مذاکرات کے حوالے سے افغانستان کاطریقہ کار کشمیرمیں عملایانہیں جاسکتا:آرمی چیف

نئی دہلی /فوج کے سربراہ جنرل بپن راوت نے واضح کردیاہے کہ مذاکرات کے حوالے سے افغانستان کاطریقہ کار یا پالیسی کشمیرمیں نہیں عملائی جاسکتی ہے اورکشمیرمسئلے کے حل یامکالمے میں کسی تیسرے فریق کاکوئی رول نہیں بنتاہے ۔انہوں نے فوج کوجموں وکشمیرمیں بحالی امن کاسہولیت کار قرار دیتے ہوئے یہ بھی کہاکہ کشمیرمیں مذاکرات ہماری ﴿بھارت﴾ کی شرائط پرہی ہوسکتے ہیں ۔ آرمی چیف جنرل راوت نے جمعرات کونئی دہلی میں فوج کے زیراہتمام سالانہ پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران نامہ نگاروں کے سوالات کاجواب دیتے ہوئے کہاکہ افغانستان میں سرگرم طالبان جنگجوئوں کیساتھ مذاکرات ایک الگ معاملہ ہے اورجموں وکشمیرمیں کسی جماعت یالوگوں سے بات چیت کرناایک الگ ایشو ہے اوریہ کہ ان دونوں معاملات میں/جاری صفحہ نمبر ۱۱پر
 چونکہ کوئی مماثلت نہیں ،اسلئے وہاں اوریہاں مذاکرات کاپیمانہ ایک نہیں ہوسکتاہے ۔جنرل بپن راوت کاکہناتھاکہ مذاکرات کے حوالے سے افغانستان کاطریقہ کاریاپالیسی کشمیرمیں نہیں عملائی جاسکتی ہے اورکشمیرمسئلے کے حل یامکالمے میں کسی تیسرے فریق کاکوئی رول بنتاہے ۔انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہاکہ جموں وکشمیرکے معاملے میں کسی تیسرے فریق کاکوئی رول نہیں ہے اورنہ بھارت سرکارکسی تیسرے فریق کے رول کوتسلیم کرے گی۔انہوں نے کہاکہ افغانستان میں طالبان کیساتھ مذاکرات کاایک الگ اصول اورضرورت ہے اوریہ پیمانہ یاطریقہ کارکشمیرمیں عملایانہیں جاسکتاہے۔آرمی چیف نے’’ ریاست کے سابق وزرائے اعلیٰ محبوبہ مفتی اورعمرعبداللہ کے اس سوال کہ اگرطالبان کیساتھ مذاکرات کی وکالت کی جاتی ہے توکشمیریوں کیخلاف آپریشن آل آوٹ کیوں ہے اورکیوں یہاں بھی لوگوں کیساتھ بات چیت نہیں کی جاتی ہے‘‘،کاجواب دیتے ہوئے کہاکہ جموں وکشمیرکے معاملے میں کسی بھی تیسرے فریق کاکوئی رول نہیں بنتاہے اوریہ کہ کشمیرمیں بات چیت یامذاکرات ہماری شرائط پرہونگے ۔انہوں نے کہاکہ مذاکرات اورتشددایک ساتھ نہیں چل سکتے ۔ایک سوال کے جواب میںآرمی چیف نے کہاکہ جموں وکشمیرمیں سیکورٹی صورتحال بہترہورہی ہے تاہم بقول موصوف ابھی اس محاذپرمزیدکام کرنے کی ضرورت ہے ۔انہوں نے کہاکہ فوج جموں وکشمیرمیں بحالی امن کے سہولیت کارکارول نبھارہی ہے۔انہوں نے کہاکہ فوج ملک کی شمالی اورمغربی سرحدوں کی حفاظت احسن طریقے سے سرانجام دے رہی ہے اوراسبارے میں شکوک وشبہات کی کوئی گنجائش نہیں ۔فوج کے سربراہ کاکہناتھاکہ پاکستان اورچین سے لگنے والی سرحدوں پرچوکسی برتناایک چیلنج ہے لیکن ہماری فوج یہ چیلنج قبول کرتے ہوئے اپنارول اداکررہی ہے۔انہوں نے کہاکہ اسبارے میں کسی کوفکرمندہونے کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ ہماری فوج ایک باصلاحیت اورپیشہ وربھی ہے۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں