے حوالے سے حتمی حد میں بڑھاوا /جاری صفحہ نمبر ۱۱پر
کرنے سے متعلق کئی اہم فیصلے لئے گئے ۔ حکومت جموں و کشمیر نے چھوٹے اور انتہائی چھوٹے تاجروں کے فائدے کیلئے 40 لاکھ روپے تک کی اشیائ کے تعلق سے رجسٹریشن کی حتمی حد بڑھانے کا فیصلہ کیا ۔ اگرچہ یہ ریاست خصوصی زمرے کی ریاست مانی جاتی ہے ۔ جموں کشمیر کی گورنر انتظامیہ نے چھوٹے تاجروں اور کارخانہ داروں کیلئے یہ حد موجودہ ایک کروڑ روپے سے لیکر ڈیڑھ کروڑ روپے کرنے کا فیصلہ کیا اور یہ اب سہ ماہی ٹیکس ادا کریں گے اور انہیں سالانہ ریٹرن داخل کرنا ہوں گے جس سے اُن کا بوجھ کم ہو گا ۔ حکومت کی طرف سے اپریل 2019 سے ان فیصلہ جات پر عمل ہو گا ۔ گورنر کے مشیر کیول کمار شرما نے میٹنگ کے دوران تبادلہ خیال میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات سے ڈیلروں کا بوجھ کم ہونے کے ساتھ ساتھ چھوٹے اور انتہائی چھوٹے ڈیلروں کو جی ایس ٹی قانون کے تحت رجسٹریشن حاصل کرنے سے راحت ملے گی ۔ مشیر موصوف نے 50 لاکھ کا سالانہ کاروبار کرنے والے چھوٹے سروس دہندگان کیلئے مجموعی سکیم سے متعلق منصوبے کی بھی وکالت کی تا کہ انہیں راحت نصیب ہو سکے ۔ جی ایس ٹی کونسل نے ڈیڑھ کروڑ روپے کا سالانہ کاروبار کرنے والے چھوٹے تاجروں کیلئے مفت بلڈنگ اور اکاؤنٹنگ سافٹ وئیر متعارف کرنے کا بھی فیصلہ کیا ۔ مشیر نے جی ایس ٹی سی کی طرف سے کئے جا رہے اقدامات اور منصوبوں کی بھی حمایت کی جن کی بدولت چھوٹے اور انتہائی چھوٹے تاجروں کو جی ایس ٹی قوانین کی عمل آوری کے حوالے سے مدد فراہم کی جا سکے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں