سسٹم کا حصہ بن کر تبدیلی لانا چاہتا ہوں: شاہ فیصل

سرینگر//﴿آفتاب ویب ڈیسک ﴾  سرکاری نوکری کو حال ہی میں خیر باد کہنے والے آئی اے ایس ٹاپر شاہ فیصل نے کہا کہ وہ کسی بھی سیاسی پارٹی میں شمولیت کرنے کے بارے میں حتمی فیصلہ لینے سے پہلے زمینی سطح پر تمام متعلقین خاص طور پر نوجوانوں کے ساتھ گفت وشنید کریں گے۔ مستعفی ہونے کے بعد جمعہ کو اپنی پہلی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا 'آنے والے اسمبلی وپارلیمانی انتخابات لڑنے میں مجھے خوشی ہوگی تاہم میں پہلے تمام متعلقین خاص کر نوجوانوں کے ساتھ صلح مشورہ کروں گا'۔ حریت کانفرنس میں شمولیت کے حوالے سے شاہ فیصل نے کہا کہ میں سسٹم کا آدمی ہوں اور سسٹم کا حصہ بن کر ہی میں تبدیلی لاسکتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ حریت میں مجھے ایسا موقع نہیں ملے گا کیونکہ وہ انتخابی سیاست میں یقین نہیں رکھتے ہیں۔ شمالی کشمیر کے ضلع کپواڑہ کی وادی لولاب سے تعلق رکھنے والے 35 سالہ شاہ فیصل نے کہا کہ میں نے مرکزی حکومت کو جموں کشمیر کے عوام کیلئے ان کی ذمہ داریوں کو یاد دلانے کے تئیں احتجاجاً استعفیٰ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 'میں مرکزکی طرف سے کشمیر کے تئیں معتبر سیاسی پہل نہ کرنے پر برسر احتجاج ہوں'۔ انہوں نے کہا کہ یہ بہت ضروری ہے کہ کشمیریوں کے حقوق زندگی کی قدر کی جائے۔ شاہ فیصل نے کہا کہ کشمیریوں کو انصاف نہ دینے کے نتیجے میں حالیہ برسوں کے دوران تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا اور بے تحاشا جانی نقصان ہوا۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ برسوں کے دوران ہم یہ یکھ رہے ہیں کہ ریاست کی خصوصی شناخت کو مسخ کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی مفادات کیلئے ریاست کی خصوصی دفعات جیسے دفعہ 370 پر لگاتار حملے کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے ملک میں ہندوتوا کے مبینہ فروغ پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں سی بی آئی جیسے آزاد اداروں کو بھی تباہ کیا جارہا ہے۔ انہوں نے ریاست کے مختلف خطوں کو ایک دوسرے کے خلاف لڑوانے والوں کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ یہاں سیاسی منظر نامے کو بدل دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ کی کسی بھی پیشکش کو خارج ازامکان قرار دیا۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں