جسٹس للت سماعت سے پیچھے ہٹ گئے اجودھیا تنازعہ کی سماعت کی آئندہ تاریخ29جنوری مقرر

نئی دہلی/ یو این آئی/ سپریم کورٹ نے اجودھیا کے رام جنم بھومی۔ بابری مسجد آراضی تنازعہ کے معاملے کی سماعت جمعرات کے روز29جنوری تک کیلئے ملتوی کر دی۔ چیف جسٹس رنجن گگوئی، جسٹس ایس اے بوبڈے ، جسٹس این وی رمن، جسٹس اودے امیش للت اور جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ کی صدارت والی پانچ رکنی آئینی بنچ میں جیسے ہی اس معاملے کی سماعت شروع ہوئی، چیف جسٹس نے گزشتہ8جنوری کے اپنے حکم کا حوالہ دیتے/جاری صفحہ نمبر ۱۱پر
 ہوئے کہا کہ آج کی تاریخ سماعت کیلئے نہیں بلکہ آئندہ کی تاریخ کیلئے مقرر کرنے کیلئے ہے ۔اس دوران سنی وقف بورڈ کی جانب سے پیش ہونے والے سینئر وکیل راجیو دھون نے بنچ میں جسٹس اُودے امیش للت کی موجودگی کے سلسلے میں سوال اٹھائے ۔مسٹر دھون نے دلیل دی کہ اجودھیا تنازعہ سے ہی متعلق ایک معاملے میں جسٹس للت وکیل کی حیثیت سے سابق وزیر اعلی کلیان سنگھ کی جانب سے پیش ہو چکے ہیں، ایسی صورت میں ان کو معاملے کی سماعت سے الگ ہو جانا چاہئے۔اس کے بعد جسٹس للت نے سماعت سے ہٹنے کا اعلان کر دیا جس کے نتیجے میں جسٹس گگوئی کو نئی بنچ کے اعلان کیلئے آج کی سماعت ملتوی کرنی پڑی۔سماعت کیلئے29جنوری کی تاریخ مقرر کرنے سے قبل جسٹس گگوئی نے معاملے کی سماعت کے لئے تین رکنی بنچ کی بجائے پانچ رکنی آئینی بنچ قائم کرنے سے متعلق مسٹر دھون کے سوالوں کے جواب بھی دیئے ۔مسٹر دھون نے گذشتہ ستمبر میں اس وقت کے چیف جسٹس دیپک مشرا، جسٹس اشوک بھوشن اور جسٹس اے عبدالنذیر کی بنچ کے دو۔ ایک سے دیئے گئے اکثریت کے اس فیصلے کا حوالہ دیا جس میں کہا گیا تھا کہ اجودھیا تنازع کو وسیع بنچ کو بھیجنے کی ضرورت نہیں ہے ۔چیف جسٹس نے کہا کہ تین رکنی بنچ کے بجائے پانچ رکنی آئینی بنچ کی تشکیل سپریم کورٹ کے دستور العمل کے تحت کی گئی ہے ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں