سوائین فلو سے بچائو کی تدبیریں اور محکمہ صحت کی غفلت شعاری

ایک مقامی خبر رساں ایجنسی اے پی آئی نے انکشاف کیا ہے کہ اب تک سات افراد سوائین فلو سے لقمہ اجل بن گئے ہیں جبکہ دو درجن سے زیادہ افراد اس میں مبتلا ہیں جن کا صدر ہسپتال اور صورہ میڈیکل انسٹی چیوٹ میں علاج چل رہا ہے۔ لیکن یہ بات باعث تشویش ہے کہ ابھی تک کسی بھی سرکاری ہسپتال میں اس بیماری سے بچنے کیلئے مخصوص ویکسین موجود نہیں ہے۔ اسلئے لوگ پرائیویٹ کلنکوں پر بھاری رقومات کے عوض یہ ویکسین خریدتے ہیں۔ اس سے زیادہ محکمہ صحت کی نااہلی اور کیا ہوسکتی ہے کہ وادی میں سوائین فلو جیسی بیماری پھیل گئی ہے لیکن اس سے بچائو کیلئے تدابیر نہیں کی جارہی ہیں۔ اگرچہ صدر ہسپتال میں اس مرض میں مبتلا بیماروں کیلئے مخصوص وارڈ قایم کرنے کا اعلان کیاگیا ہے لیکن اس ریاست کے سب سے بڑے ہسپتال میں اس بیماری سے بچنے کیلئے ویکسین کی عدم موجودگی یقینی طور پرعام لوگوں کیلئے تشویش کا باعث بنتی جارہی ہے۔ صورہ میڈیکل انسٹی چیوٹ میں 25مریضوں کے ٹیسٹ کئے گئے جن میں سے 13کے ٹیسٹ مثبت پاے گئے تاہم ڈاکٹروں نے ان کی حالت خطرے سے باہر قرار دی ہے۔ اگر ڈاکٹر اس بات سے با خبر ہیں کہ سردیوں کے ایام میں سوائین فلو کے پھیلنے کا خطرہ لاحق رہتا ہے تو پھر کیاوجہ ہے کہ اس کے بچائو کیلئے کوئی بھی کو شش نہیں کی جارہی ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ ابھی بھی کئی ایسے مریض ہیں جن کا ہسپتالوں میں علاج ہورہا ہے لیکن ویکسین کی عدم دستیابی کے بنا پر تمام لوگ خوفزدہ ہیں۔ یہ سب کچھ محکمہ صحت کی کارستانی قرار دی جارہی ہے۔ ادھر ڈاکٹرس ایسوسی ایشن نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ احتیاط برتیں اور سردی سے بچنے کی کوشش کریں۔ ایسوسی ایشن کے سربراہ ڈاکٹر نثار نے کہا کہ 38ملکوںمیں کئے گئے سروے کے مطابق قبل از وقت علاج اور اینٹی وائیرل ادویات لینے سے اموات کی شرح میں ساٹھ فی صد کمی ہوگئی ہے۔ انہوں نے ڈاکٹروں سے اپیل کی ہے کہ وہ ایسے مریضو ں کو خون کے ٹیسٹ کی رپورٹ کا انتظار کئے بغیر ائینٹی وائیرل ادویات تجویز کریں۔ کیونکہ کسی بھی قسم کی تساہل پسندی یاتاخیر جان لیوا ثابت ہوسکتی ہے۔ ڈاکٹر نثار نے کہا کہ تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ اگر مریض کو ابتدائی 48گھنٹے تک اینٹی وائیرل دوائی دی گئی تو اس کے مثبت نتایج بر آمد ہوسکتے ہیں۔ تاہم دیر سے دی گئی دوا بھی اپنا کام کرسکتی ہے لیکن بہتر ہے کہ بیماری کا علاج کرنے میں تاخیر نہ کی جائے۔ ڈاکٹر موصوف نے کہا کہ جس کسی بھی شخص کو اگر ایسی بیماری لاحق ہوجائے تو اس کواینٹی وائیرل دوا فوری طور دی جانی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ Oseltamivirاہم اور زود اثر دوائی ہے جو ہر کسی سٹور سے آسانی سے دستیاب ہے۔ اور یہ دوائی حاملہ خواتین اور بچوں کو بھی دی جاسکتی ہے۔ اسلئے لوگوں کو اس بیماری سے محفوظ رکھنے کیلئے ان کو جانکاری دی جائے اور ویکسین بھی ہسپتالوں میں دستیاب رکھے جائیں ۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں