نوجوانوں کی صحیح تربیت  کی جائے : ناردرن کمانڈر

سرینگر/ یو پی آئی /فوج کے ناردرن کمانڈر کا کہنا ہے کہ ریاست میں دن بدن حالات معمول پر آرہے ہیں تاہم سرحد پار سے دراندازی کا سلسلہ جاری ہے۔ انہوں/جاری صفحہ نمبر ۱۱پر
نے کہاکہ سرحدوں پر تعینات فوجی اہلکاروں کو اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کے احکامات صاد رکئے گئے ہیں۔ناردرن کمانڈر کا مزید کہنا تھا کہ عسکریت پسندی کو کچلنے کیلئے مقامی لوگوں کی جانب سے سیکورٹی فورسز کو بھر تعاون مل رہا ہے۔ انہوںنے کہاکہ مقامی نوجوانوں کی جنگجو تنظیموں میں شمولیت تشویشناک ہے تاہم والدین اور اساتذہ پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس سلسلے میں جانکاری مہم شروع کریں۔انہوںنے کہاکہ سوشل میڈیا سیکورٹی ایجنسیوں کیلئے دردِ سر بنا ہوا ہے کیونکہ سماجی وئب سائٹوں کے ذریعے ہی وادی کے نوجوانوں کو عسکریت کی اور مائل کیا جارہا ہے۔ سیاحتی مقام گلمرگ میں یوتھ فیسٹول پروگرام کا افتتا ح کرنے کے موقعے پر حاشیہ پر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے ناردرن کمانڈر ’’لفٹنٹ جنرل رنبیر سنگھ ‘‘ نے کہاکہ ریاست میں عسکریت پسندی کو ختم کرنے کیلئے مختلف سطحوں پر اقدامات اُٹھائے جار ہے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ سال 2018کے دوران فورسز کو اہم کامیابیاں ملی ہیںجس دوران 250سے زائد جنگجوئوں کو جھڑپوں کے دوران مار گرایا گیا ۔ انہوںنے کہاکہ مقامی لوگوں کی جانب سے سیکورٹی فورسز کو ہر سطح پر تعاون مل رہا ہے ۔ ناردر ن کمانڈر کا مزید کہنا تھا کہ سرحدوں پر فوج کسی بھی چیلنج کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار ہے اور کسی کو بھی اس طرف آنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوںنے کہاکہ پاکستانی زیرانتظام کشمیر میں جنگجوئوں کو ہتھیاروں کی تربیت دے کرا س طرف دھکیلا جارہا ہے جس پر قدغن لگانے کی اشد ضرورت ہے۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان کو سبق سکھانے کیلئے فوج کے پاس کئی آپشن موجود ہے ۔ ناردرن کمانڈر سے جب پوچھا گیا کہ تعلیم یافتہ نوجوان جنگجو تنظیموں میں شامل ہور ہے ہیں تو اُن کا کہنا تھا کہ یہ تشویشناک ہے۔ انہوںنے کہاکہ مقامی نوجوانوں کو راہِ راست پر لانے کیلئے سیکورٹی ایجنسیوں کی جانب سے اگر چہ اقدامات اُٹھائے جار ہے ہیں تاہم والدین اور اساتذہ پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ نئی پود میں بیداری مہم شروع کریں تاکہ اس رجحان کو ختم کیا جاسکے۔ فوجی کمانڈر کے مطابق دراندازی کو قابو کرنا فوج کیلئے ایک بڑا چیلنج ہے کیونکہ جب تک دراندازی کاسلسلہ جاری رہے گا عسکریت پسند اس طرف آتے رہیں گے۔ انہوںنے کہاکہ لائن آف کنٹرول اور حد متارکہ پر دراندازی کے واقعات کو ختم کرنے کیلئے نئی حکمت عملی پر کام ہو رہا ہے اور پوری کنٹرول لائن پر سیکورٹی تعینات کرنے پر بھی غور وغوض ہو رہا ہے۔ ناردرن کمانڈر نے بتایا کہ وادی کشمیر کے نوجوانوں میں صلاحیتوں کی کوئی کمی نہیں اور انہوںنے ہر سطح پر اپنا لوہا منوا یا ہے تاہم دشمن ملک کو کشمیر میں امن و امان پسند نہیں اس لئے وہ جنگجوئوں کو اس طرف دھکیلا رہا ہے۔
 فوجی کمانڈر کے مطابق پچھلے پانچ ماہ کے دوران مقامی عسکریت پسندوں کی جنگجو تنظیموں میں شمولیت کے رجحان میں غیر معمولی کمی واقع ہوئی ہے۔ انہوںنے کہاکہ سال 2018کے دوران 250جنگجوئوں کو مار گرایا گیا جبکہ پچاس کو زندہ گرفتار کیا گیا ہے۔ انہوںنے کہاکہ پانچ عسکریت پسندوں نے فوج کے سامنے سرینڈر بھی کیا جو ایک نیک شگون ہے۔ فوجی کمانڈر کے مطابق پاکستان سوشل میڈیا کے ذریعے وادی کے نوجوانوں کو عسکریت کی او ر مائل کررہا ہے جس پر قدغن لگانے کی فوری ضرور ت ہے۔ فوجی کمانڈر کے مطابق آزادی کے نام پر پاکستان کشمیر کے نوجوانوں کو گمراہ کررہا ہے تاہم ہمسایہ ملک کو اب اس کی ہر گز اجازت نہیں دی جائے گی۔ انہوںنے کہاکہ اس وقت سوشل میڈیا سیکورٹی ایجنسیوں کیلئے درد سر بنا ہوا ہے اور اس پر نظر گزر رکھنے کیلئے خصوصی طورپر اقدامات اُٹھائے جا رہے ہیں۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں