فوڈ اینڈ سپلائیز محکمے کے فٹ بال کھلاڑیوں کے مستقبل سے کھلواڑ نہ کیا جائے

سرینگر/ محمد مقبول میر کی مطابق فوڈ اینڈ سپلائیز محکمے کے17 تعلیم یافتہ فٹ بال کھلاڑی اپنے سپورٹس کیریر کو لیکر کافی فکر مند ہیں جبکہ انہوں نے8سے 12 برسوں کے طویل عرصے سے فٹ بال کی خدمت کی ہے اور اُن کا ورک اینڈ کنڈکٹ تسلی بخش رہا ہے یاد رہے فوڈ اینڈ سپلائیز محکمے نے ماضی میں انٹرنیشنل کھلاڑیوں کو جنم دیا ہے۔ پچھلے50برسوں کے دوران محکمہ میں تعینات ہونے والے ہر ڈائریکٹر نے فٹ بال کھیل کی سر گرمیوں کو چار چاند لگا یا۔ اتنا ہی نہیں بلکہ سپورٹس SROاور کھیلو انڈیا کھیلو قانون کے تحت ہمیشہ کھلاڑیوں کے حقوق کو بھی تحفظ بخشا ۔ حکومت کے جاری کر دہ حکم نامے کے تحت ہرمحکمے نے اپنی فٹ بال ٹیم کی تشکیل ترجیحی بنیاد پر دی ہے۔ فوڈ اینڈ سپلائیز کی موجود فٹ بال ٹیم کے17تعلیم یافتہ فٹ بال کھلاری جو پچھلے8سے12سالوں سے اس محکمے کی طرف سے فٹ بال کے نامور ٹورنامنٹوں میں نمائیند گی کرتے چلے آئے ہیں ۔لیکن آج بد قسمتی سے اُن کے حق میں آج تک مستقلی کیلئے کوئی کام نہیں ہوا ایسا لگ رہا ہے اُن کی زند گی کا سپورٹس کیریر ہمیشہ تاریک نظر آرہا ہے۔ ایسا نہ ہو کہ اُن کی زند گی تلخ بن جائے ۔ حیرانگی کی بات یہ ہے کہ بیرون ریاستوں میں فٹ بال کھلاڑیوں کو ترجیحی بنیاد پر مستقل کیا جاتا ہے جبکہ یہاں صرف اُلٹی گنگابہتی ہے۔ فوڈ اینڈ سپلائیز محکمے کے 17کھلاریوں کوRegulariseکرنا فٹ بال کھیل کے روشن مستقبل کی ضمانت ثابت ہو گی۔ انصاف کا تقاضہ یہ ہے کہ موجود ہ ڈائریکٹر صاحب کو سبھی17فٹ بال کھلاڑیوں کی دیرینہ فائیل اپنی سفارشات کے ساتھ گورنمنٹ کو روانہ کریں تاکہ وقت پر اُن کے حق میں مستقلی کے آرڈر س نکلنے میں دیری نہ لگے تاکہ 12سال گزرنے کے بعد بھی اُن کے ساتھ کسی قسم کا پھرسے کوئی کھلواڑ نہ ہو۔ بحیثیت سابقہ ڈائریکٹر فزیکل ایجوکیشن ، سپورٹس رائیٹر و فٹ بال کوچ گورنمنٹ امر سنگھ کالج میں ہزاروں شایقین اور تعلیم یافتہ فٹ بال کھلاڑیوں کی طرف سے موجود ہ فوڈ کمشنر اور ڈائریکٹر صاحب سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ اپنے شعبے کے تمام فٹ بال کھلاڑیوں کے حق میں مستقلی کے آرڈرس نکلوانے میں اپنی ذاتی کوششوںکا مظاہرہ کریں تاکہ مستحق کھلاڑیوں کے ساتھ پورا انصاف کیا جائے اور اُن کی زند گی اور سپورٹس کیریر تاریک ہونے سے بچ سکے۔

مزید دیکهے

متعلقہ خبریں